قومی اسمبلی: اہم قانون کا مسودہ ریکارڈ سے غائب، یہ کب اور کیسے ہوا؟ وفاقی وزیر نے بڑا انکشاف کر دیا

لاہور: (ویب ڈیسک) سینئر صحافی ڈاکٹر توصیف احمد خان اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ” لاپتہ افراد کے قانون کا مسودہ سینیٹ کے ریکارڈ سے لاپتہ ہوگیا۔ انسانی حقوق کی وفاقی وزیر ڈاکٹر شیریں مزاری نے گزشتہ ہفتہ انکشاف کیا کہ قومی اسمبلی میں شہریوں کو لاپتہ کرنے پر فوجداری کارروائی کا قانون کا مسودہ سینیٹ کے ریکارڈ میں دستیاب نہیں ہے۔

وزیر داخلہ نے جون 2021میں قانون کا مسودہ ضمنی منظوری کے لیے قومی اسمبلی میں پیش کیا تھا۔ قومی اسمبلی نے اس مسودہ قانون کی منظوری دی تھی۔ یہ مسودہ منظوری کے لیے سینیٹ میں پیش ہوا مگر سینیٹ کی سلیکٹ کمیٹی کی فائل سے یہ مسودہ غائب ہوگیا۔ اس مسودہ قانون کی شق 52-P میں لاپتہ افراد کی وہی تعریف کی گئی ہے جو اعلیٰ عدالتوں نے کی تھی۔ لاپتہ افراد کی تعریف کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اﷲ نے ایک فیصلہ میں واضح کیا کہ لاپتہ افراد سے مراد یہ ہے کہ کسی شہری کو ریاستی اہلکار اغواء کریں، غیر قانونی حراست میں رکھیں۔ جب سے دہشت گردی کی لہر نے ملک میں امن و امان کو متاثر کرنا شروع کیا تو بلوچستان ،سابقہ فاٹا، خیبر پختون خوا، پنجاب اور سندھ سے لوگوں کے لاپتہ ہونے کی خبریں آنے لگیں ۔آمنہ مسعود جنجوعہ کا نام بھی سامنے آیا جن کے شوہر لاپتہ ہوئے تھے۔ آمنہ مسعود جنجوعہ نے 2012 تک شوہرکی تلاش میں دفاتر کے چکر کاٹے، اخبارات میں خبریں شایع ہوئیں، ٹی وی ٹاک شوز میں اس موضوع پر مباحثہ ہوا۔ آمنہ بی بی سے وعدے کیے گئے مگر ان کے شوہر کا پتہ نہیں چل سکا۔ آمنہ نے ڈیفنس آف ہیومن رائٹس DHR قائم کی۔ دیگر افراد جن کے پیارے لاپتہ تھے ا ن لوگوں نے اسلام آباد پریس کلب کے سامنے بھوک ہڑتال کی۔ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کی بحالی کی تحریک میں حصہ لیا۔ افتخار چوہدری نے چیف جسٹس کے عہدہ پر بحالی کے بعد 2011 میں لاپتہ افراد کا کمیشن قائم کیا۔

جسٹس جاوید اقبال کو اس کمیشن کا سربراہ مقرر کیا گیا۔11سال بعد بھی وہ لاپتہ افراد کے کمیشن کے سربراہ ہیں۔ اس وقت جن سابق ججوں کو کمیشن کا رکن مقرر کیا گیا تھا ان میں سے کچھ انتقال کرگئے۔ یہ کمیشن لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے خاطرخواہ اقدامات نہیں کرپایا۔ لاپتہ افراد کا معاملہ صرف ملک تک محدود نہیں رہا بلکہ انسانی حقوق کی نجی تنظیموں نے اس مسئلہ کو اپنے ایجنڈا میں شامل کیا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹوں میں لاپتہ افراد کا تفصیلی ذکر ہونے لگا۔امریکا کے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اور یورپی یونین کی انسانی حقوق کی رپورٹوں میں پاکستان میں انسانی حقوق کی پامالی کے واقعات کا ذکر شامل ہوا۔ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کا فیکٹ فائنڈنگ مشن پاکستان آیا مگر وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے اس کمیشن کے ساتھ سرد مہری کا رویہ اختیارکیا۔ متاثرہ افراد کے خاندانوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے کمیشن کے اراکین کو تفصیلی بریفنگ دی، یوں جنیوا میں ہونے والے کونسل کے سالانہ اجلاسوں میں بھارت کے زیر کنٹرول کشمیر میں لاپتہ افراد کے مسئلہ کے ساتھ یہ مسئلہ بھی منسلک ہوا۔ یورپی یونین کی برسلز میں پارلیمنٹ میں اس مسئلہ پر غور ہونے لگا۔ کچھ اراکین نے پارلیمنٹ میں قرارداد پیش کی کہ پاکستان لاپتہ افراد کا مسئلہ حل نہیں کرسکا۔ مذہبی بنیاد پر نافذ امتناعی قوانین سے غیر مسلم شہریوں کے حقوق پامال ہو رہے ہیں، اس بناء پر پاکستان کو دیا گیا جی ایس پی پلس کا درجہ واپس لیا جائے ، اگر اس قرارداد پر عمل ہوا اور جی ایس پی پلس کا درجہ واپس ہوا تو ملک کی گارمنٹس کی صنعت زوال کا شکار ہوجائے گی۔

