وہی چیز کے پی الیکشن میں نہیں تھی اور پی ٹی آئی ہار گئی ۔۔۔۔۔۔

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار میاں غفار احمد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔2018 کے قومی انتخابات میں جو آر ٹی ایس سسٹم چند گھنٹوں کیلئے ناکام ہوا، کہا جاتا ہے کہ اس اچانک ناکامی نے عمران خان کی پاکستان تحریک انصاف کو کامیابی سے ہمکنار کرا دیا۔ لگتا ہے کہ وہ سسٹم کے پی کے کے

بلدیاتی الیکشن میں استعمال نہیں ہوا یا پھر ہونے نہیں دیا گیا جب ہی تو تحریک انصاف اپنے گھر اور اپنے ہی حلقوں سے ہار گئی حالانکہ ان بلدیاتی انتخابات میں پری پول منصوبہ بندی تو مکمل تھی کسی کو الیکشن میں کھڑا نہیں ہونے دیا گیا تو کسی کو بٹھا دیا گیا۔گو ان بلدیاتی انتخابات میں عوام کے پاس آپشن کم ہو گئے مگر اس کے باوجود عوام نے پاکستان تحریک انصاف کو سیکنڈ آپشن کے طور پر بھی قبول نہ کیا۔ پہلے سے کی گئی منظم منصوبہ بندی کی وجہ سے حکومت کو آر ٹی ایس والی آپشن استعمال کرنے کی ضرورت بھی محسوس نہ ہوئی۔ ویسے بھی اپنی مقبولیت کی پیمائش کا بہترین ذریعہ تو بلدیاتی انتخابات ہی ہوا کرتے ہیں لہٰذا اپنی مقبولیت کا تو حکمران پارٹی کو اپنی پالیسیوں کی ’’برکت‘‘ سے خوب اندازہ ہو گیا ہو گا۔ بھارتی ریاست ہریانہ میں ایک کلائنٹ نے وکیل کو مقدمے کی بھاری فیس دی اور اس کے علاوہ اضافی رقم بھی دی۔ وکیل نے شہر کی مشہور دکان سے مٹھائی لانے کو کہا اور مٹھائی کے ہر ڈبے میں ایک ایک لفافہ بھی اسی اضافی رقم میں سے سیل کر کے رکھ دیا۔ کلائنٹ کو ہدایت کی کہ میرے وزٹنگ کارڈ کے ساتھ ان میں سے ایک ڈبہ اور لفافہ ریڈر کے گھر‘ ایک ٹائپسٹ کے گھر اور یہ بڑے والا سرکاری وکیل کے گھر دے آؤ، جبکہ ایک ڈبہ اور ذرا بھاری لفافہ یہ کہہ کرخود رکھ لیا کہ یہ میں نے کسی اور کو دینا ہے۔ دو دن بعد وکیل نے کلائنٹ سے پوچھا کہ وہ تمام تحائف پہنچا دئیے تھے

کلائنٹ نے اثبات میں جواب دیا تو وکیل سے کہا چل اب تو جیت کا جشن منا مگرمجھے عدالت میں گرجتے اور بحث کرتے ضرور دیکھنے آ جانا۔دیکھنا میں کیسے مخالف فریق کو ناک آؤٹ کرتا ہوں۔ پیشی والے دن کلائنٹ شہر کی اس معروف دکان پر صبح صبح مٹھائی کے ٹوکروں کا آرڈر دے کر بحث سننے عدالت پہنچ گیا۔ بحث ہوئی تو دونوں طرف سے ایک ہی جیسی گھن گرج سننے کو ملی۔ فیصلہ انتظار میں رکھ دیا گیا اور انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں، فیصلہ آگیا اور دوسری پارٹی مٹھائی تقسیم کرنے لگی۔ وکیل بھی کاریگر تھا۔ کلائنٹ سے کہنے لگا۔ لگتا ہے دوسری طرف کا لفافہ اور پیکٹ نہ صرف بھاری بلکہ غیر ملکی برینڈ کا ہو گا جبھی تو ہمارا لوکل مال پٹ گیا ، بہرحال یہ کیس اہم ہے اب اسے دو جج یعنی ڈویژنل بنچ سنے گا تم مزید فیس کا انتظام کرو۔ کلائنٹ نے عقل مندی کا مظاہرہ کیا اور دوستوں کو درمیان میں ڈال کر مذاکرات کا راستہ نکال لیا، کچھ لو اور کچھ دو کی پالیسی پر عمل کیا اور عدالت کے فیصلوں پر اٹھنے والے اخراجات میں معمولی اضافہ کرکے دوسری پارٹی کو آفر کرا دی۔ چند ہی ہفتوں میں اس نے تمام متعلقین سمیت گولڈن ٹمپل جا کر گرنتھ صاحب پر حلف سے تمام تر معاملات حل کر لئے اور وکیل موصوف منتظر ہی رہے کہ ان کا کلائنٹ کب ان کی ’’خدمات‘‘ دوبارہ حاصل کرے گا۔ پاکستان میں اب چندہی سیاسی جماعتیں کامیابی کے لئے کسی نہ کسی “وکیل” کی خدمات ڈھونڈنے میں مصروف رہ گئی ہیں

