2 سگی بہنوں کے شرمناک مگر جھوٹے الزام کے باعث امت مسلمہ کا ہیرو محمد بن قاسم کی زندگی کس المناک انجام سے دوچار ہوئی ؟ ناقابل یقین تاریخی واقعہ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور مضمون نگار سکندر خان بلوچ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔جب محمد بن قاسم کو بصرہ لایا گیا تو اسکے پائوں میں بیڑیاں دیکھ کر لوگ بڑے پریشان ہوئے۔ محمد بن قاسم گو ابھی عمر میں کم تھا مگر اس نے اپنے آپ کو اپنے وقت کا بہترین سپہ سالار ثابت کیا۔

اس نے نہ صرف اس دور کے سندھ کے طاقتور راجہ کو شکست دی بلکہ ہندوستان کا بہت ساعلاقہ اسلامی سلطنت میں شامل بھی کیا جس سے مسلمان بڑے خوش تھے۔ ان کی نظر میں نوجوان محمد بن قاسم ایک ہیرو تھا اور اسکا ایک ہیرو کی طرح استقبال ہونا چاہیے تھا مگر بد قسمتی سے وہ بطور ایک قیدی واپس لایا گیا۔ لوگ جلدہی سمجھ گئے کہ اس کی وجہ نوجوان سپہ سالار کا کوئی جرم یا حکم عدولی نہیں بلکہ نئے امیر المسلمین جناب سلمان بن عبد الملک کی ذاتی عداوت تھی۔ بصرہ کا نیا گورنر بھی محمد بن قاسم کا سخت مخالف تھا۔ لوگوں کی تمام تر ہمدردیاں محمد بن قاسم کے ساتھ تھیں۔ فی الحال تو اسے قید کر دیا گیا اور قید میں اسے سخت اذیتیں دی گئیں۔ کچھ دن بعد خبر گرم ہوئی کہ محمد بن قاسم کو سزا کے طور پر بیل کی کھال میں لپیٹ کر سیا جا رہا ہے۔ اس سے لوگوں کو بہت دکھ ہوا۔ جب اسے بیل کی کھال میں لپیٹ کر دمشق کیلئے روانہ کیا گیا تو بہت سے لوگ اسے دیکھنے کیلئے گھروں سے باہر آگئے۔ انکی آنکھوں میں آنسو تھے مگر وہ سب بے بس تھے کیونکہ ان کی آواز امیر المسلمین تک نہیں پہنچ سکتی تھی اور اگر پہنچ بھی جاتی تو وہ بے اثر تھی۔ اس سے پہلے موسیٰ بن نصیر اور طارق بن زیاد کا انجام بھی ان کے سامنے تھا۔ یہ مسلمانوں کی بد قسمتی تھی کہ مسلمان حکمرانوں نے فاتحین کو سراہنے کی بجائے انہیں اذیت ناک سزائیں دے

کر زندگی سے محروم کر دیا ۔ گورنر صالح بن عبد الرحمن نے حجاج کا بدلہ محمد بن قاسم سے لیا۔ اس نے فوری طور پر سندھ کا نیا گورنر یزید بن قبشہ مقرر کر دیا اور اسے حکم دیا کہ محمد بن قاسم کو بیڑیاں پہنا کر واپس بھیجا جائے۔ جب یہ حکم محمد بن قاسم تک پہنچا تو بہت سے لوگ اسکے گرد جمع ہو گئے۔ سب نے محمد بن قاسم کو مجبور کیا کہ وہ سندھ کی حکمرانی قبول کریں اور واپس نہ جائیں مگر محمد بن قاسم نے خلیفہ کی حکم عدولی کرنا مناسب نہ سمجھا۔ لہٰذا انہیں بیڑیاں ڈال کر گورنر کے پاس لے جایا گیا ۔وہاں خلیفہ کا حکم ملا کہ انہیں بیل کے چمڑے میں لپیٹ کر سلائی کر دی جائے اور پھر میرے پاس بھیجا جائے۔ لہٰذا خلیفہ کے حکم پر عمل کیا گیا لیکن محمد بن قاسم دم گھٹنے سے راستے ہی میں فوت ہو گیا۔ (انا للہ و انہ الیہ راجعون)۔اتنی سخت سزا کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ راجہ داہر کی سوریا دیوی اور ہر مل دیوی نام کی دو نوجوان بیٹیاں تھیں۔ راجہ داہر کی موت کے بعد وہ دونوں محمد بن قاسم کو پیش کی گئیں لیکن محمد بن قاسم نے حبشی غلاموں کی حفاظت میں انہیں خلیفہ کے پاس بھیج دیا۔ ان لڑکیوں نے محمد بن قاسم سے باپ کی موت کا بدلہ لینے کیلئے خلیفہ کے سامنے جھوٹ بولا کہ وہ خلیفہ کے حرم کے قابل ہی نہیں کیونکہ محمد بن قاسم انہیں پہلے ہی خراب کر چکا ہے۔ اس سے خلیفہ طیش میں آگیا اور محمد بن قاسم کو اتنی سخت سزا دے ڈالی۔ بعد میں یہ الزام غلط ثابت ہوا تو خلیفہ کو بہت افسوس ہوا ۔ لہٰذا اس نے دونوں شہزادیوں کو دیوار میں چنوادیا۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ یہ ساری کہانی جھوٹ ہے محمد بن قاسم کو کچھ کے مطابق مو صل جیل اور کچھ کے مطابق دمشق قید خانے میں رکھا گیا جہاں گورنر صالح بن عبد الرحمن نے انہیں اذیتیں دے دیکر زندگی سے محروم کر دیا۔ بہرحال وجہ کچھ بھی ہو عالم اسلام ایک بہترین سپہ سالار اور بہترین منتظم سے محروم ہو گیا ورنہ برصغیر کی تاریخ آج کچھ اور ہوتی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.