ایڈیٹر ان چیف آن لائن نیوز ایجنسی و روزنامہ جناح محسن جمیل بیگ کی اہلیہ نے اپنے بیان میں کہا ہے

اسلام آباد(آن لائن )ایڈیٹر ان چیف آن لائن نیوز ایجنسی و روزنامہ جناح محسن جمیل بیگ کی اہلیہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ میرے شوہر اور ہمارے خاندان کو کوئی جانی ومالی نقصان ہوا تو اس کی ایف آئی آر وزیر اعظم پاکستان عمراان خان سمیت ملوث دیگر سرکاری افسران و عملے کیخلاف کاٹی جائے ۔میری چیف جسٹس آف پاکستان اور غیر جانبدار حلقوں سے اپیل ہے کہ حقائق کو منظر عام پر لانے اور انصاف کی فراہمی کے تقاضے پورے کرنے کیلئے اعلیٰ سطحی عدالتی کمیشن قائم کیا جائے ۔محسن جمیل بیگ کی اہلیہ نے مزید کہا ہے

کہ 16فروری کو چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے ہمارے گھر میں چند نامعلوم افراد زبردستی داخل ہوگئے ملازمین اور بچوں کا شور سن کر ہم سب پریشان ہوگئے جبکہ میرے شوہر محسن جمیل بیگ اس وقت اپنے کمرے میں سو رہے تھے چیخ و پکارسن کر جاگ اٹھے اور کمرے سے باہر آئے۔نامعلوم افراد جوکہ سادہ کپڑوں میں تھے ۔میرے شوہر نے شناخت کا کہاتو وہ اپنی شناخت کرانے میں ناکام رہے انہوں نے میرے خاوند کے ساتھ دست درازی شروع کردی ، جواب میں میرے شوہر نے دفاع کا حق استعمال کیا اسی دوران ہم نے پولیس کو کال کرکے گھر میں داخل ہونے والے لوگوں کی بابت آگاہ کیا ۔مذکورہ نامعلوم افراد نے فرار ہونے کی کوشش کی تو میرے شوہر نے ایک شخص کا ہاتھ پکڑلیا تاکہ پولیس کے حوالے کیا جاسکے ۔اسی اثناء میں پولیس موقع پر پہنچ گئی میرے خاوند نے پولیس افسران سے کہا کہ آپ ان لوگوں سے پوچھیں کہ یہ کون لوگ ہیں اور میرے گھر میںزبردستی کیسے داخل ہوئے ہیں جس پر ایس ایس پی آپریشن اسلام آباد فیصل کامران نے کہا کہ میں معاملے کو ابھی ’’سارٹ آئوٹ‘‘ کرتا ہوں ۔ایس ایس پی کو مذکورہ افراد نے بتایا کہ ہم ایف آئی اے سے ہیں جس پر ایس ایس پی نے ان سے ایف آئی آر،وارنٹ گرفتاری اورچھاپہ مار ٹیم کی شناخت کی بابت دفتری کارڈوں اور تفتیشی آفیسر کی موجودگی کا پوچھا تو یہ لوگ کچھ بھی فراہم کرنے میں کامیاب نہ ہوئے مگر ظلم کی انتہا دیکھیں ،ہونا تو یہ چاہئیے تھا کہ پولیس ان لوگوں کو گرفتار کرکے ان کے خلاف مقدمہ درج کرتی الٹا پولیس نے گھسیٹ کر میرے خاوند کو گاڑی میں ڈالا اور اس کی تذلیل کرتے ہوئے تھانہ مارگلہ لے گئے ۔ایس ایچ او مارگلہ کے کمرے میں آٹھ افراد نے میرے خاوندکو اس قدر تشدد کا نشانہ بنایا جس سے ان کوایک آنکھ کی بینائی متاثر ہوئی ،ناک کی ہڈی سمیت جسم پر شدیدضربیں لگائی گئیںمذکورہ تشدد کے حوالے سے تمام ٹی وی چینلز و اخبارات میںفوٹیجز و خبریں شائع و نشر ہوئیں ۔بے پناہ تشدد کے حوالے سے میرے شوہر نے بھی آگاہ کیا پولیس حراست میں ایک شریف شہری اور سینئرصحافی پر وحشیانہ تشدد کہاں کا انصاف ہے ۔عدالت نے حکم دیاتھا کہ محسن جمیل بیگ کا میڈیکل کرایا جائے مگر پولیس رات گئے تک میڈیکل کی آڑمیںانہیںسڑکوں پر گھماتی رہی ۔عدالتی حکم کے باوجود میرے شوہر کوطبی امداد نہ دلوائی گئی ۔