ق لیگ اور اپوزیشن ڈیل کے قریب!!! عمران خان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے؟ تہلکہ خیز دعویٰ

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) توقع ہے کہ ق لیگ حکمران جماعت پی ٹی آئی سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کیخلاف اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد میں ساتھ دینے کا اعلان کرنے والی ہے۔ روزنامہ جنگ میں انصار عباسی کی خبر کے مطابق ق لیگ کے ایک ذریعے نےبتایا ہے کہ فیصلے کا اعلان جلد متوقع ہے۔

پہلے نون لیگ والے ق لیگ کو پنجاب میں وزارت اعلیٰ کا عہدہ دینے کیلئے تیار نہیں تھے لیکن اب وہ تقریباً اس اقدام کیلئے تیار ہیں۔ ذرائع کے مطابق، نواز شریف کو قائل کیا جا رہا ہے کہ ق لیگ کی شرط مان کر عمران خان حکومت کو چلتا کیا جائے۔ پیپلز پارٹی کے شریک چیئر پرسن آصف علی زرداری بھی نون لیگ کی اعلیٰ قیادت کو منانے کی کوششیں کر رہے ہیں کہ ق لیگ والوں کی شرط مان لیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ق لیگ اور اپوزیشن کے درمیان مفاہمت تقریباً ہو چکی ہے اور اب نواز شریف کے حتمی فیصلے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ نون لیگ کے کچھ رہنمائوں نے آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمان کو گجرات کے چوہدریوں کیلئے نواز شریف کی ممکنہ ’’ہاں‘‘ سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔ ق لیگ کے رہنمائوں سے پس پردہ ہونے والی بات چیت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپوزیشن کا ساتھ دینے کے معاملے میں ان کا رد عمل مثبت ہے۔ ق لیگ کے رہنما کا کہنا تھا کہ غالب امکان ہے کہ پرویز الٰہی اپوزیشن میں شامل ہو کر عدم اعتماد تحریک میں مدد کریں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ میڈیا اطلاعات میں کوئی سچائی نہیں کہ اتوار کو وزیراعظم عمران خان اور پرویز الٰہی کے درمیان ملاقات ہونے جا رہی ہے۔ ق لیگ کے ذریعے نے کہا کہ حکومت میڈیا کو غلط معلومات فراہم کر رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں گجرات کے چوہدریوں اور اپوزیشن والوں کے درمیان کچھ ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ شدید علالت کے باوجود چوہدری شجاعت اسلام آباد اور لاہور جا کر اپوزیشن والوں سے ملاقات کر چکے ہیں، پرویز الٰہی بھی جمعرات کو اسلام آباد پہنچے اور اب وہ حتمی فیصلے کی قریب پہنچ چکے ہیں۔ ہفتے کو وزیر داخلہ شیخ رشید نے ق لیگ والوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی حکومت کو بلیک میل کر کے صرف پانچ ووٹوں کی بنیاد صوبے میں وزارت اعلیٰ کا عہدہ حاصل کرنا چاہتی ہے۔ پرویز الٰہی کے بیٹے اور وفاقی وزیر برائے پانی مونس الٰہی نے جوابی حملہ کرتے ہوئے شیخ رشید پر الزام عائد کیا کہ اپنے زمانۂ طالب علمی میں شیخ رشید چوہدریوں کے بڑوں سے پیسے لیا کرتے تھے۔ اپوزیشن کی تحریک میں کامیابی کا بھاری انحصار ق لیگ کے فیصلے پر ہے۔ اگر گجرات کے چوہدری وزیراعظم کا ساتھ دیتے ہیں تو توقع ہے کہ عدم اعتماد کی تحریک ناکام ہو جائے گی اور اگر وہ اپوزیشن کا ساتھ دیں گے تو حکومت کا باقی رہنا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔ اسی دوران ایک اہم وفاقی وزیر، جو عموماً بڑے تعلقات کی بڑھکیں مارتے ہیں، نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اگلے 24؍ سے 48؍ گھنٹے میں کچھ ایسا ہونے والا ہے جس سے اپوزیشن والوں کی چال اُلٹی پڑ جائے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.