گورنر ہائوس پشاور کے اخراجات میں اضافے اور گورنر کیلئے مالشی کی بھرتیوں پر اپوزیشن کا شدید احتجاج ،شیم شیم کے نعرے

اسلام آباد(آن لائن) سینیٹ اجلاس کے دوران گورنر ہائوس پشاور کے اخراجات میں اضافے اور گورنر کیلئے مالشی کی بھرتیوں پر اپوزیشن کی جانب سے شیم شیم کے نعرے لگائے گئے جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان نے توجہ دلائو نوٹس پر بات کرتے ہوئے کہاکہ اس وقت پاکستان کا ہر ادارہ اپنی ٹریک سے ہٹ چکا ہے اسی طرح پاکستان میں پاکستان کے ریلوے ٹریک جو 12000کلو میٹر ہے اور ملک کے مختلف علاقوں سے گزرتا ہے انہوں نے کہاکہ اس ٹریک کی نگرانی کیلئے تعینات ملازمین کو فارغ کردیا گیا جن کو ماہانہ 16ہزار روپے تنخواہیں دی جاتی

تھی انہوں نے کہاکہ ایک کروڑ نوکریان دینے کا وعدہ کرنے والوں نے لوگوں کو بیروزگار کردیا ہے انہوں نے کہاکہ یہ گریڈ ون کے کنٹریکٹ ملازمین تھے اور ان کو ختم کرنے سے ریلوے کا ٹریک غیر محفوظ ہوگیا ہے انہوں نے کہاکہ پاکستان ریلوے سے غریب ملازمین کو تو فارغ کیا جارہا ہے مگر گریڈ 21کے ریٹائرڈ ملازمین کو دوبارہ بھرتی کیا جارہا ہے انہوں نے کہاکہ ایک جانب حکمران مدینے کی ریاست کی باتیں کرتے ہیں مگر دوسری جانب غربت اور بے روزگاری بڑھ رہی ہے انہوں نے کہاک گورنر ہاوس پشا?ر کے خرچے میں ایک سال میں 5کروڑ روپے کا اضافہ ہوا ہے اور گورنر خیبر پختونخوا کیلئے تین مساج کرنے والے ملازم بھی بھرتی کئے گئے ہیں انہوں نے کہاکہ گلاسکو میں ہونے والی ماحولیاتی کانفرنس میں 8کی بجائے 16افراد پر مشتمل وفد گیا تھا اس کی بھی تحقیقات کی جائیں انہوں نے کہاکہ ریلوے ٹریک کی نگرانی کرنے والے عملے کو مستقل کیا جائے توجہ دلا? نوٹس کا جواب دیتے ہوئے وزیر مملکت علی محمد خان نے کہاکہ پاکستان ریلوے ہم سب کا اثاثہ ہے مگر بدقسمتی سے سالوں سے یہ محکمہ خسارے کا شکار ہے انہوں نے کہاکہ ریلوے کے تمام بند اور فائدہ مند روٹس کو دوبارہ بحال کیا جائے گاانہوں نے کہاکہ ہماری حکومت ریلویز کو منافع بخش بنانے کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں انہوں نے کہاکہ ریلوے پیٹرولرز کی جگہ پر گینگ مین کو ٹریک کی نگرانی کا کام بھی دیا جارہا ہے کیونکہ وہ تجربہ کار ہوتے ہیں حکومت نے ملک بھر میں 40ایسے مقامات جن پر کوئی نگرانی نہیں ہوتی تھی اس کو ختم کردیا ہے اس وقت 80فیصد کے قریب ٹرینز بروقت اپنی منزل مقصود تک پہنچ رہی ہیں اسی طرح ریلوے حادثات میں بھی کمی ہوئی ہے انہوں نے کہاکہ ریلوے ٹریک کی سیکورٹی کے حوالے سے بھی اقدامات کئے گئے ہیں اور اس حوالے سے نئی سروس شروع کی جارہی ہے انہوں نے کہاکہ کچھ ٹرینز کو آوٹ سورس بھی کیا گیا ہے اسی طرح کئی ریلوے ٹرینز کے کرایوں میں بھی کمی کی گئی ہے انہوں نے کہاکہ اس وقت پاکستان ریلوے نے 48ارب روپے ٹارگٹ کا ہدف عبور کر لیا ہے اور213ایکٹر سے زائد زمین واگزار کرائی ہے جس کی قیمت اربوں روپے بنتی ہے انہوں نے کہاکہ اس وقت ٹرین پر طلباء� سمیت معمر شہریوں ،بیرون ممالک سے تعلق رکھنے والے ،معذوروں اور صحافیوں کو ریل کرایوں میں رعایتیں دی جارہی ہیں انہوں نے کہاکہ ریل کو بیچ کر کھانے کا دور ختم ہوگیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.