عوام کے لیے حکومت پیٹرول اور ڈیزل پر کتنا نقصان اٹھارہی ہے؟

لاہور: (ویب ڈیسک) ملک میں یکم اپریل سے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں نہ بڑھائی گئیں تو حکومت 20 ارب روپے کا اضافی بوجھ اٹھائے گی۔ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں انتہائی بلند ہیں لیکن حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کے لیے 30 جون تک پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت نہ بڑھانے کا اعلان کررکھا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ملک میں یکم اپریل سے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں نہ بڑھائی گئیں تو حکومت 20 ارب روپے کا اضافی بوجھ اٹھائے گی۔ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں انتہائی بلند ہیں لیکن حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کے لیے 30 جون تک پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت نہ بڑھانے کا اعلان کررکھا ہے۔ اس طرح حکومت عوام کو صرف پیٹرول اور ڈیزل پر ہر ماہ اربوں روپے کی سبسڈی دے رہی ہے۔ تیل کی قیمتوں پر نظر رکھنے والے ماہرین کے مطابق اس وقت آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا ڈیزل پر پرائس ڈفرینشیل کلیم (قیمت خرید اورفروخت کے درمیان فرق کا دعویٰ) 34 روپے 92 پیسے اور پیٹرول پر 23 روپے 43 پیسے فی لیٹر ہے۔ 14 مارچ سے 29 مارچ کے درمیان عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں کے تناظر میں دیکھا جائے تو یکم اپریل سے 15 اپریل کے دوران پیٹرول کی ایکس ڈپو فی لیٹر قیمت 174 روپے 64 پیسے بنتی ہے جب کہ اسے 149 روپے 86 پیسے فی لیٹر پر فروخت کیا جانا ہے۔ اسی طرح ملک میں اس وقت ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 144 روپے 15 پیسے فی لیٹر ہے جب کہ یکم اپریل سے 15 اپریل کے عرصے میں اس کی فی لیٹر ایکس ڈپو قیمت 187 روپے 25 پیسے بنتی ہے۔اگر حکومت نے یکم اپریل کو بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر عالمی منڈی کے نرخوں کے مطابق نظر ثانی نہ کی تو ملک میں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا ڈیزل پر پرائس ڈفرینشیل کلیم 43 روپے 10 پیسے اور پیٹرول پر 24 روپے 78 پیسے فی لیٹر ہوجائے گا۔ ملک میں یکم اپریل سے 15 اپریل کے درمیان پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت کا تخمینہ لگایا جائے تو ڈیزل اور پیٹرول پر پرائس ڈفرینشیل کلیم کی رقم 20 ارب روپے کے لگ بھگ ہوگی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.