وزیراعظم کےخلاف عدم اعتماد تحریک پر ووٹنگ کب ہوگی؟؟ عمران خان نے بڑا اعلان کر دیا

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ دھمکی آمیز خط امریکا نے لکھا جس میں کہا گیا کہ اگر عمران خان وزیراعظم رہے تو پاکستان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا، اتوار کو ملک کا فیصلہ ہونے لگا ہے، عدم اعمتاد پر ووٹنگ ہوگی۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج میں نے آپ سے بہت اہم بات کرنی ہے، پاکستان فیصلہ کن موڑ پر ہے، اپنی قوم کو بتانا چاہتا ہوں کہ میں سیاست میں کیوں آیا، ہمارے سامنے 2 راستے ہیں، آج بھی مجھے کسی چیز کی ضرورت نہیں، اللہ نے مجھے سب کچھ دے دیا ہے، زیادہ تر لوگوں کو سیاست میں آنے سے پہلے کوئی نہیں جانتا تھا، ہم وہ پہلی نسل تھے جو آزاد پاکستان میں پیدا ہوئے، خود داری آزاد قوم کی نشانی ہوتی ہے، پاکستان نے عظیم ملک بننا تھا، پاکستان نے اسلامی فلاحی ریاست بننا تھا، ریاست مدینہ مسلمانوں کیلئے رول ماڈل ہے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ طاقتور اور غریب کیلئے الگ الگ قانون ہو تو وہ قوم تباہ ہو جاتی ہے، ریاست مدینہ میں قانون کی حکمرانی تھی، جہاں انصاف نہ ہو وہ قومیں تباہ ہو جاتی ہیں، پیسے اور خوف کی غلامی شرک ہے، لوگ مجھے پوچھتے تھے آپ کو سیاست میں آنے کی ضرورت کیا تھی، جب میں چھوٹا تھا تو پوری دنیا میں پاکستان کی مثالیں دی جاتی تھیں، کلمہ ہمیں کسی کے سامنے جھکنا نہیں سیکھاتا، سب سے بڑا شرک پیسے کی پوجا کرنا ہے، وسطی ایشیا سے لوگ پاکستان کی یونیورسٹیوں میں آتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بھی اپنے پیغمبر کے راستے پر چلنا چاہیے، وہ عظمت کا راستہ ہے، 25 سالہ سیاست میں ایک چیز کہی ہے کسی کے سامنے نہیں جھکوں گا، ہم کسی کے خلاف نہیں لیکن مفاد پر سمجھوتہ نہیں کریں گے، ہم تمام ممالک سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں، 9، 11 میں کوئی پاکستانی ملوث نہیں تھا، اس وقت بھی دوسروں کی جنگ میں شرکت کی مخالفت کی تھی، جب مشرف ہمیں امریکا کی جنگ میں لے کر گئے میں تب بھی اسی کمرے میں بیٹھا تھا، ہمیں کہا گیا کہ امریکا کی حمایت نہ کی تو کہیں وہ ہمیں ہی نہ مار دے، میں نے ہر جگہ پر کہا ہمارا اس جنگ سے کچھ لینا دینا نہیں تھا، کیا پرائی جنگ میں پاکستانیوں کو قربان کرنا چاہیئے، دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاکستان نے سب سے زیادہ قربانیاں دیں، امریکہ کی جنگ میں شرکت سے سب سے زیادہ نقصان قبائلیوں کو ہوا، دہشتگردی کیخلاف جنگ میں ہم نے 80 ہزار جانوں کی قربانی دی، قبائلی علاقے کو میں بہت اچھی طرح جانتا ہوں، اس جنگ میں قبائلی علاقے میں کتنے ہی لوگ مارے گئے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ایک آزاد ملک کو یہ پیغام بھیجا گیا، 7 مارچ کو ہمیں کسی ملک سے ایک پیغام آیا، ہے تو یہ پیغام وزیراعظم کیلئے لیکن پوری قوم کے خلاف ہے، اس پیغام میں عدم اعتماد آنے سے پہلے ہی اس کا ذکر تھا، کہا گیا عمران خان چلا گیا تو پاکستان کو معاف کر دیا جائے گا، ہمیں کہا گیا اگر عمران خان چلا جاتا ہے تو ہم پاکستان کو معاف کرد یں گے، کہا گیا اگر عمران خان وزیراعظم رہتا ہے تو ہمارے آپ کے ساتھ تعلقات خراب ہوجائیں گے، قوم سے سوال ہے کہ کیا یہ ہماری حیثیت ہے ؟ یہ ایک آفیشل ڈاکومنٹ ہے، ہمارے سفیر کو کہا گیا، کوئی وجہ بھی نہیں بتائی گئی، ہمارے سفیر کو کہا گیا کہ جب تک عمران خان ہے تعلقات اچھے نہیں ہوسکتے، دورہ روس پر ساری مشاورت مکمل کی تھی، ہمیں بتایا گیا جب تک عمران خان ہے ہمارے تعلقات اچھے نہیں ہو سکتے، ہمیں کہا جارہا ہے کہ آپ روس کیو ں گئے، ایسے کہا جا رہا ہے جیسے ہم ان کے نوکر ہیں، یہ کہنا چاہتے ہیں کہ عمران خان کی جگہ جو آئیں گے انہیں ان سے کوئی مسئلہ نہیں ہے، پاکستان کے جانے پر اعتراض یوں اٹھایا گیا جیسے ہم ان کے نوکر ہیں، مجرم ڈکلیئر ہونے والا جھوٹ بول کر بھاگا ہوا ہے، ہمیں بتایا گیا جب تک عمران خان ہیں ہمارے تعلقات اچھے نہیں ہو سکتے، ان کو ملک کو لوٹنے والے ٹھیک لگتے ہیں لیکن عمران خان انہیں پسند نہیں ہے، ان کو تمام پاکستانی لیڈروں کا پتہ ہے کہ کس کے کتنے پیسے باہر پڑے ہیں، انہیں ہم سب سیاستدانوں کے بارے میں سب معلوم ہوتا ہے، ہمارے تین لوگ ان کو پسند آ گئے ہیں، ان تینوں نے اپنے دور حکومت میں ڈرون حملوں کی مذمت تک نہیں کی، ان تینوں کے دور اقتدار میں ڈرون حملوں کی ایک بار بھی مذمت نہیں کی گئی، 400 ڈرون حملوں کی کسی نے ایک بار بھی مذمت نہیں کی، اس لیے ان کو یہ لوگ پسند ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.