ان کا رد عمل کیا تھا ؟ ایک سابق بیوروکریٹ کے انکشافات

لاہور (ویب ڈیسک) ایک مرتبہ برطانیہ کے نامور مفکر اور لکھاری جارج برنارڈشا نے وزیر اعظم ونسٹن چرچل کو اپنے ڈرامے کے دو ٹکٹ بھیجے۔ ساتھ ہی لکھا:Come to see my play with a friend, if you have a friend. I am busy for the opening, but I will come the second night, if there is a second night.

نامور صحافی اور سابق بیوروکریٹ شوکت علی شاہ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔اس سے ایک بات تو ثابت ہوتی ہے۔ بڑے آدمیوں کے دوست نہیں ہوتے۔ انکی سب سے بڑی رفیق مصلحت وقت ہوتی ہے۔ اگر اس زاویے سے دیکھا جائے تو میاں صاحب کو دوش نہیں دیا جا سکتا۔ رضا صاحب کا تقرر کوئی انوکھی بات نہیں۔ اس سے پہلے ان سے کہیں بڑے آدمی درآمد کئے گئے ہیں۔ معین قریشی اور شوکت عزیز کی تقرری تو ابھی کل کا واقعہ ہے۔ معین قریشی ملک عملاً چھوڑ چکے تھے۔ امریکی شہریت اختیار کررکھی تھی۔ وہ اس وقت سنگاپورکے ہسپتال میں سرطان کا علاج کروا رہے تھے ۔ جب انہیں یہ مژدہِ جانفزا سنایا گیا کہ انہیں پاکستان کا وزیر اعظم بنایا جا رہا ہے تو کیسی بیماری! کیسا علاج! وہ بستر علالت سے یوں چھلانگ لگا کراٹھے جیسے شیر ببر کچھار سے نکلتا ہے۔ اقتدار میں بڑی تاثیر ہوتی ہے۔ تمام عوارض بھاپ بن کر فضا میں تحلیل ہو گئے۔ شوکت عزیز نیویارک میں کسی بینک میں ملازمت کررہے تھے۔ ان داتانے پرویز مشرف کو حکم نما مشورہ دیا کہ پتھرکو آب دیکر گوہر بنا دیا جائے۔ وہ پہلے وزیر خزانہ بنے پھر وزیر اعظم ہو گئے۔ ’’مشن کی تکمیل‘‘ کے بعد جہاں سے آئے تھے وہیں چلے گئے ، پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا ‘ملکی معیشت جس زبوں حالی کا شکار ہے وہ محتاج بیان نہیں۔ ہر وقت دھڑکا لگا رہتا ہے کہ کہیں جھاگ کی طرح بیٹھ نہ جائے۔ کوئی شخص بھی ذمہ داری قبول کرنے کیلئے تیار نہیں۔ موجودہ حکمران سابقہ حاکموں کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔

شریف برادران، پیپلز پارٹی اور مشرف پر اتہام کی انگلی اٹھاتے رہے۔ بالفرض یہ درست ہے تو پھر قوم یہ پوچھنے میں حق بجانب ہے۔ حضور! آپ آئے کس لیے ہیں؟ الیکشن سے پہلے جو وعدے کئے تھے، قوم کو سبز باغ دکھائے تھے۔ اُنکا کیا بنا ہے؟ عمران خان کے ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی ہے کہ قوم نے ہر بدعنوانی اور برائی ختم کرنے کیلئے انہیں ووٹ دیا ہے لہٰذا انکے مینڈیٹ کا تقاضہ ہے کہ مخالف فریق کو رگڑا دیا جائے۔ ہم پہلے بھی عرض کر چکے ہیں کہ اس قوم کا سب سے بڑا مسئلہ بدعنوانی نہیں بلکہ بے روزگاری مہنگائی اور امن عامہ ہے۔ بھٹو مرحوم روٹی‘ کپڑا اور مکان کا وعدہ کرکے اقتدار میں آئے تھے۔ خان صاحب کی جیت کی وجہ بھی وہ عہد ہے جو انہوں نے قوم کے ساتھ کیا تھا۔ ایک کروڑ نوکریاں‘ پچاس لاکھ گھر‘ مساوات‘ عدل‘ ظالم کا گریباں پکڑنا‘ مظلوم کی دادرسی‘ لوٹی ہوئی قومی دولت کو باہر سے اندر لانا‘ ساڑھے تین سال گزر گئے ہیں‘ کیا سب وعدے پورے ہو گئے ہیں یا اس میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے؟ ساڑھے تین سال میں دو سو ارب ڈالر تو کیا‘ ایک ٹکہ بھی واپس نہیں آیا۔ نہ اسکی امید ہے۔ دوسروں کا محاسبہ کرنے کے ساتھ ساتھ یہ وقت خود احتسابی کا بھی ہے۔ جتنی تگ و دو اپوزیشن لیڈروں کو لتاڑنے میں کی ہے اگر اتنی معیشت کو مضبوط کرنے میں صرف کرتے تو صورتحال یقینا مختلف ہوتی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان ذاتی طورپر ایماندار‘ ان تھک اور دبنگ انسان ہیں لیکن پہلوان چاہے کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو‘ جب تک اسے فن کشتی کے دائو پیج نہ آتے ہوں‘اپنے ہی زور سے گر جاتا ہے۔ تاریخ کا صرف پڑھنا کافی نہیں ہوتا۔ اس کو سمجھنے کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.