لاکھوں لوگوں کا روزگار بند ہوگا۔ ملک مالیاتی خسارہ کا شکار ہوجائے گا۔ یورپی یونین کے انسانی حقوق کے وزراء نے کئی دفعہ اسلام آباد کا دروہ کیا اور حکومت پاکستان پر زور دیا کہ لاپتہ افراد کو فوجداری جرم قرار دے اور صحافیوں کے تحفظ کے لیے جامع قانون سازی کی جائے۔ ڈاکٹر شیریں مزاری ہمیشہ لاپتہ افراد کی بازیابی کی تحریک میں متحرک رہیں۔انھوں نے آمنہ جنجوعہ کے ساتھ مل کر اسلام آباد دھرنوں میں شرکت بھی کی۔ عمران خان ایک زمانہ میں مسلسل یہ مطالبہ کرتے تھے کہ کنسٹریشن کیمپ ختم کیے جائیں، کسی لاپتہ فرد نے کوئی جرم کیا ہے تو اس کے خلاف کھلی عدالت میں مقدمہ چلایاجائے۔ یہ اتفاق ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے برسر اقتدار آتے ہی ڈاکٹر مزاری کو انسانی حقوق کی وزارت دی۔ ڈاکٹر مزاری نے جرنلسٹس پروٹیکشن بل اور لاپتہ افراد کو فوجداری جرم قرار دینے پر قانون کے مسودہ کی تیاری میں جوش و خروش سے حصہ لیا، یوں اسلام آباد نے جرنلسٹس پروٹیکشن بل منظور کیا مگر یہ معاملہ ہنوز التواء کا شکار ہے۔ سپریم کورٹ اسلام آباد اور سندھ ہائی کورٹ کے ججوں نے لاپتہ افراد کے لواحقین کی دادرسی کے لیے تاریخی فیصلے کیے ہیں۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس گلزار احمد نے گزشتہ دنوں سابقہ فاٹا کے عارف گل کو جو 2019 سے نظربند تھے، عدالت میں طلب کیا۔ خیبرپختون خوا کے ایڈووکیٹ جنرل نے اس بارے میں دلچسپی نہیں لی تو معزز چیف جسٹس نے الٹی میٹم دیا کہ عارف گل کو فوری طور پر سپریم کورٹ میں پیش نہ کیا تو وزیر اعظم کو طلب کیا جائے گا۔ عارف گل پر پاک افغان سرحد پر قائم سرحدی چوکی پر حملے کا الزام ہے۔عارف گل نے اس الزام کی تردید کی۔

فاضل جج جسٹس قاضی امین نے اس مقدمہ میں رولنگ دی کہ زیر حراست ملزم ، اس بات کا حقدار ہے کہ اس کے خلاف کھلی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے اور ملزم کو اپنی مرضی سے وکیل کرنے کا حق ہے۔سپریم کورٹ دیگر لاپتہ افراد کے مقدمہ کے ساتھ عارف گل کے مقدمہ کی سماعت کررہا ہے۔ اسی طرح گزشتہ مہینہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اﷲ نے برسوں سے لاپتہ ہونے والے بلاگر نارو کے مسئلہ کے حل کے لیے وزیر اعظم کو ہدایت کی تھی کہ وہ لاپتہ فرد کے والدین سے ملاقات کرکے انھیں مطمئن کریں۔ وزیر اعظم نے نارو کے والدین کو وزیر اعظم ہاؤس تو بلالیا مگر نارو کی بازیابی کا مسئلہ حل نہ ہوسکا۔ برسلز میں مقیم پاکستانی صحافیوں کا کہنا ہے کہ جب بھی جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے سالانہ اجلاس میں پاکستانی مندوبین بھارت کے زیر کنٹرول کشمیر میں لاپتہ افراد کے مسئلہ پر احتجاج کرتے ہیں تو بھارت پاکستان میں لاپتہ افراد کا مسئلہ اٹھاتا ہے۔ ملک کے مختلف صوبوں سے تعلق رکھنے والے منحرفین جنیوا میں جمع ہوکر اس معاملہ پر احتجاج شروع کردیتے ہیں۔ وفاقی وزراء ہر دوسرے تیسرے دن یہ پیشگوئی کرتے ہیں کہ برطانیہ میاں نواز شریف کو نکال دے گا۔ لندن میں مقیم صحافی وجاہت علی خان لکھتے ہیں کہ برطانیہ پاکستان سے قیدیوں کے تبادلہ پر اس وقت تک تیار نہیں ہوگا جب تک حکومت پاکستان لاپتہ افراد کے مسئلہ کے حل کے لیے قانون سازی نہیں کرے گی اور سزائے موت کا قانون منسوخ نہیں کیا جائے گا اور امتیازی قوانین ختم نہیں ہوںگے۔ یوں وزیر اعظم عمران خان اپنے سابق بڑے مخالف میاں نواز شریف کو اڈیالہ جیل میں دیکھنے کے خواہاں ہیں تو اس کے لیے بنیادی مسائل پر قانون سازی لازمی ہوگی۔ آمنہ جنجوعہ نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ انسانی حقوق کے تحفظ بنیادی قانون کا مسودہ کہاں چلا گیا۔ ڈاکٹر شیریں مزاری کو یہ انکشاف کرنے کے ساتھ وزارت سے مستعفی ہونے کا اعلان کرنا چاہیے تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.