بلدیاتی اور عام انتخابات میں تبدیلی کا صفایا کرا دینے والی خبر دے دی گئی

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار نسیم شاہد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔پی ٹی آئی کے لئے حالات کچھ اچھے نہیں ہیں، خیبرپختونخوا کے بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کو مئی تک ملتوی کرانے کی درخواست الیکشن کمیشن نے مسترد کر دی اور مارچ میں الیکشن کرانے کا حکم دیا ہے۔

پہلے مرحلے کے نتائج پی ٹی آئی کے لئے ایک ڈراؤنا خواب ہیں،اس لئے اس کی خواہش تھی دوسرے مرحلے کو زیادہ سے زیادہ تاخیر کا شکار رکھا جائے، مگر یہ خواہش پوری نہیں ہوئی،دیکھنا یہ ہے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کو کب تک ٹالا جا سکتا ہے۔اس وقت عوام کی نفرت عیاں ہے اور اس کا سبب اُن کے معاشی حالات ہیں۔اس کا اظہار وہ پنجاب کے مختلف ضمنی انتخابات میں بھی کر چکے ہیں اور خیبرپختونخوا کے عوام نے بھی کیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی طفل تسلیاں اب کام نہیں آ رہیں، کیونکہ زمینی حقائق اتنے منہ زور ہیں کہ ان کی شدت کے سامنے خوشحالی کے جھوٹے دعوے ٹھہر ہی نہیں سکتے۔وزیراعظم نے اپنے ترجمانوں کو حکم دیا ہے وہ منی بجٹ میں موجود اچھی باتوں کو عوام کے سامنے لائیں،اُن کی اسی خواہش پر یقینا ترجمانوں نے سر پکڑ لئے ہوں گے۔عوام کے معاشی بیانیے کے مترادف بجٹ کو وہ عوام کے لئے ریلیف کیسے قرار دیں،مگر یہ بات وزیراعظم کے سامنے کہنے کی کسی کو جرأت نہیں،جرأت ہوتی تو آج تحریک انصاف کو یہ دننہ دیکھنا پڑتے۔اُن کے کاریگر وزراء اور معاشی ٹیم انہیں سب اچھا کی رپورٹ دیتی ہے،جس پر وزیراعظم ایک تقریر کر دیتے ہیں،اب مارچ میں حالات بہتر ہونے کی خوشخبری بھی انہیں کسی معاشی منیجر نے ہی سنائی ہو گی، تاکہ تین ماہ تو آرام سے نکل جائیں، حالانکہ عوام کے لئے موجودہ حالات میں ایک ایک دن گذارنا مشکل ہو چکا ہے۔حالات کی نبض پر ہاتھ رکھنے والے محسوس کر رہے ہیں، مارچ تک حالات خاصے گرم ہو جائیں گے،

خود پیپلزپارٹی بھی اس بات کی حدت کو محسوس کر رہی اور بلاول بھٹو زرداری لاہور سے حکومت کے خلاف مہم جوئی کا آغاز کرنے جا رہے ہیں۔پی ڈی ایم پہلے ہی مارچ میں لانگ مارچ کی تاریخ دے چکی ہے اور اس سے پہلے وہ لہو گرمانے کے لئے مختلف شہروں میں جلسے جلوسوں کا آغاز کرنے والی ہے۔ یہ پاکستان کی ویسے بھی ایک سیاسی تاریخ رہی ہے کہ جب نئے انتخابات میں سال سوا سال کا عرصہ رہ جاتا ہے تو ہر طرف سیاسی گہما گہمی شروع ہو جاتی ہے۔اس بار تو اس سال سوا سال کے عرصے میں دوانتخابات متوقع ہیں، ایک بلدیاتی اور دوسرے عام انتخابات۔ گویا ماحول تو اب ہمیشہ گرم رہے گا،اس میں حکومت بیک فٹ پر اس لئے رہے گی کہ وہ برے حالات میں گرفتار ہے۔ اُس کے ارکانِ اسمبلی اور وزراء عوام کا سامنا نہیں کر پا رہے۔اُن کا عوامی رابطہ تقریباً منقطع ہو گیا ہے،کہنے کو عمران خان نے تحریک انصاف کی ایک نئی انتظامی باڈی بنا دی ہے تاہم اُس کا ابھی تک ایک بھی باضابطہ اجلاس نہیں ہوا۔ اس باڈی کے ذریعے نچلی سطح تک تنظیم سازی کیسے ہو گی یہ ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ پہلے سے انتشار اور بددلی کا شکار جماعت مزید گروپوں میں تقسیم ہو گئی ہے۔ ویسے بھی ہمارے ہاں یہ رجحان رہا ہے،جو پارٹی اقتدار میں وہ اگلے انتخابات میں شکست سے دوچار ہوتی ہے۔ اچھی کارکردگی والی حکومتوں کی بھی یہی تاریخ رہی ہے، موجودہ حکومت تو ہر شعبے میں ناکام ہو چکی ہے، پھر بھی عمران خان پُرامید ہیں کہ اپنے اس بیانیے کی وجہ سے عام کو متاثر کرنے میں کامیاب رہیں گے کہ مَیں کسی چورکو این آر او نہیں دوں گا،حالانکہ اب یہ بیانیہ خاصا پٹ چکا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.