رمضان میں فالج کے کیسز کم ہو جاتے ہیں، ماہرینِ صحت

لاہور: (ویب ڈیسک) ماہرینِ صحت نے کہا ہے کہ رمضان میں دیگر مہینوں کے مقابلے میں فالج کے کیسز کم ہو جاتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق معروف نیورولوجسٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد واسع نے کراچی میں جاری آٹھویں بین الاقوامی ڈائبیٹیز اینڈ رمضان کانفرنس 2022 کے دوسرے روز سائنٹیفک سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ رمضان میں دیگر مہینوں کے مقابلے میں میں فالج کے کیس کم ہو جاتے ہیں۔

انہوں بتایا کہ اس کی بنیادی وجہ اکثر لوگوں کا تمباکو نوشی سے گریز، بہتر بلڈ پریشر اور شوگر کنٹرول اور روزہ رکھنے کے نتیجے میں کولیسٹرول کا کم ہونا ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد واسع کا کہنا تھا کہ رمضان کے روزے رکھنے کے ذہنی اور اعصابی صحت کے لیے بے شمار فوائد ہیں انہوں نے بتایا کہ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ روزے رکھنے سے گھبراہٹ، ڈپریشن اور دیگر نفسیاتی بیماریوں میں کمی واقع ہوتی ہے، جبکہ ادویات کے ساتھ ساتھ روزے رکھنے سے شیزوفرینیا کے مرض میں بھی افاقہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ روزہ مختلف اعصابی بیماریوں بشمول پارکنسنز اور الزئمرز سے بچاؤ میں بھی کافی حد تک معاونت فراہم کرتا ہے، روزہ رکھنے سے نیند بہتر ہوتی ہے جبکہ حال ہی میں کی گئی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ کرونا کی وبا کے نتیجے میں جن لوگوں کی چکھنے کی حس متاثر ہوئی تھی انہیں بھی روزے رکھنے سے فائدہ ہوا ہے۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گردوں کے امراض کے ماہر ڈاکٹر بلال جمیل نے کہا کہ گردوں کی بیماری کا شکار ایسے مریض جنہیں دل کی بیماری بھی لاحق ہو انہیں روزے رکھنے سے گریز کرنا چاہیے لیکن صرف گردوں کی بیماری میں مبتلا افراد اپنے ڈاکٹر کے مشورے سے روزے رکھ سکتے ہیں۔ماہرینِ صحت نے بتایا کہ دل، گردوں، ذیابطیس، بلڈ پریشر کی بیماریوں میں مبتلا افراد اور کسی حد تک حاملہ خواتین بھی روزے رکھ سکتی ہیں لیکن ایسے مریضوں کو رمضان کا مہینہ شروع ہونے سے پہلے اپنے معالجین سے مشورہ ضرور کرنا چاہیے۔ خیال رہے کہ خاص طور پر حاملہ خواتین کو اپنی گائناکالوجسٹ اور ماہر امراض ذیابطیس سے مشورہ ضرور کرنا چاہیے۔ اس موقع پر بقائی انسٹیٹیوٹ آف ڈائبیٹولوجی اینڈ اینڈوکرائنولوجی وابستہ ڈاکٹر سیف الحق کا کہنا تھا کہ دنیا میں مسلمانوں کی تعداد ایک ارب نوے کروڑ ہے جن میں سے تقریبا پندرہ کروڑ افراد روزے رکھتے ہیں، ان میں سے تقریبا 86 فیصد مسلمان رمضان کے مہینے میں صرف 15 روزے رکھتے ہیں جبکہ 61 فیصد مسلمان رمضان میں پورے مہینے کے روزے رکھتے ہیں۔کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دارالعلوم کراچی سے وابستہ مفتی نجیب خان نے دینی نقطہ نظر پیش کرتے ہوئے کہا کہ مختلف بیماریوں میں مبتلا افراد کو روزے رکھنے کے حوالے سے ڈاکٹروں سے مشورہ کرنا چاہیے کیونکہ علماء کرام کے مقابلے میں ڈاکٹر انہیں بہتر مشورہ دے سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ روزے کی حالت میں انگلی میں سوئی چبھو کر خون نکال کر چیک کرنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا، اسی طریقے سے آنکھ اور کان میں دوائی کے قطرے ڈالنے اور انجکشن لگوانے سے بھی روزہ نہیں ٹوٹتا۔ مفتی نجیب نے واضح کیا کہ اگر کسی مریض کی جان پر بن آئے تو اسے روزہ توڑ دینا چاہیے اور ایسی حالت میں اسے صرف قضا روزہ رکھنا پڑے گا۔ واضح رہے کہ دو روزہ بین الاقوامی ڈائبیٹیز اینڈ رمضان کانفرنس بقائی انسٹی ٹیوٹ آف ڈائیبیٹولوجی اینڈ اینڈوکرائنولوجی اور ڈائبٹیز اینڈ رمضان انٹرنیشنل لائسنس کے تعاون سے منعقد کی گئی تھی جس میں ملکی و بین الاقوامی ماہرینِ صحت شریک ہوئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.