رمضان سے پہلے رمضان کى تيارى!!!وہ ضرورى کام جن کو کرنے سے خواتين کا بوجھ کم ہوسکتا ہے

لاہور: (ویب ڈیسک) ماہ رمضان اپنی تمام تر برکتوں اور رحمتوں کے ساتھ آنے کو ہے- رمضان المبارک میں معمولات زندگی بالکل تبدیل ہو جاتے ہیں- ان دنوں خواتین زیادہ مصروف دکھائی دیتی ہیں- آئيے ديکھيں کہ وہ کون سے کام ہیں جنہيں پہلے کيا جاسکتا ہے تاکہ رمضان میں آسانى رہے-

1) صفائى ستھرائى: آغاز گھر کی صفائی ستھرائی سے کريں- تفصيلى جھاڑ پونچھ کر ليں تاکہ عید کی تیاریوں کے لیے نئے سرے سے محنت نہ درکار ہو- دروازے، کھڑکیاں، پنکھے، دیواريں جھاڑ لیں – اسی طرح الماریوں میں کپڑوں کو ترتیب سے رکھا جا سکتا ہے-2) عبادت کے لئے الگ جگہ کا انتظام: رمضان میں عبادات کے لئے کمرہ يا کمرے کا حصہ عليحدہ کر ليں اور ميز پر عبادت کے لئے قرآن پاک، تسبيحات، دعاؤں کى کتب، جائے نمازيں رکھيں تاکہ ڈھونڈنا نہ پڑے- 3) غير ضرورى سکرين کا استعمال:ہر طرح کی سکرین کا اگر بائیکاٹ نہ بھی کرسکیں تو اس کا استعمال کم از کم کيا جاسکتا ہے، لغويات سے دور رہ سکيں گے- لیپ ٹاپ، ٹیبلٹ وغیرہ سامنے رکھنے کے بجائے ایسی جگہ پہ محفوظ کریں جہاں ضرورت کے وقت ہی رسائی ممکن ہو- ہر وقت سامنے نہ ہونے سے بھی غیر ضروری استعمال سے بچا جا سکے گا- 4) کچن کے مختصر کام پہلے کرليں: رمضان میں زیر استعمال اشیاء کے لئے کچن کا ایک حصہ مخصوص کرلیں- پلاسٹک کى بوتل يا جار میں سامان رکھيں تاکہ روزانہ ڈھونڈنے میں پريشانى نہ ہو اور نمایاں بھى رہے- چنے ابال کر فريز کئے جا سکتے ہیں، ضرورت کے وقت پانی میں گرم کرنے سے بالکل تازہ ہو جائیں گے- کباب تیار کرکے رکھ لیں- اسی طرح پھلکیاں بناکر کاغذ میں لپیٹ دیں- لہسن، ادرک کا پیسٹ تو تقريباً ہر گھر میں موجود ہوتا ہے- پیاز ہلکی آنچ پر فرائی کر کے کاغذ کے لفافوں میں بھر لیں اور خشک جگہ پہ رکھیں تاکہ نرم نہ پڑے- کچھ سبزیاں بھی صاف اور کاٹ کر رکھی جا سکتى ہیں، خیال رہے کہ سبزیاں اُبال کر محفوظ رکھنے سے بالکل نرم ہو جاتی ہیں اور ذائقہ بھی نہیں رہتا- اسی طرح دھنیے پودینے کی چٹنی بھی بنا کر رکھی جا سکتی ہے مگر املی بنى چٹنى محفوظ نہ کریں، چٹنی کا ذائقہ بدل کر خراب ہو جاتا ہے- چٹنی کو کسی سانچے میں فریز کیا جا سکتا ہے- 5) خريدارى مکمل کرليں: عید الفطر کی تیاری پہلے سے کر لینا بہتر ہے- پہلے مکمل کر لی جائیں تو سہولت رہتی ہے- کپڑے خرید کر سلوا کر رکھ لیں، چوڑیاں، دوپٹوں کى پیکو، بٹن، بچوں کی خریداری مکمل کرلیں- ايسا نہ ہو کہ خریداری کے ان مسائل میں اُلجھ کر برکتوں والی طاق راتيں ضائع ہو جائىں- 6) چھوٹے بچوں کى سرگرمى تيار کريں: اگرچہ چھوٹی عمر کے بچے روزے رکھنے کے قابل نہیں ہوتے مگر ان میں روزہ رکھنے کی معصوم خواہش ہر کچھ گھنٹوں بعد جاگتی رہتی ہے- ان کی عمر کے مطابق رمضان کی تیاریاں ترتیب دیں- صوم و صلوٰۃ کے شوق کو پروان چڑھانے کے لئے گھر میں ہی مسجد تیار کرلیں- اس کے لیے چارٹ پیپر پر مسجد کا گنبد بنا کر ایک دیوار پر چسپاں کيا جاسکتا ہے- کچھ رنگ بھرے چارٹ پیپر پر دعاؤں کا اہتمام بھی بچوں کو دعا مانگنے کى رغبت دے گا-

Leave a Reply

Your email address will not be published.