عمران خان جاتے ہیں تو زردارى یا نواز شريف میں سے کون عوام کا مسيحا بن سکے گا؟ ماضی میں جائیں اور پھر فیصلہ کریں

لاہور: (ویب ڈیسک) اگلے کچھ دنوں میں کیا ہونے جا رہا ہے؟ کیا پھر سے اقتدار کے ایوانوں میں نئے چہرے آنے کو ہیں؟ کیا امپائر کی انگلی پھر سے کھڑی ہوگى؟ یہ وہ سوال ہیں، جو آجکل ہر پاکستانی کے ذہن میں امڈ رہے ہیں- سیاسی ہلچل ہر زبان پر ہے-

آج سے عمران حکومت کے خلاف صرف تحریک عدم اعتماد کی شروعات ہونے جا رہی ہے- سیشن کی مدت سات روز ہے، اس کارروائی کے دوران ووٹنگ کے عمل کے ذریعے وزیراعظم عمران خان کو اعتماد کا ووٹ حاصل کرنا مقصود ہوگا- اگر مقررہ تعداد حاصل کرنے میں ناکام ہوتے ہیں، تو موجودہ حکومت ناصرف اعتماد کھو دے گى بلکہ اپنے وزیراعظم سے ہاتھ بھی دھونا پڑے گا اور اکثریت کھونے کی بنا پر حکومت بھی جائے گی- اگر ایسا ہو جاتا ہے تو نئے سرے سے اسمبلى میں ووٹنگ کے ذریعے وزیراعظم اور حکومت چناؤ ہوگا جو کہ اس دور حکومت کے باقی ماندہ ڈیڑھ سال تک حکومت کو سنبھالنے کی پابند ہوگی- لیکن ان کی ممکنہ جگہ لینے والے چہرے کيا واقعى عوام کے لئے مسیحا بن سکیں گے؟ آئیے ان کے گزشتہ دور حکومت میں ایک نظر ڈالتے ہیں- پی پی پی پی طویل عرصے کی سیاسی جلاوطنی کے بعد جب حکومت میں آئى تو حالات بالکل مختلف اور کشمکش کا شکار تھے، معاشی حالت بھى ڈولتى ہوئی محسوس ہو رہی تھی- ملکی و غیر ملکی تجارت کے خسارے کا شکار تھے- ان کے دور حکومت میں زرمبادلہ کا اضافہ دیکھنے میں آیا مگر خاطر خواہ نہیں رہا- دہشت گردی کی لہر میں پورے ملک کو لپیٹ میں لے لیا ، جس سے زرداری حکومت نمٹنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات کرنے میں ناکام رہى- پاکستان اندھیروں میں ڈوبنے لگا، لوڈشیڈنگ سے عوام کا جینا دوبھر ہوگیا اور کاروبار کا پھٹا بیٹھنے لگا- مہنگائی کا جن بھی بے نقاب ہو گیا-

زرداری حکومت عوامی سطح پر خاطر خواہ فائدہ نہیں پہنچا سکی مگر ان کے دور حکومت میں اٹھایا گیا آئینی اقدام قابل تعریف ہے – انہوں نے صدارتی حقوق پارلیمنٹ کو دے کر تاریخ رقم کی اور آئندہ کے لئے کسى بھی غیر اخلاقی اقدام کو زد لگا دی- ان کے دور حکومت میں ڈالر 70 روپے سے بڑھ کر 118 روپے کا ہوگیا، جس سے مہنگائی کا طوفان ہر دوسرے دن امڈنے لگا – مسلم ليگ ن نے جب تیسری بار اقتدار 2013 ء میں سنبھالا تو 1999ء کے مقابلے میں پاکستان کی مختلف تصویر پائی- نواز شریف کے تینوں ادوار جہاں پاکستان کو بے پناہ ترقیاتی منصوبوں کی یاد دلاتے ہیں وہیں کچھ حلقے ان کو پاکستان کی ناکامیوں اور غلطیوں کا ذمہ دار بھی ٹھہراتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں- انہوں نے حکومت سنبھالتے ہی بجلی کے مسئلے، دہشت گردی، کراچی میں امن کے لیے سنجیدہ کوششیں تو کیں مگر مہنگائی، بے روزگاری میں کمی کے بجائے حالات ابتر ہوتے گئے- سیلز ٹیکس میں اضافہ ہوا اور روز مرہ کی اشیائے خورد و نوش اور کنسٹرکشن انڈسٹری میں مہنگائی یکدم بڑھ گئی- بجلی، گیس، پیٹرول کی قیمتيں ماہانہ نہیں بلکہ ہفتہ وار بنیادوں پر بڑھنے لگیں- ڈالر ان کے دور حکومت کے اختتام تک 115 روپے سے بھی تجاوز کر گیا- ان حقائق اور اعداد و شمار کو سامنے رکھتے ہوئے آپ کے لیے بھی فیصلہ کرنا یقیناً مشکل نہیں ہوگا- اب ديکھنا يہ ہے کہ متوقع نئے چہروں سے اصل میں نئے پاکستان کی ابتدا ہوگى يا عوام پھر سے ‘پيوستہ رہ شجر سے اميد بہار رکھ ‘ کى تصوير بنى رہ جائے گى-

Leave a Reply

Your email address will not be published.