نواز شریف کی واپسی کی اصل کہانی کیا ہے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار تنویر قیصر شاہداپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ خواجہ محمد رفیق کی برسی کے اجتماع میں جونہی نواز شریف نے اپنے خطاب میں یہ الفاظ ادا کیے :’’ انشاء اللہ جَلد ہی آپ لوگوں سے پاکستان میں ملاقات ہوگی ‘‘ تو یہ الفاظ نون لیگی صفوں میں ایک

نئے ولولے کا باعث بن گئے ۔ ملک بھر کے نون لیگیوں نے ان الفاظ سے ایک نئی توانائی اور طاقت کشیدکی ہے ۔دوسری جانب نواز شریف کی واپسی کا عندیہ لیے یہ الفاظ حکومتی حلقوں پر بجلی کے کڑکے کی طرح برسے ہیں ۔ ہر اقتداری فرد سُن گن لیتا پھر رہا ہے کہ نواز شریف واقعی واپسی کا رختِ سفر باندھ رہے ہیں؟ کیا اُن کی سزاکالعدم ہونے جا رہی ہے ؟ کیا نواز شریف چوتھی بار وزیر اعظم بن جائیں گے ؟ یہ سرگوشیاں بلند سے بلند تر ہو کر سنائی دے رہی ہیں۔ نواز شریف کی مبینہ واپسی کی خبر سے ایوانِ وزیر اعظم اور جناب عمران خان کے لہجے میں بھی ہلچل دیکھی گئی ہے ۔ کئی حکومتی ترجمان بھی بیک زبان پھر بولے ہیں کہ ’’نون لیگ نواز شریف کی واپسی کے خواب دیکھنا بند کر دے۔‘‘اگر یہ مبینہ الفاظ حقیقت پر مبنی ہیں تو ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ نواز شریف کی پاکستان واپسی کن لوگوں، گروہوں اور پارٹیوں کے لیے پریشانی کا سبب بن سکتی ہے؟ دیکھا جائے تو نواز شریف کا لندن میں طُول پکڑتا قیام اُن کی سیاست کے لیے سخت نقصان دِہ ثابت ہو رہا ہے۔ دوسری طرف ملکی حالات ایسی نہج پر جا چکے ہیں کہ نواز شریف کی پاکستان واپسی نون لیگ اور خود نواز شریف کی ذات کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگی۔ اگرچہ اس فیصلے کے عقب میں بڑے خطرات بھی پوشیدہ ہیں۔ ان خطرات کا سامنا کرنے ہی میں سیاسی مردانگی ہے۔نواز شریف واپس آکر بہت سے سیاسی دھونے دھو سکتے ہیں۔ اُن کی واپسی کی خبریں نون لیگی کارکنوں کے لیے ایک بڑی نوید سے کم نہیں ہیں۔ پہلے تونواز شریف اپنی واپسی کے بارے میں لب کشائی سے ہمیشہ گریزاں ہی رہتے تھے۔ اب وہ اس ضمن میں صاف اسلوب میں بولے ہیں تو اس میں ابہام نہیں ہونا چاہیے۔ اگرچہ اس بارے کوئی حتمی تاریخ تو نہیں دی گئی ہے لیکن نون لیگ کے سابق اسپیکر قومی اسمبلی کے ان الفاظ میں کوئی تو معنویت ہے: ’’ مَیں جَلد دوبارہ لندن جا رہا ہُوں۔اِس بار واپسی پر نواز شریف ساتھ ہوں گے۔‘‘ نون لیگ کے مخالفوں کی جانب سے یہ بھی تو کہا جارہا ہے کہ چونکہ برطانوی حکومت نواز شریف کے ویزے کی مدت بڑھانے سے انکاری ہے اور نواز شریف کا پاسپورٹ بھی ختم ہو چکا ہے، اس لیے مجبوراً نواز شریف وطن واپسی کا پروگرام بنا رہے ہیں ۔ حقیقت جو بھی ہے ، 2022کے نئے سال میں نون لیگیوں کا جوش قابلِ دید ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.