پاکستا ن دو حصوں میں تقسیم ہونے کے بعد جنرل(ر) امیر عبداللہ نیازی جب میانوالی گئےتووہاں کیا واقعہ پیش آیا؟تاریخ کےاوراق میں چھپا ایک ناقابل یقین واقعہ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور دفاعی مضمون نگارعمر فاروق اپنے ایک خصوصی آرٹیکل میں لکھتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔اپریل 1975 میں لیفٹیننٹ جنرل امیر عبداللہ خان نیازی (اے کے نیازی) وہ آخری قیدی تھے جنھیں انڈین فوج نے ضلع لاہور کی واہگہ چوکی کے مقام پر پاکستان آرمی کے حوالے کیا تھا۔جنرل نیازی کے بھتیجے

شیر افگن خان نیازی بھی اس وقت واہگہ میں موجود تھے جب آخری قیدی کو انڈین حکام کی جانب سے پاکستان کے حوالے کیا جا رہا تھا۔جب یہ واقعہ ہوا، اُس وقت شیر افگن نیازی خود پاک فوج میں داخلے کے امتحان میں کامیاب ہوئے تھے۔ بعدازاں فوج میں نوکری کرتے ہوئے انھوں نے بریگیڈیئر کے عہدے تک ترقی پائی جہاں سے وہ ریٹائر ہوئے۔اپنے چچا لیفٹیننٹ جنرل امیر عبداللہ خان نیازی کے بارے میں بات کرتے ہوئے شیرافگن خان نیازی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اُس وقت کسی نے ہمیں جنرل نیازی سے ملنے کی اجازتہ دی اور انھیں لاہور چھاﺅنی میں کور ہیڈکواٹرز لے جایا گیا جہاں ان کو ڈی بریف کیا گیا۔‘شیرافگن نیازی لاہور سے پھر سیدھے پاکستان ملڑی اکیڈمی کاکول پہنچے جہاں ان کی تربیت کے عمل کا آغاز ہونا تھا۔ریٹائرڈ بریگیڈیئر شیر افگن کہتے ہیں کہ پاکستان آرمی میں شمولیت اختیار کرنے کے اُن کے جذبے کا بنیادی محرک ان کے چچا یعنی جنرل نیازی ہی تھے۔کور ہیڈ کوارٹرز لاہور میں ’ڈی بریفنگ‘ کے مرحلے کے بعد جنرل نیازی براستہ سڑک اپنے آبائی علاقے میانوالی چلے گئے جہاں تمام نیازی قبیلے نے انھیں خوش آمدید کہا اور اُن کا خیرمقدم کیا۔شیر افگن نیازی کہتے ہیں کہ ’میں اس واقعے کا عینی شاہد نہیں کیونکہ مجھے کاکول اکیڈمی جانا تھا لیکن یہ میانوالی کی لوک داستان کا حصہ ہے کہ اپریل 1975 میں شہر کے داخلی راستے پر نیازی قبیلے کے تمام ذیلی قبیلے موجود تھے، جب نیازی قبیلے کے بڑوں نے جنرل نیازی کا استقبال کیا تھا۔‘

ریٹائرڈ بریگیڈیئر شیرافگن کہتے ہیں کہ فروری 1971 میں اُن کے والد لاہور میں اس وقت ڈویژن کی کمانڈ کر رہے تھے جب انھیں جنرل نیازی کے سٹاف افسر کا فون آیا کہ مجھ سے آ کر ملو۔شیر افگن نیازی بتاتے ہیں کہ ’میں اپنے والد کے ہمراہ لاہور گیا جہاں ہمیں بتایا گیا کہ جنرل صاحب کو مشرقی پاکستان کا کمانڈنگ افسر مقرر کر دیا گیا ہے اور اسی شام ان کی روانگی سے قبل یہ ہماری ان سے آخری ملاقات تھی۔‘’ہم نے خوشگوار انداز میں انھیں الوداع کیا تھا اور انھوں نے جاتے ہوئے ہم سے کہا تھا کہ میرے لیے دعا کرنا۔‘اُس زمانے میں فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے افسر سربراہ بریگیڈیئر اے آر صدیقی نے فروری 2004 میں جنرل نیازی کی وفات پر مقامی اخبار میں اپنے کالم میں تحریر کیا: ’بہادری کے لیے مشہور جنرل نیازی نے مشرقی پاکستان میں تقرر اس وقت قبول کیا تھا جب جنرل نیازی کی طرح ’ملٹری کراس‘ (برطانیہ کا اعلیٰ فوجی اعزاز) پانے والے لیفٹیننٹ جنرل بہادر شیر نے مشرقی پاکستان میں تعیناتی قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔‘’دو یا اس سے زائد جرنیلوں نے بھی مشرقی پاکستان میں تعیناتی کی پیشکش قبول نہیں کی تھی۔ اس تعیناتی میں درپیش خطرات کو پوری طرح دھیان میں لائے اور ان کے تدارک کی ضروریات کو سمجھے بغیر ہی جنرل نیازی نے ’ہاں‘ کر دی تھی۔‘’بری، بحری اور فضائی افواج کے کمانڈر کے طور پر پہلے دن سے ہی انھیں کسی قسم کی مداخلت برداشت تھی نہ ہی اپنے پیش رو اور سینیئر جنرل ٹکا خان کی نصیحت کو ہی وہ کسی خاطر میں لائے۔‘

