واقعہ اصل حقائق کے ساتھ بیان کر دیا گیا

لاہور (ویب ڈیسک) مینار پاکستان لاہور، پاکستان کی ایک قومی یادگار ہے جسے لاہور میں عین اسی جگہ تعمیر کیا گیا ہے جہاں 23 مارچ 1940ء کو قائد اعظم محمد علی جناح کی صدارت میں منعقدہ آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں تاریخی قرارداد پاکستان منظور ہوئی۔ اسے یادگار پاکستان بھی کہا جاتا ہے۔

نامور کالم نگار ریاض احمد چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ اس جگہ کو اس وقت منٹو پارک کہتے تھے جو سلطنت برطانیہ کا حصہ تھی۔ آج کل اس پارک کو اقبال پارک کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے۔تعمیر کے بعد فیصلہ ہوا کہ اس کا افتتاح صدر ایوب خان کریں گے۔ تاہم سیاسی چپقلش کی وجہ سے افتتاح کی نوبت نہ آ سکی اور مینار کو بغیر افتتاح کے23 مارچ 1969ء کے روز کھول دیا گیا۔ جناب انجم کاظمی نے اپنے والد سید اعجاز حسین کاظمی مرحوم جو مینار پاکستان کی ڈیزائنگ فرم میں ملازم تھے، کی زبانی سنے ہوئے واقعات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ’’مینار پاکستان کا ڈیزائن روسی نژاد آرکیٹیکٹ این مرات خان کی فرم نے کیا تھا۔ میرے والدآرکیٹیکٹ سید اعجاز حسین کاظمی مرحوم نے نیشنل کالج آف دی آرٹس سے آرکیٹیکچر کرنے کے بعد پہلی ملازمت مرحوم این مرات خان کے پاس کی کچھ عرصہ بعد مینار پاکستان کے ڈیزائن کا کام شروع ہوا۔ سید اعجاز حسین کاظمی ڈیزائن سیکشن کے ہیڈ تھے جو براہ راست این مرات خان کی زیرسرپرستی کام کرتے تھے۔ مینار پاکستان کی تکمیل کے وقت مختار مسعود مرحوم کمشنر لاہور تھے۔ انہوں نے اپنی کتاب آواز دوست میں مینار پاکستان کی تعمیر کا سہرا اپنے سر لینے کی کوشش کی۔ اس سلسلے میں ہمارے دوست صحافی و کالم نگار نے بھی اپنے کالم میںمختار مسعود کی شان بڑھانے کی حد ہی کردی۔ انہوں نے لکھا کہ لاہور میں مینار پاکستان مختار مسعود نے بنایا جس کو پڑھ کر انجم کاظمی چونک گئے۔انہوں نے بغیر تحقیق کے یہ سب کچھ لکھ دیا تھا۔

بہرحال مختار مسعود مرحوم کے بیان کے بعد سید اعجاز حسین کاظمی مرحوم نے شدید غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے حقائق کو سامنے لانے کا عزم کیا کیونکہ مرحوم مینار پاکستان کے بننے کے چشم دید گواہ تھے۔80ء کی دہائی میں کراچی سے آرکیٹیکٹس کا ایک میگزین architime شائع ہوا کرتا تھا ۔ اس میں آرکیٹیکٹ سید اعجاز حسین کاظمی مرحوم نے مختار مسعود کو ایک ایک بات کا جواب دیا تھا۔ والد مرحوم کے جواب پر مختار مسعود نے عقلمندی کا مظاہرہ کیا اور چپ سادھ لی تھی۔ سید اعجاز حسین کاظمی نے لکھا تھا کہ ایک دن باس مرات خان انتہائی غصہ کے عالم میں دفتر میں داخل ہوئے اور سیدھا ان کے ٹیبل پر آئے اور بتایا کہ کمشنر لاہور مختار مسعود سے آج جھگڑا ہوگیا ہے کیونکہ کمشنر نے مینار پاکستان جو کہ اس وقت تکمیل کے آخری مراحل میں تھا کا ڈیزائن بدل دیا ہے۔ اب کمشنر خود آرکیٹیکٹ بن رہا ہے اس کا یہ کام ہی نہیں ہے۔کمشنر لاہور کا کہنا تھا کہ مینار کے آخر میں گنبد بنایا جائے۔ اصل ڈیزائن میں گنبد نہیں تھا جس پر مرات خان نے اپنا ڈیزائن تبدیل کرنے سے انکار کردیا تھا۔یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ آرکیٹیک این مرات خان نے مینار پاکستان کے ڈیزائن کی فیس نہیں لی تھی اور جب ان کی کمپنی کے ساتھ مینارپاکستان ڈیزائن کرنے کا معاہدہ ہوا تو این مرات خان کی فیس کے خانہ میں تاریخی الفاظ لکھے تھےHumble for the Donation Nation. مختار مسعود اپنی بات منوا کررہے اس طرح مینار پاکستان اصل ڈیزائن سے ہٹ کر مکمل ہوا۔

مینار پاکستان کی تکمیل کے بعد کہا گیا کہ اس کا افتتاح صدر مملکت جنرل ایوب خان کریں گے۔ ، جنرل ایوب خان نے مینار پاکستان بنانے والوں کوتمغہ حسن کارکردگی دینے بھی اعلان کیا۔کمشنر لاہور مختار مسعود نے تمغہ حسن کارکردگی کیلئے فہرست تیار کی تو اس میں آرکیٹیکٹ این مرات خان کا نام بھی شامل تھا مگر سرفہرست نام خود کمشنر لاہور مختار مسعود نے اپنا لکھا تھا جس پر این مرات خان نے شدید احتجاج کیا کہ چھ، سات سال سے مینار پاکستان تعمیر ہو رہا ہے اس دوران پانچ کمشنر تبدیل ہوئے ہیں سب نے اس منصوبے کے لئے بہت کام کیا ہے پھر ان کے نام بھی فہرست میں شامل کئے جائیں مگر مختار مسعود نہ مانے۔ این مرات خان نے اپنا احتجاج جاری رکھا اور کہا کہ وہ خود صدر جنرل ایوب خان سے بات کریں گے جس پر مختار مسعود نے ایسا کام کیا جس سے تاریخ ہمیشہ شرمندہ رہے گی۔انہی دنوں میں محترمہ فاطمہ جناح اور جنرل ایوب خان کے درمیان سیاسی کشیدگی بہت زیادہ بڑھ چکی تھی۔ مختار مسعود نے خراب سیاسی حالات کا فائدہ اٹھایا اور یہ کہہ کر مینار پاکستان کو افتتاح کئے بغیر ہی عوام کے کھول دیا کہ اس وقت ملکی حالات سازگار نہیں ہیں اس لئے یادگار کو عوام کیلئے فوری طور پر کھولا جارہا ہے۔ جب حالات ٹھیک ہوجائیں گے تو صدر جنرل ایوب خان مینار پاکستان کا افتتاح کردیں گے۔ بدقسمتی سے آج تک مینار پاکستان کا افتتاح نہیں ہوا۔ این مرات خان کے انتقال کے بعد آرکیٹیکٹ سید اعجاز حسین کاظمی نے اخبارات کے ذریعے حکمرانوں سے بارہا مطالبہ کیا تھا کہ اس یادگار کا افتتاح کیا جائے۔ بعد میں سید اعجاز حسین کا ظمی کا انتقال ہوگیا۔یہ حقائق اس لئے منظر عام پرلائے گئے کہ کوئی یہ دعوی نہ کرے کہ مینار پاکستان صرف مختار مسعود نے بنوایا تھایہ حقیقت نہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.