اس کا صرف نقصان نہیں!!!! سگريٹ کا واحد فائدہ جس نے ایک نوجوان کی زندگی بنا ڈالی

لاہور: (ویب ڈیسک) تمباکو نوشى صحت کے لئے مضر ہے ‘ يہ جملہ تو آپ نے ہميشہ سنا، پڑھا اور شايد کئى افراد نے ٹوکا بھى ہوگا- ہر جگہ آپ نے لوگوں کو اس کے نقصانات گنواتے ہوئے بھی ديکھا ہوگا مگر کيا آپ کو اس کے فائدوں کا علم ہے؟ کيا آپ نے کبھى سگريٹ سے کھلونے، تکيے، جيولرى بنتے ديکھى ہے؟

کيسے استعمال شدہ سگریٹ کو استعمال میں لایا جا سکتا ہے؟ آئيں ايسے ہى ايک فرد ہى کاميابى کى کہانى بتاتے ہیں، جو سگريٹ سے جڑى ہے- جس نے سگريٹ سے اپنى زندگى تباہ نہیں کى بلکہ بنا ڈالى- دہلى، بھارت کے رہائشى نمن گپتا نے ايسا راستہ کھوج نکالا جس سے استعمال شدہ سگريٹ کو دوبارہ عام استعمال کے چيزوں میں لايا جاسکتا ہے- آپ کو معلوم ہے کہ تقریباً ہر روز بارہ بلین سگریٹ بٹ پھینکے جاتے ہیں- ہم انہیں گلیوں، محلوں، پارکوں، ساحل سمندر اور مختلف عوامى جگہوں پہ پھینکے دیکھتے ہیں لیکن ہم ان پر توجہ نہیں دے پاتے- اسى طرح ايک روز تين سال قبل نمن گپتا راہ چلتے اچانک استعمال شدہ سگریٹ سے ٹکرایا تو اسے خيال آيا کہ تمباکو نوشی کرنا دل کی تسکین کے لیے ممکن ہے مگر ہم دنیا کو اس طرح گندا نہیں کر سکتے- یہ سوچ کر اس نے کچھ نیا اور منفرد کرنے کی ٹھانی اور مختلف جگہوں پر بکھرے سگریٹ جمع کرنا شروع کر دئيے- اس نے سگریٹ بٹ کو محض ڈھائی دن میں پروسس کے ذریعے روئى میں بدل دیا- حيرت کى بات يہ ہے کہ نمن گپتا نے نہ کبھى سائنس کى تعليم لى اور نہ کوئى دلچسپى تھى مگر حیرت انگیز طور پر سائنسى پروسيس کى کھوج میں نکلا تو کامياب ہوگيا- اب بھی يہ پروسس راز، راز ہى ہے- آج نمن کا بڑے پیمانے پہ ریسائکلنگ کا کارخانہ بن چکا ہے اور ایک منافع بخش کاروبار کی شکل اختیار کر گیا ہے- اس فیکٹری میں روزانہ کى تعداد میں ایک ملین سے زائد سگریٹ بٹ آتے ہیں اور اس سے نیا مواد بنایا جاتا ہے- سگریٹ بٹ سے بنا نیا مال حیرت انگیز طور پر تمباکو سے بالکل پاک ہوتا ہے- لہٰذا اسے بغير کسى پريشانى سے استعمال کيا جاتا ہے، محفوظ بھى ہے- غير ضرورى اشياء کو کارآمد اشياء میں بدلنے کا سلسلہ يہيں نہیں رکا بلکہ اس سے نئے فارمولے کھوج نکالے اور ایسا پروسیس فارمولا تلاش کیا، جس سے پلاسٹک تيار کيا جاتا ہے اور اس پلاسٹک سے مختلف چیزیں جیسے بیگ، جیولری وغیرہ بھى بنائی جاتی ہیں-نمن ایک عام آدمی ہے، بس اس نے ایک مسئلہ دیکھا اور اسے وہيں چھوڑا نہیں بلکہ ذمہ دارى محسوس کى اور اسے ختم کرنے کی ٹھان لی- نہ صرف ختم کیا بلکہ اسے فائدہ بخش کاروبار میں بدل ڈالا- آج اگر نوجوان ذرا سی ہمت کريں تو بہت سى چھوٹى چيزوں سے کچھ بڑا کيا جاسکتا ہے، کام کوئى ناممکن نہیں چاہے چھوٹا ہو يا بڑا-

Leave a Reply

Your email address will not be published.