1788ء کو سڈنی کے ساحل پر برطانوی جھنڈا لہرا کر بنائی جانے والی کالونی آج کونسے بڑے ملک کی شکل اختیار کر چکی ہے؟ جانئے

لاہور(ویب ڈیسک)کیا ہی برکت والا دن تھا! ایک سعید دن! ایک خوشیوں بھرا دن!قوموں کی تاریخ میں ایسے دن صدیوں بعد آتے ہیں! پھر وہ ایسا نقش چھوڑ جاتے ہیں جو ان مٹ ہوتا ہے۔ روشنی بکھیرتا ہے۔ اس روشنی میں قومیں مستقبل کے فاصلے طے کرتی ہیں! منزلیں سر کرتی ہیں! کامیابیاں سمیٹتی ہیں۔

نامور کالم نگار محمد اظہارالحق اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں کہ۔۔۔!!!خود ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی تاریخ میں ایسے دو دن آئے ہیں۔ چار جولائی کا دن! جب دو سو چھیالیس سال پہلے، چار جولائی 1776ء کو امریکہ کی تیرہ ریاستوں نے تاجِ برطانیہ سے چھٹکارا حاصل کیا اور ایک آزاد امریکہ وجود میں آیا۔ پھر جب 1865ء میں امریکی خانہ جنگی کا خاتمہ ہوا تو یہ دن بھی امریکہ کی تاریخ میں ایک عظیم دن ہے۔ جنوبی ریاستیں غلامی کے حق میں تھیں جب کہ مرکز (یونین) غلامی کا خاتمہ چاہتا تھا۔ فریقین میں جنگ ہوئی۔ مرکز جیت گیا۔ ابراہام لنکن اس جنگ کا ہیرو تھا۔ اس دن نے امریکہ کو عظیم سے عظیم تر بنا دیا۔ آسٹریلیا میں چھبیس جنوری کا دن آسٹریلیا ڈے کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اُس دن، 1788ء کو سڈنی کے ساحل پر برطانوی جھنڈا لہرا کر نئی کالونی کا آغاز کیا گیا تھا۔ یہی نئی کالونی آسٹریلیا کی شکل میں ایک الگ ملک بنی۔ یکم جنوری بھی آسٹریلیا کی تاریخ میں انتہائی اہم دن ہے۔ یکم جنوری 1901ء کو آسٹریلیا کا آئین بنا اور چھ ریاستیں وفاق کی شکل میں متحد ہو کر ایک ملک بن گئیں۔ تب سے یکم جنوری کو یومِ وفاق ( فیڈریشن ڈے) کے طور پر منایا جاتا ہے۔خود ہمارے لیے چودہ اگست کا دن تاریخ ساز دن ہے۔ ہندو اکثریت سے ہمیں نجات ملی ورنہ ون مین ون ووٹ کے حساب سے ہم ہمیشہ زیرِنگیں ہی رہتے۔ دوسرا اہم دن اٹھائیس مئی کا ہے جب پاکستان نے ایٹمی دھماکے کیے تھے۔

یہ دھماکے سو فیصد اپنے دفاع میں تھے کیونکہ بھارت نے اپنے ایٹمی دھماکے کے بعد خونخوار لہجہ اپنا لیا تھا اور بھیڑیا بن کر پاکستان کو میمنا سمجھنے لگا تھا۔ مگر یہ دن جس کا ذکر اس تحریر کے آغاز میں ہوا ہے، ہمارے ان دونوں اہم دنوں سے بھی زیادہ اہم ہے۔ ہمارے وزرا اور حکومتی عمائدین نے بجا طور پر مسرت کا اظہار کیا ہے۔ یہ دن ہمارے لیے قابلِ فخر ہے۔ ایسا عظیم دن ترقی یافتہ ملکوں کے نصیب میں بھی نہیں۔ مشرق وسطیٰ کے ممالک جو تیل اور سونے میں کھیل رہے ہیں، ایسے مبارک دن کا سوچ بھی نہیں سکتے۔پوری قوم کو نماز شکرانہ ادا کرنی چاہیے۔ وفاقی دارالحکومت میں شکرانے کی جو نماز ہو، اس میں صدر مملکت، وزیر اعظم اور کابینہ کے ارکان شرکت کریں۔ یہ نماز فیصل مسجد میں ادا ہونی چاہیے۔ صوبائی دارالحکومتوں میں گورنر اور وزرائے اعلیٰ نماز میں شامل ہوں۔ علمائے کرام اور مساجد کے آئمہ کو اس دن کے فیوض و برکات پر خصوصی خطبات دینے چاہئیں۔ اس دن کو قومی تعطیل کے طور پر منایا جائے۔ جشن کا سماں ہو۔ لوگ رنگا رنگ نئے ملبوسات پہن کر باہر نکلیں۔ ایک دوسرے کو مبارک دیں۔ تمام شہروں، قصبوں اور بستیوں میں اس دن آتش بازی ہو۔ اخبارات خصوصی ایڈیشن شائع کریں۔ ٹی وی چینل خصوصی پروگرام نشر کریں۔ قومی نغمے گائے جائیں۔ محکمہ ڈاک اس دن کی یادگار کے طور پر خصوصی ٹکٹ جاری کرے۔ قیدیوں کی سزا میں کمی ہونی چاہیے اور جو سزائے موت کا انتظار کر رہے ہیں‘ انہیں اس خوشی کے صدقے معاف کر دینا چاہیے۔

