بچے کی پیدائش کے بعد نیند متاثر ہونے سے ماں کی صحت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں، تحقیق سامنے آگئی

لاہور: (ویب ڈیسک) نومولود بچے عام طور پر دن میں تقریباً 18 گھنٹے تک سوتے ہیں لیکن اگر بچے کی نیند میں خلل یا کمی آ جائے تو اس سے نا صرف اس کی صحت متاثر ہوتی ہے بلکہ یہ والدین کے لیے پریشانی اور خاص طور پر ماں کے

لیے تھکاوٹ اور بے چینی کا سبب بن سکتا ہے۔ امریکا میں ہونے والی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ بچے کی پیدائش کے بعد 6 ماہ کے دوران ہر رات متعدد گھنٹوں تک نیند کی کمی بڑھاپے کی جانب سفر تیز کردیتی ہے۔ کیلیفورنیا یونیورسٹی کی اس تحقیق میں 33 ماؤں کو شامل کیا گیا تھا جن کا دوران حمل اور بچے کی پیدائش کے ایک سال بعد تک جائزہ لیا گیا تھا۔ تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ بچے کی پیدائش کے ایک سال بعد ہر رات 7 گھنٹے سے کم سونے والی ماؤں کی حیاتیاتی عمر 3 سے 7 سال تک بڑھ جاتی ہے۔ تحقیق کے مطابق 7 گھنٹوں سے کم سونے والی ماؤں کے خون کے سفید خلیات میں ٹیلومیئرز کی لمبائی گھٹ جاتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہےکہ ہم پہلے سے جانتے ہیں کہ ہر رات 7 گھنٹے سے کم وقت تک سونا صحت پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے اور عمر بڑھنے سے لاحق ہونے والے امراض کا خطرہ بڑھتا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ بیشتر ماؤں کو بچے کی پیدائش کے 6 ماہ سے ایک سال بد تک نیند کی کمی کا سامنا ہوتا ہے۔ انہوں نے نئی ماؤں کو مشورہ دیا کہ وہ تھوڑی اضافی نیند، دن میں بچے کے ساتھ قیلولے کو عادت بناکر صحت کو لاحق خطرات کم کرسکتی ہیں۔ ماہرین نے کہا کہ خواتین اپنی نیند کی ضروریات کا خیال طویل المعیاد بنیادوں پر اپنی اور اپنے بچوں کی صحت کا خیال رکھ سکتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.