’’سینئر ضروری نہیں، اگر اداروں میں ’جونیئر ‘بہترین منتظم ہے تو۔۔۔۔‘‘ وزیر اعظم عمران خان کا تہلکہ خیز اعلان

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں پہلی مرتبہ ماسوائے سندھ ملک کے تمام شہریوں کو یونیورسل ہیلتھ کوریج کی سہولیت میسر آئی ہے ۔ ایسی سہولت دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں بھی مفت میسر نہیں ۔ سینئر ضروری نہیں اگر جونیئر بہترین منتظم ہے تو اس کو تعینات کریں۔ اسلام آباد میں

پمزہسپتال کے نئے شعبہ حادثات اور سیکٹر جی 13 میں 300 بیڈز کے نئے ہسپتال کے سنگ بنیادکی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ جب وہ حکومت میں آئے تو انہوں نے پمز ہسپتال کا دورہ کیا اور یہاں ایمرجنسی کی صورتحال دیکھی تو تب ہی فیصلہ کیا کہ اس کو بہتر کرنا ہے کیونکہ جب بھی کوئی مریض ایمرجنسی میں آتا ہے تو اس کے لئے سب سے بہتر طبی سہولت یہاں میسرآنی چاہیے۔پمز کا ڈینٹسٹری کا شعبہ بہترین ہے لیکن یہاں ایمرجنسی حالت بہت بری تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے شوکت خانم کے 2 ہسپتالوں کے آرکیٹیکٹ سے پمز ہسپتال کی ایمرجنسی کو ڈیزائن کروایا ہےجس کا سارا خرچہ پاکستانی تارکین وطن نے برداشت کیاہے ۔پاکستان دنیا میں عطیات کرنے والی بڑی قوم ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ آج ہم نے پورے پاکستان میں سب سے معیاری ایمرجنسی کاسنگ بنیادرکھا ہے ، اس کے علاوہ جی 13 میں 300 بستروں پرمشتمل نئے ہسپتال کا سنگ بنیاد بھی رکھا ہے۔ 1985 کے بعد اسلام آباد میں یہ نیا ہسپتال بن رہا ہے۔ اسلام آباد سب سے تیزی سے پھیلتا شہر ہے ۔گزشتہ 10 سال میں اس کی آبادی دوگناہو گئی، نئے ہستپال نہ بننے پر پہلے سےموجود ہسپتالوں پر بوجھ اور ڈاکٹروں پر بھی دباؤ پڑتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ نیاہسپتال بھی امریکی آرکیٹیکٹ نے ڈیزائن کیاہے ۔ ہم کوشش کریں گے کہ پاکستانی آرکیٹکٹس کو بھی تربیت دیں۔وزیراعظم نے کہا کہ ساڑھے تین سال میں موجودہ حکومت نے عوام کے لئے جو کام کئے گزشتہ حکومتوں نے نہیں کئے۔ سندھ کے علاوہ تمام صوبوں کے رہائشیوں کو یونیورسل ہیلتھ کوریج دی جارہی ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں بھی مفت یہ سہولت میسر نہیں بلکہ وہاں پریمیم دینا پڑتاہے، ہمارے ہاں یہ سہولت مفت دی جارہی ہے ۔ جب اس منصوبے کاآغازکیا کہ اس وقت لوگ کہتےتھے کہ یہ کام مشکل ہے ، نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ یہ فلاحی ریاست کی طرف ایک اہم قدم ہے تاکہ انسانیت کا نظام ہو ،غریب کے پاس بھی علاج کی بہترین سہولیات ہوں۔ اس سے قبل لوگ مجبوری میں بیماریوں کی وجہ سے قرض لیتے تھے۔ وزیراعظم نے کہا کہ جب سے میں سیاست میں آیا ہوں تب سے میرا یہی خواب تھا ، اس کارڈ کی بدولت اب شہری ایسے ہسپتالوں میں بھی علاج کروا سکتے ہیں جن کا وہ صرف تصور کرسکتے تھے۔

وزیر اعظم عمران خان نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ ہم نے اس کے ساتھ ساتھ یکساں نصاب تعلیم رائج کی جانب اہم قدم اٹھایا جس طرف ماضی میں کسی نے توجہ نہیں دی۔ ہمارے ملک کی بدقسمتی یہاں رائے طبقاتی نظام تعلیم ہے،یہ نظام متوسط طبقے کو اوپر نہیں آنے دیتا تھا،انگریزی ایک کلاس بن چکی تھی، یہ دراصل غلامی کا ایک طوق ہمارے گلے میں پڑا ہے، لوگ اپنے آپ کو پڑھا لکھا ثابت کرنے کے لئےا نگریزی کے جملوں سے اپنی بات کا آغاز کرتے ہیں، یہ احساس کمتری ہے۔ ہم نےپانچویں جماعت تک یکساں نصاب تعلیم لانے کی شروعات کر دی ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے سیرت النبیﷺ پڑھانے کا فیصلہ کیا کیونکہ کردار سازی کے بغیر قوم بڑی نہیں بن سکتی ۔ مدینہ کی ریاست کے پیچھے بنیادی فلسفہ فکر انقلاب تھا، کبھی تلوار سےانقلاب نہیں آیا، سارا خطہ عرب صرف ذہن بدلنے کی وجہ سے بدل گیا لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں کبھی اس جانب کوشش بھی نہیں کی گئی ۔انہوں نے کہا کہ جو قوم بھی نبی ﷺ کی سنت پرچلے گی وہی کامیاب ہو گی ،وہ رحمت اللعالمینﷺ تھے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ رحمت اللعالمین اتھارٹی بنائی ہے تاکہ یونیورسٹی تک کے اپنے بچوں کو نبی ﷺ کی زندگی اور ان کی تعلیمات کے بارے میں تعلیم و آگاہی دےسکیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے ملک میں اقتصادی بہتری لائی، تمام معاشی عشاریے مثبت جارہےہیں، ہماری حکومت نے آمدن کے مقابلہ میں اخراجات کم کئےاور آمدنی بڑھائی تاکہ کسی کی غلامی نہ کرنی پڑے۔وزیراعظم نے کہا کہ پمز کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی یہ بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ میرٹ کی پاسداری کریں، حکومتی نظام میں میرٹ ختم ہونے کی وجہ سے وہ کرپشن کی اجازت دیتا ہے ،بورڈ آف ڈائریکٹرز نجی طرز پر سسٹم لے کرآئیں اور میرٹ پر تقرریاں کریں، اگر کوئی جونیئربہترین منتظم ہو سکتاہےتو اس کی تعیناتی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ پمز پورے پاکستان کے ہسپتالوں کے لئے ایک مثال بن سکتاہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.