یاسر عرفات پاکستان آئے تو ۔۔۔۔۔

لاہور (ویب ڈیسک) انڈیا کے سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی سے بھی ان کے بہت گہرے تعلقات تھے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک بار انھوں نے انڈیا میں راجیو گاندھی کے لیے انتخابی مہم چلانے کی پیشکش کی۔چنمے گریخان کا کہنا ہے کہ ’راجیو گاندھی اندرا گاندھی سے زیادہ جذباتی شخص تھے۔ اندرا ایک

حقیقت پسند خاتون تھیں اور زیادہ تجربہ رکھتی تھیں۔ راجیو گاندھی جب بھی عرفات سے ملتے تھے، تو وہ انھیں زور سے گلے لگاتے تھے۔ عرفات نے خود مجھے بتایا تھا کہ ’میں نے انھیں پیشکش کی تھی۔‘ میرے خیال میں راجیو گاندھی اس پیشکش سے ناخوش نہیں تھے۔’بعد میں عرفات نے ان کے لیے انتخابی مہم نہیں چلائی اور یہ درست نہیں لگتا کہ کوئی غیر ملکی شخص انڈیا آ کر انتخابی مہم چلائے۔ لیکن اگر وہ اپنے حامیوں کو یہ پیغام بھی دیتے کہ وہ راجیو گاندھی کو جیتتا دیکھنا چاہتے ہیں تو راجیو گاندھی کافی خوش ہوتے۔‘راجیو گاندھی کی طرح یاسر عرفات بے نظیر بھٹو کے بھی بہت قریب تھے۔ ایک بار دونوں کے درمیان ایک مضحکہ خیز واقعہ پیش آیا۔جب بے نظیر وزیرِ اعظم بنیں تو انھوں نے اپنے چیف آف پروٹوکول ارشد سمیع خان سے کہا کہ خیال رکھیں کہ میں کسی مرد لیڈر سے ہاتھ نہیں ملاتی۔اسی دوران عرفات کراچی پہنچے تو بے نظیر ان کا استقبال کرنے ایئرپورٹ گئیں۔ارشد سمیع خان اپنی سوانح عمری ’تھری پریذیڈنٹ اینڈ این ایڈ‘ میں لکھتے ہیں: ’یہ چیف آف پروٹوکول کی ذمہ داری ہے کہ وہ جہاز کے اندر جائیں اور بیرون ملک سے آنے والے مہمان کو خوش آمدید کہیں۔ میں عرفات کے جہاز کی سیڑھیاں چڑھ رہا تھا کہ بے نظیر نے مجھے بلایا اور میرے کان میں سرگوشی کی ’عرفات کو یاد دلانا مت بھولنا کہ میں مردوں سے ہاتھ نہیں ملاتی۔‘ جیسے ہی عرفات سے ملاقات ہوئی، میں نے ان سے کہا، ’ایکسی لینس، بے نظیر بھٹو نیچے آپ کے استقبال کے لیے کھڑی ہیں۔ میں آپ کو صرف یہ یاد دلانے آیا ہوں کہ وہ مردوں سے مصافحہ نہیں کرتیں۔ عرفات نے کہا ’ہاں، ہاں۔۔۔ مجھے اس بارے میں کئی بار بتایا جا چکا ہے۔ تاہم یاد دلانے کا شکریہ۔‘ارشد سمیع مزید لکھتے ہیں: ’عرفات کے اترتے ہی میں نے دیکھا کہ انھوں نے بے نظیر سے مصافحہ کرنے کے لیے اپنا ہاتھ بڑھا دیا۔ بے نظیر نے مجھے گھورتے ہوئے ہچکچاتے ہوئے اپنا ہاتھ بڑھا دیا۔ ابھی ہم لوگ چل ہی رہے تھے کہ انھوں نے مجھ سے اردو میں سرگوشی کی تاکہ عرفات نہ سمجھ سکیں، ’آپ نے انھیں نہیں بتایا کہ میں مردوں سے ہاتھ نہیں ملاتی۔‘’اس سے پہلے کہ میں جواب دیتا، عرفات نے شرارتی مسکراہٹ کے ساتھ کہا: ’شکر ادا کریں کہ میں نے آپ کو بوسہ نہیں دیا، یہ عربی رسم ہے کہ جو بھی میرے استقبال کے لیے آتا ہے میں اس کے گال چومتا ہوں، ایک بار نہیں، دو بار، دونوں گالوں پر۔ ہم تینوں ہنس پڑے اور سلامی والے سٹیج کی طرف بڑھ گئے۔‘

Leave a Reply

Your email address will not be published.