سفارت خانوں کو خصوصی ہدایات دی جائیں کہ دنیا بھر میں اس عظیم دن کی اہمیت واضح کریں۔ تعلیمی نصاب میں اس دن کے حوالے سے مضامین، کہانیاں اور نظمیں شامل ہوں۔ مطالعۂ پاکستان کے مضمون میں اس پر خصوصی باب ہو۔ ایم فل اور پی ایچ ڈی کے لیے اس دن کو تحقیق کا موضوع بنایا جائے۔یہ دن، یہ عظیم الشان دن، سالِ رواں کی دو فروری کا ہے۔ اس دن آئی ایم ایف نے ہمیں ایک ارب ڈالر قرض دینے کی منظوری دی۔ اس بے مثال کامیابی پر ہمارے وزیر خزانہ نے کہا ‘میں خوشی کے ساتھ اعلان کر رہا ہوں کہ آئی ایم ایف بورڈ نے پاکستان کے لیے چھٹی قسط کی منظوری دے دی ہے‘۔ ہمارے وفاقی وزیر اطلاعات نے بیان جاری کیا کہ الحمدللہ! آئی ایم ایف بورڈ نے پاکستان کو ایک ارب ڈالر کی قسط کے اجرا کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے سے معیشت کے استحکام اور اصلاحات کے عمل میں مدد ملے گی۔ہم جو عالم اسلام کی واحد ایٹمی طاقت ہیں، ہمارے لیے قرض کی یہ قسط ایک بہت بڑا انعام ہے! ایک بہت بڑی نعمت ہے! ہمیں تو اس زبردست کامیابی کے لیے کچھ زیادہ قربانی بھی نہیں دینا پڑی۔ ہم نے بس یہ کیا کہ کچھ اور تابع داریوں کے علاوہ سٹیٹ بینک کا ترمیمی بل پاس کر دیا۔ اس کے لیے حزبِ اختلاف کے کچھ معزز ارکان کو بس اپنی حُرمت گروی رکھ کر ایوان سے ذرا غائب ہونا پڑا۔ ملک اور قوم کے لیے یہ قربانی کوئی بڑی قربانی نہیں۔

آئی ایم ایف سے قرض مل جائے تو اور کیا چاہیے! عزت و حُرمت تو یوں بھی آنی جانی شے ہے! رہا سٹیٹ بینک! تو اسے ہم نے اپنے محسن آئی ایم ایف کے قدموں میں ڈال کر کوئی خاص تیر نہیں مارا۔ محسنوں کے لیے تو جان بھی دینا پڑ جائے تو بڑی بات نہیں! اور یہ تو خدا کا شکر ہے کہ ہم نے ہوش کے ناخن لیے اور ہمیں عقل آ گئی‘ ورنہ ہم تو کچھ عرصہ پہلے اس قسم کے دعوے کر رہے تھے کہ آئی ایم ایف کے پاس جانے سے بہتر ہے خود کُشی کر لیں! خود کُشی کے دعووں سے لے کر قرض ملنے پر اظہار مسرت تک ہم نے ایک طویل سفر طے کیا ہے! ہم نے اس سفر میں بہت کچھ سیکھا! ہم نے سیکھا کہ گیدڑ کی سو سالہ زندگی شیر کی ایک دن کی زندگی سے نہ صرف بہتر ہے بلکہ کئی درجے بہتر ہے! ہم نے سیکھا کہ اصول وہ ہے جس سے کچھ وصول ہو! ہم نے جان لیا کہ نماز کس کی اقتدا میں ادا کرنی ہے اور کھانا کس کے دستر خون پر اچھا ملتا ہے! ہم نے جینے کا ڈھنگ سیکھ لیا! ہمیں معلوم ہو گیا کہ عوام اپنی ذات کو پسِ پشت رکھ کر اپنے بڑوں کے لیے قربانی دیں تو اس میں عوام کسی پر کوئی احسان نہیں جتا سکتے اس لیے کہ عوام کا کام ہی یہ ہے کہ بڑوں کی خاطر اپنی، اپنے بچوں کی زندگیوں کو قربان کر دیں! ہم عوام کو تو خوش ہونا چاہیے کہ ہمارے بڑوں کی ملکیت میں مالیاتی ادارے ہیں! انہوں نے اپنی ٹیکسٹائل ملیں، اپنے ملک سے دوسرے ملکوں میں منتقل کر دی ہیں کیونکہ اصول یہ نہیں کہ اپنے ملک کی ترقی ہو۔ اصول وہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا ہے یعنی جس سے کچھ وصول ہو!چودہ اگست، تئیس مارچ اور یوم تکبیر کے ساتھ ساتھ ہم اب دو فروری کا دن بھی ہر سال منایا کریں گے۔ ہمارے تہواروں میں یہ ایک زبردست اضافہ ہے۔ اٹھائیس مئی کو یوم تکبیر پر ایٹمی دھماکہ کرکے ہم نے اپنی گردن بچائی تھی۔ دو فروری کے دن ہم نے اپنی گردن پر سنہری چُھری پھروائی ہے اور ساتھ ہی تکبیر پڑھی ہے۔ ملک سعید ہزارہ کا ایک مشہور و معروف گیت ہے جس کے بول یوں ہیں:خوش روے شالا سہریاں والا، خوشیاں مناؤ۔۔۔۔ہر ویلے وَسے سہریاں والا، خوشیاں مناؤ۔۔۔۔آئیے! ہم بھی خوشیاں منائیں۔ رقص کریں! دھمال ڈالیں

Leave a Reply

Your email address will not be published.