موجد نے اپنی زندگی کے آخری دنوں میں کیا حیران کن انکشاف کیا تھا ؟

لاہور (ویب ڈیسک) میخائل کلاشن کوف کی خودکار کلاشن کوف کرہ ارض کا مشہور ترین آتشیں ہتھیار ہے۔ اس کو درجنوں ممالک کی فوجیں استعمال کر رہی ہیں۔میخائل کلاشن کوف کو سنہ 1938 میں ریڈ آرمی میں شامل کیا گیا۔ وہ ہتھیاروں کے ڈیزائن میں ماہر تھے اور اسی لیے ان کو روسی ٹینک رجمنٹ میں

ہتھیاروں میں بہتری کی ڈیوٹی سونپی گئی۔سنہ 1947 میں میخائل کلاشن کوف نے اے کے 47 نامی یہ ہتھیار تیار کیا۔ جسے سوویت اور روس سمیت دنیا بھر کی کئی فوجوں نے استعمال کیا۔کلاشن کوف دنیا بھر میں انقلاب کی علامت بھی بنی اور انگولا سے لے کر ویتنام اور الجیریا سے لے کر افغانستان تک اسے استعمال کیا گیا۔جہاں اس ہتھیار کو فلسطینیوں نے کثرت سے استعمال کیا تو دوسری جانب ال قاعدہ کے سربراہ بھی اس ہتھیار کے ہمراہ دیکھے گئے۔یہ دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا ہتھیار بن گئی اور اندازوں کے مطابق ایٹمی ہتھیار کے مقابلے اس سے ہونے والی اموات کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔میخائل کلاشن کوف نے اپنی زندگی میں بہت ہی کم موقعوں پر اپنی اس ایجاد کے بارے میں افسوس کا اظہار کیا تاہم اپنی موت سے کچھ عرصہ پہلے انھوں نے اعتراف کیا تھا وہ ’اذیت ناک روحانی درد‘ میں ہیں۔اس خط کے الفاظ کچھ یوں تھے: ’میرا روحانی درد ناقابل برداشت ہے۔ میں اپنے آپ سے بار بار یہ سوال کرتا ہوں کہ کیا میرے بنائے اس ہتھیار نے لوگوں کو ان کی زندگیوں سے محروم کیا۔‘’میں جتنا زیادہ زندہ رہوں گا،یہ سوال میرے ذہن میں اتنا ہی پھنستا رہے گا۔ میں سوچتا ہوں کہ خدا نے انسان کو حسد، لالچ اور جارحیت کی شیطانی خواہشات کی اجازت کیوں دی؟‘

Leave a Reply

Your email address will not be published.