عمران خان کی اقتدار پر گرفت کمزور، بلندیوں سے گرنا ان کی اپنی غلطی،اکثریت کی رائے

لاہور(ویب ڈیسک)نجی نیوز چینل جیو کے مطابق غیر ملکی ذرائع ابلاغ بشمول بلوم برگ،وال اسٹریٹ جرنل،وائس آف امریکااوربزنس اسٹینڈرڈ میں افغان جنگ سے امریکی انخلاء اور کا بل پرطالبان کی فتح، سی پیک،عمران خان کا دورہ روس اوردیگر ایشوز پر پاکستان شہ سرخیوں میں رہا۔ حال ہی میں عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پرغیر ملکی میڈیا خصوصی دلچسپی لے رہا ہے۔

رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کا مستقبل غیر یقینی صورت حال سے دو چار ہے، اقتدار پر ان کی گرفت کمزور ہوتی جا رہی ہے، اتحادی بھی چھوڑنے کیلئے پر تول رہے ہیں، پارٹی میں بغاوت کے بعد وہ اقتدار پربرقرار رہنے کی کوشش میں ہیں، عمران خان نے آخری گیند تک لڑنے کا عزم کیاہے۔ عدم اعتماد کے ووٹ سے ان کا بچنا مشکل نظر آرہا ہے، عمران خان کا بلندیوں سے گرنا ان کی اپنی غلطی ہے، عمران خان تحریک عدم اعتماد ہار سکتے ہیں۔ بچ بھی گئے تو ان کو شدیدسیاسی نقصان ہوگا، وہ اپنی ہی بیان بازی میں پھنس چکے ہیں، وہ بضد رہے کہ ہر دوسرا سیاسی رہنما کرپٹ ہے اور ٹرمپ کے انداز میں، وہ اکیلے ہی پاکستان کو ٹھیک کر سکتے ہیں، حکام معیشت کی خرابی کی وجہ کووڈ اور یوکرائین بتاتے ہیں جب کہ حقیقت اس کے بر عکس ہے۔ حکومتی عہدیدار وں کے نزدیک عمران خان کا خارجہ پالیسی اور اہم تقرری پر اسٹیبلشمنٹ سے اختلاف ہے، حزب اختلاف کے نزدیک اسٹیبلشمنٹ غیر جانبدار نظر آتی ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے بلوم برگ کے ایک مضمون میں کہا گیا کہ عمران خان کا بلندیوں سے گرنا ان کی اپنی غلطی ہے، وزیراعظم عمران خان تحریک عدم اعتماد ہار سکتے ہیں اگر بچ بھی گئے تو ان کو سیاسی طور پر شدید نقصان ہوگا۔ تجزیے کے مطابق پاکستان ایک بار پھر سیاسی بحران کا شکار ہے، ایک ایسے ملک میں جہاں جمہوری طور پر منتخب رہنماؤں کو باقاعدگی سے عہدے سے ہٹایا جاتا ہے۔ یہ حیران کن نہیں، عمران خان بضد رہے کہ ہر دوسرا سیاسی رہنما کرپٹ ہے اور ٹرمپ کے انداز میں، وہ اکیلا ہی پاکستان کو ٹھیک کر سکتا ہے، موجودہ بحران میں سب سے بڑا مسئلہ معیشت کا ہے۔

سود کی شرح 10فیصد کو چھو رہی ہے، روپے کی قدر تقریباً نصف ہو چکی ہے، حکام معیشت کی خرابی کی وجہ کووڈ اور یوکرین مسئلہ بتاتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ وباسے پہلے ہی ترقی تیزی سے کم ہو رہی تھی۔ امریکی اخبار”وال اسٹریٹ جرنل“ لکھتا ہے عمران خان پارٹی اراکین کی طرف سے بغاوت کے بعد اقتدار برقرار رکھنے کی جدو جہد کر رہے ہیں، حکومت کی اتحادی جماعتیں بھی انہیں چھوڑنے پر غور کر رہی ہیں۔ عمران خان کے 2018 میں اقتدار میں آنے کو بڑے پیمانے پر امپائر کی مدد کے طور پر دیکھا گیالیکن ابھی حال ہی میں حکومتی عہدیداروں اور قانون سازوں کے مطابق، ان کی کچھ خارجہ پالیسیوں اور تقرریوں پراسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اختلاف رہا ہے۔ امریکی نشریاتی ادارہ”وائس آف امریکا“ لکھتا ہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کو متعدد قانون سازوں کے جانے کے بعد غیر یقینی مستقبل کا سامنا ہے۔ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان اقتدار پر فائز رہنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں جبکہ حکمران جماعت کے کم از کم ایک درجن قانون سازوں نے ان کے خلاف عدم اعتماد کے ووٹ سے پہلے رخ بدل لیا، اتحادی جماعتوں نے بھی عوامی طور پر پالیسی تنازعات پر الگ ہونے کی دھمکی دی ہے، جس سے سابق کرکٹ اسٹار کو درپیش سیاسی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔ امریکی نشریاتی ادارہ”بلوم برگ“ کی ایک اور رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے آخری گیند تک لڑنے کا عزم کیا کیونکہ ان کی جماعت کے مزید قانون سازوں نے انہیں چھوڑ دیا۔ یہ اشارہ ہے کہ اس ماہ متوقع عدم اعتماد کے ووٹ سے بچنا ان کے لیے مشکل ہو گا، خان کے کچھ وفاداروں نے ان سے

استعفیٰ کا مطالبہ کیا اور دعویٰ کیا کہ 70 سالہ رہنما نے تین سال سے زائد عرصے تک حاصل کی گئی پارلیمانی اکثریت کھو دی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ وہ استعفیٰ نہیں دیں گے اور وہ آخری گیند تک لڑیں گے اور عدم اعتماد کے ووٹ کو شکست دیں گے۔ جے ایس گلوبل کیپٹل لمیٹڈسے وابستہ قاسم شاہ نے کہا کہ سیاسی صورتحال کے گرم ہونے کے باعث مارکیٹ دباؤ میں ہے، اہم حکومتی اتحادی چوہدری پرویز الٰہی نے خبردار کیا تھا کہ وزیر اعظم تیزی سے اتحادیوں کو کھو رہے ہیں اور ان کے لیے اگست 2023 کو ختم ہونے والی اپنی پانچ سالہ مدت پوری کرنا مشکل ہو گا۔ حزب اختلاف کی جماعتیں وزیر اعظم پر معیشت اور خارجہ پالیسی کے غلط انتظامات بالخصوص امریکہ کے ساتھ تعلقات کو خراب کرنے کا الزام لگاتی ہیں۔ بزنس اسٹینڈرڈ نےلکھا ہےکہ اسٹیبلشمنٹ نے محسوس کیا ہے کہ خان کی قیادت میں اس کا تجربہ کارگر ثابت نہیں ہوا جس کے باعث بہت بد نامی ہوئی۔ وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری، جو کچھ برے مشوروں اور فیصلوں کے لیے ذمہ دار سمجھے جاتے ہیں، بھی جانے کی تیاری میں ہیں۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ متعدد خصوصی معاونین، مشیر اور وزراء بھی فرار ہونے کے لیے تیار تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.