پاکستانی قوم قابلِ فروخت نہیں ،بہتری اسی میں ہے ۔۔۔!!! وہ وقت جب نوازشریف نے امریکی صدر کلنٹن کی پانچ ارب ڈالر کی آفر ٹھکرا کر کیا جواب دیا ؟ جانئے

لاہور(ویب ڈیسک)یہ مئی 1998تھا جب بھارت نے ’’مسراتا بدھا‘‘ کے ایٹمی تجربے کے کئی برسوں بعد یکے بعد دیگرے مزید ایٹمی دھماکے کر ڈالے اور خطے میں طاقت کا توازن بگاڑنے کے بعد ایسے بیانات دینا شروع کر دیے جیسے ان کا ہمسایہ پاکستان نہ ہو بلکہ برطانوی دور کی کوئی ’’دیسی ریاست‘‘ ہو۔

نامور کالم نگار محمد مہدی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں کہ۔۔!!! پاکستان کے جوابی دھماکوں کے بعد وزیراعظم نواز شریف نے بھارتی رویّے کا ایک فقرے میں مکمل طور پر احاطہ کر دیا کہ ’’وہ اپنے ہمسایوں سے بات کرنے کا طریقہ ہی بھول گئے تھے‘‘۔ ذرا ٹھہریں یوکرین کی جانب توجہ کرتے ہیں۔ سوویت یونین جب لڑکھڑا رہا تھا تو اس وقت یوکرین میں آزادی کی تحاریک جنم لینے لگیں اور ان تحاریک کے لیے امریکی، مغربی ہمدردی حاصل کرنے کی غرض سے وہاں پر ایٹمی ہتھیاروں کے خلاف نعرہ بلند کیا گیا۔Not to accept, produce, or acquire nuclear weapons.سوویت یونین کا شیرازہ بکھر گیا، یوکرین آزاد ہو گیا، ایسا یوکرین جسکے پاس 1900اسٹرٹیجک وار ہیڈز، 176انٹرنیشنل بلیسٹک میزائل (آئی سی بی ايمز ) اور 44اسٹرٹیجک بومبرز سمیت دنیا میں تیسرا بڑا ایٹمی ہتھیاروں کا ذخیرہ موجود تھا۔ آزادی کے بعد یوکرین اس نعرے کی طرف بڑھا اور 1991میں یوکرین اسٹرٹیجک آرمز ریڈکشن ٹریٹی (سٹارٹ) کی جانب بھی بڑھ گیا۔ کامن ویلتھ آف انڈیپنڈنٹ اسٹیٹس نے منسک معاہدہ 30دسمبر 1991کو کیا تھا، جس میں ایٹمی ہتھیارکو روس کو دینے کی بات تھی۔ 1992میں لزبن پروٹوکول پر دستخط کیے لیکن 1992کے آخر میں یوکرین کے ہوش مند سیاستدانوں نے ایٹمی طور پر مکمل غیر مسلح ہونے کی مخالفت شروع کر دی اور پارلیمنٹ میں یوکرین کے عارضی نیوکلیئر حیثیت کی برقراری کے حق میں آوازیں اٹھنا شروع ہو گئیں۔ 1993میں 162یوکرینی سیاستدانوں نے ایک دستاویز جاری کی جس میں اين پی ٹی اور اسٹرٹیجی آرمز ریڈکشن ٹریٹی کی توثیق کے لیے 13شرائط پیش کی گئیں۔

اس میں امریکہ اور روس سے سلامتی کی ضمانت، غیرملکی مالی امداد اور صرف 36فیصد ہتھیار پھینکنے والے اثاثے اور 42فیصد ہتھیار ختم کرنے کی شرائط رکھی گئیں۔ امریکہ اس میں مکمل طور پر ملوث ہو چکا تھا، اس نے 1992میں یوکرین کو ایٹمی ہتھیاروں سے دستبردار ہونے کے لیے 175ملین ڈالر دینے کا وعدہ کیا تھا، اس لیے امریکہ اور روس نے یوکرینی سیاستدانوں کی کچھ ایٹمی ہتھیار رکھنے کی شرط کو مسترد کر دیا۔ امریکہ نے مزید متحرک ہوتے ہوئے 1993میں یوکرین کو مزید مالی مدد کی پیشکش کی۔ یوکرین جھانسے میں آ گیا اور 1994میں بڈا پیسٹ میمورنڈم ہو گیا جس میں یوکرین نے ایٹمی ہتھیاروں سے پاک ہونے ، این پی ٹی اور اسٹرٹیجک آرمز ریڈکشن ٹریٹی کی توثیق کا اعلان ان وعدوں پر بھروسہ کرتے ہوئے کیا کہ امریکہ اور روس اس کی موجودہ سرحدوں کے احترام، اقتدار اعلیٰ اور سیاسی آزادی کے تحفظ کی ضمانت دے رہے تھے۔ 2009میں جب اسٹرٹیجک آرمز ریڈکشن ٹریٹی کی مدت پوری ہو گئی تب امریکہ اور روس نے مشترکہ بیان جاری کیا کہ وہ دونوں اب بھی بڈا پیسٹ میمورنڈم پر قائم ہیں۔ اس دوران یوکرین میں حکومتیں نیٹو یا روس کی سربراہی میں قائم کلیکٹیو سیکورٹی ٹریٹی آرگنائزیشن (سی ایس ٹی او) میں شامل ہونے سے کترا رہی تھیں مگر وہاں پر امریکہ اور یورپ کے ایما پر نیٹو میں اور روس کے ایما پر سی ایس ٹی او میں شمولیت پر بحث مباحثہ زور و شور سے جاری ہو چکا تھا۔ وکٹر یونوکووچ 2010میں یوکرین کے صدر