پولیس اورایف آئی اے کی ٹیمیں متعدد بار ہمارے گھر پر آئیںتلاشی کی آڑ میں ہماری تذلیل کی جارہی ہے ہمیں مسلسل ہراساں کیا جارہا ہے ۔بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پولیس نے اس قدرسختی کررکھی ہے کہ ملاقات کی اجازت نہیں دی جارہی تھی حتیٰ کہ حق دفاع کیلئے عدالتی کارروائی کی خاطر ہمیںوکالت نامہ بھی دستخط کرانے سے روکے رکھا گیا ۔اسلام آبادہائیکورٹ کے معزز چیف جسٹس کوہمار ی طرف سے کی جانیوالی استدعا پر وکیل کو ملنے کی اجازت ملی ۔ہمارے گھر میں نامعلوم افراد کے داخلے سے لے کر اب تک پیش آنے والی سنگین صورتحال سے لگ رہا ہے کہ میرے شوہر کوجانی نقصان پہنچایا جاسکتا ہے ۔یہ بات بھی ریکارڈ پر آچکی ہے کہ یہ لوگ جب ہمارے گھر میں داخل ہوئے تو ان کے پاس نہ تو ایف آئی آر تھی نہ ہی وارنٹ گرفتاری ،حتیٰ کہ اپنی شناخت بھی نہ کراسکے جب میرے خاوند نے حق دفاع استعمال کیا اور یہ لوگ میرے خاوند کو اٹھانے میں ناکام ہوئے تو فوری طور پر درخواست دے کر میرے خاوند کے خلاف جھوٹا مقدمہ درج کیا گیا ۔ میرے شوہرکوتھانہ مارگلہ منتقل کرنے کے بعد وزیراعظم پاکستان عمران خان کی طرف سے ڈی جی ایف آئی اے کو شاباش دینا،میرٹ پرفیصلہ دینے والے ایڈیشنل سیشن جج اسلام آباد کے خلاف کارروائی کی بابت ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد کو بلوا کر جج کیخلاف ریفرنس دائر کرنے کے حوالے سے دھمکی آمیز بیان دیا جانا اور ان واقعات کے بعد میرے شوہر کے خلاف مزید مقدمات قائم کرناواضح کررہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان اس معاملے میں ذاتی طور پرملوث ہیں ۔اگر محسن جمیل بیگ اپنے دفاع کاقانونی حق استعمال نہ کرتے اور خدانخواستہ یہ لوگ میرے خاوند اٹھا کرکہیں لے جاتے تو ان کے ساتھ کیا کچھ ہوتا اس بات کا اندازہ آپ اب تک پیش آنیوالے اندوہناک واقعات سے لگا سکتے ہیں ۔ایف آئی اے کی طرف سے لاہور میں ایف آئی آر درج کرنا بھی بدنیتی پر مبنی ہے یہ لوگ لاہور ایف آئی آر درج کرکے میرے خاوند کو لاہور لے جانے کی آڑ میں جانی نقصان بھی پہنچا سکتے تھے ۔ مجھے اور میرے بچوں اور میرے شوہر محسن جمیل بیگ جو اس وقت پولیس حراست میں ہیں ،کو کوئی جانی و مالی نقصان ہوا تو اس کے ذمہ دار وزیر اعظم پاکستان عمران خان ،ڈی جی ایف آئی اے اور انکی ٹیم اوراسلام آباد پولیس کے متعلقہ حکام ہونگے اس بیان کو آن ریکارڈ رکھا جائے ،میں ملک پاکستان کی اعلی عدلیہ اور غیر جانبدار اعلی حکام کو آگاہ کرتی ہوں کہ گزشتہ کئی ماہ سے میرے شوہر کو ملنے والے سنگین دھمکیوں پر عملدرآمد شروع ہوچکا ہے جس کیلئے وزیر اعظم پاکستان ذاتی طور پر متحرک ہوچکے ہیں مجھے اندیشہ ہے کہ میرے شوہر کو مستقبل میں جانی و مالی نقصان پہنچایا جاسکتا ہے ۔ چیف جسٹس آف پاکستان اور غیر جانبدار اعلی حکام سے اپیل ہے کہ میرے خاوند کے خلاف کی جانیوالی انتقامی کارروائیوں کو فوری روکا جائے انہیں رہا کیا جائے اور اعلی سطحی عدالتی کمیشن قائم کر کے انصاف کے تقاضے پورے کئے جائیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.