وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کا”دی اینڈ”معروف صحافی ایس اے زاہد کا بڑا انکشاف

لاہور(ویب ڈیسک)ایس اے زاہد اپنے کالم میں لکھتے ہیں سیاسی گرما گرمی عروج پر ہے۔ ملاقاتوں اور یقین دہانیوں کے سلسلے جاری ہیں۔ دونوں طرف سے کامیابی کے دعوے کیے جا رہےہیں۔ اس وقت جو صورتحال نظر آ رہی ہے اس کو مدنظر رکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ

وزیر اعظم عمران خان بعض وزرا اور مشیروں سے مایوس ہو گئے ہیں۔ اس لیے اب وہ ان کو بھی نہیں بتا رہے کہ ان کے پاس وہ کون سا آخری کارڈ ہے جس کو سامنے لانے پر وہ بازی پلٹ دیں گے۔ جو حکومتی لوگ اتحادیوں سے بات چیت اور ان کو راضی کرنے کیلئے ملاقاتیں کرتے رہے۔ شاید انہوں نے اب وزیراعظم کو اتحادیوں کے ارادوں سے آگاہ کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اتحادی جماعتوں نے فیصلہ کر لیا ہے اور کسی وقت اہم اعلان کا امکان ہے۔ جہاں تک ناراض ارکان کا تعلق ہے تو ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ ان کی واپسی کا کوئی امکان نہیں ۔ عمران خان کو ان کے صلاح کاروں نے ویسے بھی کوئی اچھی صلاح نہیں دی ہے لیکن موجودہ ایشو پر تو لگتا ہے دھکا دینے والے مشورے دیئے، ان مشوروں کی وجہ سے ناراض ارکان کی ناراضی ناقابل واپسی کی حد تک پہنچ گئی، یہ کونسا طریقہ تھا کہ اپنی ہی جماعت کے ناراض ارکان کو راضی کرنے کے بجائے ان کو ذلیل کیا جائےان کو گھوڑے اور خچروں سے تشبیہ دی جائے۔ ان کو بکاؤمال کہا جائے۔ پھر ان کی اسلام آباد میں قیام گاہ سندھ ہاؤس پر ہلہ بول دیا جائے۔ ان کے گھروں پر جہاں ان کے بیوی بچےرہائش پذیر ہیں حملے اور مظاہرے کروائے جائیں اور ان بلوائیوں اور مظاہرین کا دفاع کیا جائے۔سمجھ نہیں آتی کہ ایسے غیر دانشمندانہ، غیر اخلاقی اور بچگانہ مشورے دینے والے کون ہیں،۔ آخر وہ وزیر اعظم عمران خان سے کس بات کا بدلہ لینا چاہتے ہیں

اور عمران خان بھی ایسے مشوروں پر عمل کرتے جا رہے ہیں۔ عمران خان خود بہت اچھے انسان ہیں۔ سادہ بھی ہیں لیکن ان کے صلاح کار بہت شاطر اور کاریگر لگتے ہیں۔ اس وقت وزیر اعظم کے لیے جو مشکلات بن گئی ہیں یہ ان ہی صلاح کاروں کے مشوروں اور ان پر عمل کرنے کا شاخسانہ ہے۔ ناراض ارکان میں سے ایک بھی نہ واپس آیا ہے اور مبینہ طور پر نہ ان سب کویا ان میں سے کسی ایک کو واپس آنا ہے۔تین بڑی ا تحادی جماعتوں ایم کیو ایم، مسلم لیگ(ق) اور بلوچستان عوامی پارٹی کے اراکین قومی اسمبلی کی تعداد 17ہے جبکہ پی ٹی آئی کے ناراض ارکان کی تعداد اس وقت تک 30 بتائی جاتی ہے۔ اگر آج کل میں اتحادی جماعتیں حکومت سے علیحدگی کا اعلان کر دیتی ہیں تو شاید پھر تحریک عدم اعتماد کے بجائے تحریک اعتماد کی ضرورت پڑ جائے اور وزیر اعظم کو ہاؤس سے اعتماد کا ووٹ لینا پڑے۔ دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ ماحول کو کشیدگی اور دنگے فساد سے بچانے کیلئےوزیر اعظم اپنے منصب سے مستعفی ہو جائیں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ وزیر اعظم خان نے تو کہا ہے کہ ابھی تو جنگ شروع ہوئی ہے وہ پہلے سے میدان کیوں چھوڑیں۔ اور وہ کسی صورت استعفیٰ نہیں دیں گے۔ذرائع کے مطابق عمران خان کے بعض خیر خواہوں نے ان کو مستعفی ہونے کی نصیحت بھی کی ہے لیکن اب تک وہ استعفیٰ دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔وزیر اعظم عمران خان نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ حکومت چھوڑ دیں گے لیکن استعفیٰ نہیں دیں گے۔

سمجھ نہیں آرہی کہ وزیر اعظم نے کس جنگ اور میدان کی بات کی ہے۔ عدم اعتماد تو ایک آئینی عمل ہے جس میں جس طرف کے ارکان کی تعداد زیادہ ثابت ہو جائے گی۔ اس کو کامیاب قرار دیا جائے گا۔ بہ الفاظ دیگر اس عمل کی جگہ پارلیمنٹ ہے نہ کہ سڑک۔ دوسری یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ وہ استعفیٰ نہیں دیں گے اور حکومت کو چھوڑ دیں گے۔ یہ تو عدم اعتماد کی کامیابی یقینی ہونے کی علامت ہے اور اس سے پہلے استعفیٰ دینا باعزت طریقہ سے حکومت کو چھوڑنے کا طریقہ ہے۔ معلوم نہیں عمران خان یہ دوسرا رستہ کیوں اختیار نہیں کرتے۔ لیکن یہ تو ان کی مرضی پر منحصر ہے ممکن ہے انہوں نے کوئی اور راستہ سوچا ہو۔جہاں تک ٹرمپ کارڈ یعنی آخری کارڈ کا تعلق ہے جس کو وزیر اعظم عمران خان کے ساتھی سرپرائز بھی کہتے ہیں اس کا علم خود شاید وزیر اعظم کے ساتھیوں کو بھی نہیں ہے۔ وہ تو جو کچھ بھی ہے سامنے آ جائے گا۔ لیکن بظاہر دو باتیں نظر آتی ہیں۔ ایک یہ کہ 27مارچ کو جس بڑے مجمع کو اسلام آباد میں اکٹھا کرنے کا اعلان کیا گیا۔ اس میں وزیر اعظم اپنے خطاب میں کچھ انکشافات کر دیں۔ جیسا کہ مجھے کام نہیں کرنے دیا گیا، عدم اعتماد کے پیچھے بیرونی ممالک ہیں وغیرہ وغیرہ اور پھر اسی مجمع میں اپنے استعفٰی کا اعلان کر دیں۔ اس طرح بھی عدم اعتماد کی بات ختم ہو جائے گی۔
دوسری صورت تو پھر لڑائی جھگڑے اور فسادکی ہے جو بہت خطرناک ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ میرے بجائے کوئی اور استعفیٰ دے گا۔ معلوم نہیں وہ کون ہو گا۔ لیکن اگر کوئی بھی نامناسب کوشش کی گئی یا فریقین میں بات تصادم تک گئی تو ہر دو صورتوں کا انجام بہت ہی بھیانک ہو سکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.