کیا آپ آنکھ بند کر کے لیڈر منتخب کرلیتے ہیں؟ اپنے لیڈر کا انتخاب چند چیزیں دیکھ کر کریں

لاہور: (ویب ڈیسک) اللہ رب العزت نے ہر انسان کو مختلف خوبیوں کے ساتھ پیدا کیا ہے، کسی کو ڈاکٹر بننے کی صلاحیت دی تو کسی کو انجینئر، کوئی معاشی ماہر تو کوئی علم کی روشنی پھیلانے کا ماہر ہے- ایسے ہی اللہ تعالیٰ نے بعض انسانوں کو قیادت کیلئے پیدا کیا ہے اور وہ لوگ اپنی قوم اور گروہوں کی قیادت کے ذریعے مسائل حل کرنے کے علاوہ آگے بڑھنے کیلئے راہ تلاش کرتے ہیں۔ اپنے لیڈر کا انتخاب کرتے وقت ہمیں کن چند چیزوں کو مد نظر رکھنا چاہیے آئیے ایک نظر دیکھتے ہیں۔

1۔قائد کی صفات: ایک قائد کی ذات اور صفات اس کیلئے قوم اور پیروکاروں کی زندگی پر گہرا اثر چھوڑتی ہے، ایک بہترین لیڈر ہمیشہ ہر اول دستہ کا کردار ادا کرتا اور ہر مشکل اور پریشانی کی گھڑی میں سب سے آگے کھڑا ہوتا ہے جس سے دوسروں کو حوصلہ ملتا ہے اور آپ مشکل سے مشکل ترین کام مراحل سے بھی گزر جاتے ہیں۔ 2۔ عقل و دانائی: ایک اچھا لیڈر وہ ہوتا ہے جو اچھی بصیرت رکھتا ہو کیونکہ کسی بھی لیڈر کو اس کی عقل و دانائی دوسروں سے ممتاز بناتی ہے لیڈر کی بصیرت کی وجہ سے قومیں مستقل کا تعین کرتی ہیں اور اسی عقل و دانائی کی وجہ سے کامیابی کی منازل کی طرف پیش قدمی کرتی ہیں۔ 3۔اصول و انصاف: اچھے لیڈر میں انصاف اور اصولوں پر واضح مؤقف ہونا چاہیے ،ایک لیڈر کو انصاف اور اصولوں پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے ۔(بخاری جلد۲ ص۱۰۰۳ باب کراہیة الشفاعت فی الحدود) اے لوگو ! تم سے پہلے کے لوگ اس وجہ سے گمراہ ہو گئے کہ جب ان میں کوئی شریف چوری کرتا تھا تو اس کو چھوڑ دیتے تھے اور جب کوئی کمزور آدمی چوری کرتا تو اس پر سزائیں قائم کرتے تھے خدا کی قسم ! اگر محمد کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرے گی تو یقینا محمد اس کا ہاتھ کاٹ لے گا۔ (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) 4۔سمجھ بوجھ: لیڈر میں کسی بھی معاملے کے حوالے سے سمجھ بوجھ ہونی ضروری ہے کیونکہ جب تک لیڈر خود چیزوں کا ادراک نہیں کریگا وہ اپنی ٹیم یا قوم کی درست رہنمائی نہیں کرسکتا اور کسی بھی لیڈر میں معاملات کی سمجھ بوجھ ہونا بہت ضروری ہے۔ 5۔فیصلہ کرنے کی قوت: اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ لیڈر کی کم ہمتی یا بے وقت پر غلط فیصلوں کی وجہ سے بڑا نقصان اٹھانا پڑتا ہے اس لئے کسی بھی لیڈر میں فیصلہ کرنے کی قوت ہونی چاہیے جو کسی بھی قسم کی صورتحال اور حالات میں فوری اور درست فیصلہ کرنے کی قوت رکھتا ہو۔

6۔زندگی گزارنے کا طریقہ: قوم یا پیروکار اپنے لیڈر کی پیروی میں بعض اوقات اس حد تک آگے نکل جاتے ہیں کہ اپنے لیڈر کے طرز زندگی کو بھی اپنانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اس لئے ایک لیڈر کا طرز زندگی ایسا ہونا چاہیے کہ آپ کو اس کی پیروی کرنے میں فخر محسوس ہو۔ 7۔برداشت اور معاملہ فہمی: زندگی میں اکثر ایسے موڑ بھی آتے ہیں جب ایک طرف اپنی ذات اور دوسری طرف قوم کے مفادات ہوتے ہیں لیکن اچھا لیڈر وہ ہوتا ہے جو ہر قسم کے حالات کا مقابلہ کرنے کی ہمت اور برداشت رکھتا ہو اور صبر و تحمل کے ساتھ چیزوں کو اپنی قوم کے حق میں بہتر بنانے کیلئے بہترین حکمت عملی بنائے۔ لیڈر میں معاملہ فہمی بھی ضروری ہے کیونکہ بعض اوقات کسی معاملے پر درگزر تو کہیں سختی کی ضرورت بھی ہوتی ہے اور لیڈر کو یہ بات ضرور معلوم ہونی چاہیے کہ کب کہاں کیا فیصلہ کرنا چاہیے تاکہ معاملات کو بگاڑ سے بچایا جاسکے۔ 8۔دوسروں کو سننے کی صلاحیت: ایک اچھے لیڈر میں متکلم بات سننے کی صلاحیت ہونی چاہیے کیونکہ جب لیڈر کسی کی بات کو توجہ سے سنتا ہے تو لوگوں کے دلوں میں اس کیلئے عزت میں اضافہ ہوتا ہے اور کسی بھی مسئلے کا حل ممکن ہوتا ہے۔ جہاں دوسروں کی بات کو سننا گوارا نہ کیا جائے وہاں حل کیسے ممکن ہے۔ اس لئے لیڈر میں دوسروں کو سننے کی صلاحیت بھی بہت ضروری ہے۔9۔راست بازی اور دیانتداری: ایک لیڈر کا راست باز اور دیانتدار ہونا بہت ضروری ہے کیونکہ ایک دیانتدار اور راست باز لیڈر پیشہ ورانہ امور کے علاوہ زندگی کے ہر شعبہ میں آپ کی درست رہنمائی کرسکتا ہے۔ راست باز اور دیانتدار قائد اپنی قوم کو سماجی برائیوں سے دور رکھنے اور انصاف پر مبنی معاشرے کے قیام میں بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ 10۔ طرز تخاطب: لیڈر کا انداز گفتگو قوم، سامعین اور پیروکاروں پر بہت گہرا اثر چھوڑتا ہے۔ لیڈر کا طرز تکلم جتنا اچھا ہوگا وہ اتنا ہی کامیاب ہوگا اور قوم و پیروکاروں کا رویہ بھی اس کے ساتھ اتنا ہی اچھا ہوا۔ ایک اچھے لیڈر کی دیگر نشانیوں میں شیریں گفتار ہونا بھی شامل ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.