کیونکہ اکثر نے تو متبادل ڈھونڈ لئے ہیں جبکہ مولانا فضل الرحمن نے محض تین سال کے عرصے میں ہی اپنی تمام تر مخالفت کے باوجود اپنے ذاتی‘ دینی اور عالمی تعلقات کا بھرپور استعمال کر کے اپنی گرفت ایک مرتبہ پھر مضبوط کر لی اور پی ٹی آئی کو اس کے اپنے ہی گھر سے تقریباً بے گھرکردیا۔ کے پی کے میں مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کا اس طرح سے مضبوط نیٹ ورک موجود نہیں جس طرح دینی جماعتوں کے پاس ہے اور تحریک لبیک کے حامی عناصر بھی از خود ہی مولانا فضل الرحمن کے حلقہ تصرف میں آ گئے۔ کے پی کے میں حکومتی حلقوں کی طرف سے آرمی پبلک سکول کے سانحے میں ملوث افراد کے حوالے سے نرم گوشے کی افواہوں یا خبروں پر بھی وہاں سخت ردعمل پایا جا رہاہے۔یاد رہے کہ سوات ایکشن بھی اس وقت کے صدر آصف علی زرداری نے سخت دباؤ ڈال کر شروع کرایا تھا اور ہر ممکن امداد کی یقین دہانی بھی کرائی تھی۔ انہی دنوں درہ آدم خیل میں مشتعل افراد کی طرف سے آفریدی قبائل کے ہیرو عجب خان کے مجسمے کو توڑیجانے کو نظر انداز کیا جانا قطعی مناسب نہ ہو گا۔ یہ مجسمہ چند سال قبل ہی عباس چوک درہ آدم خیل میں نصب کیا گیا تھا کیونکہ عجب خان آفریدی قبائل کے ہیرو تسلیم کیے جاتے ہیں ادھر اس درہ آدم خیل میں شبلی فراز کے قافلے پر اٹیک اور گاڑی کی توڑ پھوڑ بھی حالات کے مکمل تبدیل ہونے کی طرف اشارہ ہے۔

ابھی تو بلوچستان کے حالات نارمل نہیں ہو پا رہے۔ بلوچ خواتین کا سڑکوں پر آنا اور احتجاج کرنا کوئی معمولی بات نہیں۔بلوچوں کیلئے اپنی خواتین کو باہر لانا حالات سے آگاہی رکھنے والے دانشوروں کے مطابق انتہائی آخری پْرامن اقدام ہے۔پاکستان پر ہمارے اعمال کی ’’مہربانی‘‘ ملاحظہ ہو کہ 1970 ء میں مشرقی پاکستان کے مطالبات کو ہم مغربی پاکستان والوں نے فیڈریشن کے خلاف سازش قرار دیا اور شیخ مجیب الرحمن کو غداراعظم کا درجہ دے دیا گیا۔آج سوشل میڈیا نے یہ سب کچھ ایسے وقت میں آ شکار کر دیا ہے جب کلمہ طیبہ کے نام پر قائم ہونے والے دنیا کے سب سے بڑے اسلامی ملک کو دو لخت کرنے والے تقریباً سارے کردار ہی اپنے اپنے اعمال ناموں سمیت کائناتی عدالت میں پیش ہوچکے ہیں تاہم جو موجود ہیں اور انہیں بھی بالآخر اس عدالت میں پیش ہونا ہے تو یہ اپنے معاملات درست کیوں نہیں کرتے اور ذاتی مفادات کے لئے ملکی مفادات کی قربانی کیوں دے رہے ہیں؟ کاش یہ سب اپنے دن کا آغاز قرآن مجید کی مختصر سورۃ التکاثر کو بمع ترجمہ اور مفہوم پڑھنا شروع کر دیں جس پر پانچ منٹ بھی صرف نہیں ہوتے تو انہیں بہت کچھ یاد آ جائے جسے وہ بھولے ہوئے ہیں۔ کاش ہم اراضی کی بجائے دلوں کو فتح کرنے لگ جائیں کاش ہمارے لئے انسان اور انسانیت اہم ہو جائے۔ کاش ایسا ہو جائے۔ کاش

Leave a Reply

Your email address will not be published.