منتخب ہوئے، حالات پر ان کی گہری نظر تھی، وہ روس کو ناراض کرنے کے خطرات سے آگاہ تھے اور امریکہ اور یورپی یونین سے بھی تعلقات رکھنا چاہتے تھے۔ اس لیے انہوں نے نیٹو یا سی ایس ٹی او میں شمولیت سے احتراز کیا۔ روس سے کریمیا میں یوکرین روس نیول بیس فار نیچرل گیس ٹریٹی کر لی تو امریکہ یورپ میں ان کو ہٹانے کے خیالات تقويت پکڑتے چلے گئے۔ صدر نے یورپی یونین سے ایسوسی ایشن معاہدہ میں گرمجوشی نہیں دکھائی اور روس سے معاشی رشتوں کو مزید استوار کرنے لگے، ان کا کہنا تھا کہ ہم نہ تو روس کو نظر انداز کر سکتے ہیں اور نہ ہی نیٹو کو ناراض کر سکتے ہیں لیکن نیٹو ان سے ناراض ہو گئی۔ نومبر 2013میں ان کی یورپ کے حوالے سے پالیسی کے خلاف مظاہرے شروع ہو گئے اور بغیر سوچے سمجھے عوام کی ایک تعداد بھی ان مظاہروں میں شامل ہو گئی۔ صدر کو ہٹانے کا اختیار پارلیمنٹ کو تھا، پارلیمنٹ میں مواخذے کے لیے مطلوبہ آئینی طریقہ کار اختیار کرنا ممکن نہیں تھا اس لیے اُس طریقہ کار کو ہی پامال کر دیا گیا اور صدر وکٹر کو ہٹانے کا اعلان کر دیا گیا۔ عدالت سے اِس عمل کی تنسیخ کا امکان تھا اسلئے پانچ بڑے ججوں کو ہی برخواست کر دیا گیا اور اسکے آئینی ہونے پر زبردست سوالات قائم ہو گئے۔ صدر وکٹر تو جان بچا کر روس چلے گئے مگر اس کے بعد روس نے واضح کردیا کہ ہمارا وہاں کی قانونی حکومت سے معاہدہ تھا اور اب وہاں

پر قانونی حکومت موجود نہیں رہی پھر کریمیا سے لے کر موجودہ حالات تک ایک تسلسل ہے۔ حالانکہ کسی ملک پر غیرقانونی حکومت مسلط ہونے کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ اس کو روندنا جائز ہو جائے۔ بلکہ اس وقت چین کے صدر نے ہوش مندی کی بات کی ہے کہ مذاکرات کی راہ اختیار کی جانی چاہیے، تائیوان کے حوالے سے وہ اس تجربے سے گزر چکے ہیں، ان کو مغرب نے بہت مشتعل کرنے کی کوشش کی مگر وہ بدستور تحمل کا مظاہرہ کرتے رہے۔ یوکرین کی موجودہ صورتحال پر نظر ڈالیں اور پھر تصور میں لائیں کہ جب بھارت ایٹمی تجربات کے بعد آپے سے باہر ہو رہا تھا تو اس وقت امریکہ اور مغربی دنیا پاکستان پر زبردست دباؤ ڈال رہی تھی، پابندیوں سے ڈرا رہی تھی۔ امریکی صدر کلنٹن وزیراعظم نوازشریف کو پابندیوں کی بجائے پانچ ارب ڈالر کی مالی مدد کی بھی پیشکش کر رہے تھے اور وزیراعظم نواز شریف صدر کلنٹن کو جواب دے رہے تھے کہ پاکستانی قوم قابلِ فروخت نہیں۔ خیال رہے کہ یوکرین 175ملین ڈالر کے وعدوں پر ڈھیر ہو گیا تھا، کاغذی سلامتی کے معاہدوں پر ایمان لے آیا تھا اور آج چار کروڑ سے زیادہ آبادی اور کبھی دنیا میں ایٹمی ہتھیاروں کا تیسرا بڑا ذخیرہ رکھنے والا یہ ملک روس کے سامنے دیسی ریاست کی مانند موسم بہار میں خزاں کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔ تاریخ کے اس موڑ پر اگر غلط فیصلہ کر لیا جاتا تو کیا ہوتا؟ یوکرین کے دارالحکومت کیف میں دھماکوں کی آوازیں سنیے اور پناہ گاہوں کو تلاش کرتے مجبور عوام کو سامنے رکھیے۔ جواب سامنے موجود ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.