ایک ہی مقام پر تعینات اور مشرقی پاکستان میں امن لانے کی ایک ہی ذمہ داری پر مامور دو جرنیلوں کے درمیان اس صورتحال نے کشیدہ تعلقات کو جنم دیا۔‘ریٹائرڈ بریگیڈیئر شیر افگن نے کہا کہ ’میانوالی کے نیازی قبیلے کے لوگوں اور ہمارے وسیع خاندان کے افراد کو اس امر میں ذرا سا بھی شک نہیں تھا کہ جنرل نیازی دھرتی کا ایک بہادر سپوت ہے۔‘ایک آرمی افسر کے طور پر بریگیڈیئر افگن کی پیشہ وارانہ زندگی جنرل نیازی سے قریبی طور پر استوار رہی ہے کیونکہ آرمی میں ان کا کیریئر جنرل نیازی کی ’ہوشیار نگاہوں‘ کے سامنے گزرا تھا۔ریٹائر بریگیڈیئر شیرافگن نے بتایا کہ ’ایک بار جنرل نیازی مجھ سے ملنے پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول آئے۔ اُن کی آمد کا اکیڈمی میں خوب چرچا رہا۔ میں زیرتربیت تھا اور جنرل صاحب مجھے ملنے آئے تھے اور تقریبا بیس منٹ تک میرے ساتھ رہے۔ ہر کوئی انھیں وہاں دیکھ کر بہت حیران تھا۔‘اپریل 1975 میں انڈین فوج کی قید سے رہائی اور پھر یکم فروری 2004 کو اُن کی وفات کے درمیانی عرصے میں ریٹائرڈ بریگیڈیئر شیرافگن اپنے چچا کے ساتھ طویل دانشورانہ بحث مباحثے میں مشغول رہتے تھے۔شیر افگن بیان کرتے ہیں کہ ’ہم مشرقی پاکستان کے دفاع کے لیے اختیار کی جانے والی دفاعی حکمت عملی پر مسلسل بات چیت کیا کرتے تھے۔ جنرل نیازی بار بار مقامی اور ’ڈی سینٹرلائزڈ‘ (عدم مرکزیت کی حامل) دفاعی حکمت عملی کے تصور پر بات چیت کے خواہاں ہوتے جسے انھوں نے مشرقی پاکستان میں اختیار کیا تھا۔‘ان کا کہنا تھا کہ عموماً یہ بحث مشرقی پاکستان کے مقامی دفاع سے دنیا کی فوجی تاریخ کی طرف چلی جاتی تھی۔

انھوں نے مزید بتایا کہ عمر کے آخری دنوں میں جنرل نیازی زیادہ تر دنیا کی عسکری تاریخ کے بارے میں کتابوں کا مطالعہ کیا کرتے تھے۔یہ ہے وہ خلاصہ کہ کس طرح جنرل نیازی کے خاندان کے افراد ایک ایسے آرمی جنرل کو یاد کرتے ہیں جنھیں مشرقی پاکستان کے سانحے کی تحقیقات کرنے والے ججز اور حکومتی حکام نے مالی اور اخلاقی دونوں لحاظ سے انتہائی کرپٹ شخص کے طور پر بیان کیا۔جنرل امیر عبداللہ خان نیازی مشرقی پاکستان میں تعینات مسلح افواج کے کمانڈنگ افسر تھے جب انڈین فوج نے پاکستان کے مشرقی صوبے پر قبضہ کر لیا اور 16 دسمبر 1971 کو پاکستانی افواج نے انڈین فوج کے سامنے ڈھاکہ میں ہتھیار ڈال دیے۔اس شکست کے بعد جنرل نیازی کا نام عوام میں رسوائی کی علامت بن کر سامنے آیا۔ سنہ 1982 میں جنرل نیازی کو چیف جسٹس حمود الرحمن کی قیادت میں قائم انکوائری کمیشن کے سامنے طلب کیا گیا اور اعتراف کروایا گیا۔ کمیشن نے مشرقی پاکستان میں اُن کی تعیناتی کے دوران اُن پر اخلاقی ’مس کنڈکٹ‘ کے متعدد الزامات عائد کیے گئے۔ کمیشن نے اُن پر بدعنوانی اور اخلاقی پستی کی فرد جرم عائد کی جبکہ اُن ماتحت افسران کو تنگ اور بے عزت کرنے کی بھی نشاندہی کی جو ان کے احکامات کی مخالفت کرتے تھے۔دوسری جانب جنرل نیازی نے فوجی شکست کی ذمہ داری یحیٰی خان انتظامیہ پر ڈال دی۔ کمیشن نے ایک حد تک اُن کے الزامات کو تسلیم کیا اور تنقید کرتے ہوئے حوالہ دیا کہ جنرل نیازی مشرقی کمانڈ کے سپریم کمانڈر تھے اور وہ مشرق میں ہونے والی ہر چیز کے ذمہ دار تھے۔

جنرل نیازی نے یکم فروری 2004 کو لاہور میں وفات پائی اور انھیں لاہور کے فوجی قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔چار سال قید میں رہنے کے بعد انڈیا سے رہائی ملنے پر انھوں نے فوج میں کوئی خدمات انجام نہیں دیں اور انھوں نے اپنے آبائی شہر میں اپنی ریٹائرڈ زندگی گزاری۔تاہم ان کی اگلی نسل نے آرمی میں خدمات کی انجام دہی جاری رکھی۔ ان کے بیٹوں میں سے ایک اور اُن کا بھتیجا آرمی افسر رہے جس کا جنرل نیازی نے اپنی کتاب میں حوالہ دیا ہے۔’بیٹرئل آف ایسٹ پاکستان‘ (مشرقی پاکستان کا دھوکہ) کے عنوان سے یہ کتاب انھوں نے انڈیا سے واپسی پر لکھی۔کتاب میں انھوں نے لکھا کہ نیازی ایک لڑاکا قبیلہ ہے جس نے قدیم زمانے سے خطے کے ’ملٹری وار لارڈز‘ (عسکری جتھوں کے سربراہوں) کے لیے خدمات انجام دی ہیں۔ریٹائرڈ بریگیڈیئر شیرافگن نے کہا کہ ’میری دوران ملازمت آرمی میں عمومی احساس پایا جاتا تھا کہ جنرل نیازی کو بھارتیوں کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالنے چاہیے تھے اور آخری دم تک لڑائی جاری رکھنی چاہیے تھی۔‘وہ کہتے ہیں کہ ’ہم آرمی میں اس پر بحث کیا کرتے تھے اور میں آرمی افسران کو یہ بتاتا تھا کہ جنرل نیازی کو جنرل یحیٰی نے کہا تھا کہ مغربی پاکستان کی سلامتی کی خاطر انھیں ہتھیار ڈال دینے چاہییں۔ یحیٰی نے انھیں (جنرل نیازی) کہا تھا کہ مشرقی پاکستان میں لڑائی جاری رکھ کر ہم مغربی پاکستان کی قربانی نہیں دے سکتے۔‘شیر افگن کو جب یاد دلایا گیا کہ آرمی بیریکس میں یہ عام مقولہ ہے کہ ، جو زندہ بچا وہ غازی اور جو بھاگ گیا وہ نیازی‘ تو شیر افگن نے جواب دیا کہ آرمی میں جنرل نیازی کے بارے میں کوئی منفی احساسات نہیں ہیں۔ریٹائرڈ بریگیڈیئر شیرافگن نے کہا کہ یہ مقولہ آرمی بیریکس سے نہیں آیا بلکہ اس کا ذمہ دار انڈیا ہے۔’یہ کہاوت آل انڈیا ریڈیو کی پھیلائی ہوئی ہے جس کا مقصد جنرل نیازی کو بدنام کرنا تھا۔ جنرل نیازی پاکستان آرمی کے بہت زیادہ اعزازات پانے والے ایک افسر تھے۔‘شیرافگن نے سیاستدانوں سے متعلق اپنے شدید دکھ اور کوفت کا اظہار کیا جو پارلیمنٹ میں اپنی تقاریر میں جنرل نیازی کا مذاق اڑاتے ہیں۔’میں ان سیاستدانوں کے بارے میں کچھ نہیں کہتا لیکن ہمارے خاندان اور نیازی قبیلے کا بہت ہی شدید مؤقف ہے کہ پاکستان میں کوئی بچہ ایسا پیدا نہیں ہوا جو جنرل نیازی سے زیادہ بہادر ہو۔‘شیرافگن نے بتایا کہ وہ اپنے خاندان کے لیے ایک رحم دل اور متین انسان تھے۔’ قیدی کے طور پر اپنی مدت گزارنے کے بعد جب وہ واپس آئے تو ہم نے ان کی شخصیت میں کوئی تبدیلی نہیں دیکھی۔‘یاد رہے کہ جنرل نیازی کے دونوں بیٹوں نے حال ہی وفات پائی جبکہ ان کی تینوں صاحبزادیاں بقید حیات ہیں۔(بشکریہ : بی بی سی )

Leave a Reply

Your email address will not be published.