ہمارا شیطان بند کیوں نہیں ہوتا!!! چند کام اس رمضان ضرور کریں ساری شکایتیں دور ہوجائیں گی

لاہور: (ویب ڈیسک) رمضان کی آمد آمد ہے روبینہ کی کوشش ہوتی ہے کہ سودا سلف اسٹور کر لیا جائے ساتھ ہی سموسے رولز، بھلے وغیرہ بنا کر فریز کر لئے جائیں کیونکہ یہ چیزیں تو افطاری کی جان ہیں یہ مہینہ تو اہتمام کا ہوتا ہے۔ اب زرا شائستہ کی رمضان کی تیاریاں دیکھتے ہیں۔۔۔۔ یہ کیا ان کا تو انداز ہی انوکھا ہے ۔

انھوں نے تو رمضان شروع ہونے تک اپنے بچوں کو استقبال رمضان کے سلسلے میں عبادات پر زور دینے کے لیکچر تیار کئے ہوئے ہیں۔ وہ روزانہ بڑی محنت سے عبادات سے متعلق علماء کے لیکچر ز کے کلپس سیلیکٹ کرتی اور بعد نماز مغرب اپنے بچوں کو دکھاتی۔ یہ تھی ان کی رمضان کی تیاری!! دیکھنے میں آیا ہے کہ رمضان آتے ہی لوگ مہنگائی کا رونا روتے ہیں۔ مہنگائی کا ایک طوفان برپا ہوتا ہے لگتا ہے سارا سال رمضان کا انتظار کیا جاتا ہے کہ رمضان آئیں تو گودام میں اسٹور کی ہوئی چیزیں مہنگے داموں فروخت کی جائیں، ان حالات کو کنٹرول کرنے میں حکومتی مشینریاں بالکل ناکام ہو جاتی ہیں۔ہماری عوام حکومت کو گالیاں دیتی ہے جو کہ سراسر ہمارا اپنا قصور ہے۔ اگر ہم کھانے سے زیادہ اپنی عبادتوں پر توجہ دیں تو کیا ہی اچھا ہو۔ پھل مہنگے مل رہے نہ لیں اگر ہم کچھ دن فروٹ چاٹ نہیں کھائیں گے تو کمزور نہیں ہو جائیں گے، ہمارے نبی پاک ﷺ چند کھجوروں اور پانی سے افطار کرتے تھے آقائے دو جہاں تھے اللہ تعالی ٰ کے محبوب جن کی انگلی کے اشاروں پر چاند چلتا انھوں نے ہماری ہدایت کے لئے انتہائی سادہ زندگی گزاری فاقے بھی جھیلے- لیکن ہم نے کب نبی کی سنت اور سیرت کو اپنانے کی کوشش کی ہے، سادگی کے ساتھ افطار کریں اسی میں ہماری جسمانی اور روحانی دونوں بھلائیاں ہیں ۔ لیکن ہمیں تو رونا بھی ہے اور اپنے پیٹ کی گنجائش سے بڑھ کر کھانا بھی ہے۔ روزہ رکھ رہے کوئی فاقہ تھوڑی ہے۔دوسرے اسلامی ممالک میں رمضان آتے ہی اسپیشل آفرز ہوتی ہیں پاکستان میں پتہ نہیں ایسا کیوں نہیں ہوتا ۔پتہ نہیں ہمارا شیطان بند کیوں نہیں ہوتا؟ اگر ہم اپنے اوپر کنٹرول کریں سادگی کے ساتھ افطار سحری کریں تو شاید یہ مہنگائی کسی حد تک قابو میں آئے کیونکہ یہ مہینہ تزکیہ نفس کا ہے۔ عبادات کا ہے۔ اپنے رب کو منانا ہے۔

جتنا ہو سکے اللہ کو منائیں، روٹھے رشتہ داروں کو منائیں۔ زکوٰۃ دیں، جتنا ہو سکے صدقہ خیرات کریں کیونکہ اس مہینے میں ہم ایک قدرتی روحانیت محسوس کرتے ہیں۔ اُم المومنین حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں:’’ جب رمضان المبارک آتا تھا تو تاجدار انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا رنگ مبارک بدل جاتا تھا اور نماز میں اضافہ ہوجاتا تھا اور دعا میں بہت عاجزی فرماتے تھے اور خوف غالب ہوجاتا تھا‘‘۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ جس شخص نے کسی روزہ دار کو افطار کرایا تو اس کو گناہوں کی مغفرت اور دوزخ سے نجات ملے گی اور اس کو روزہ دار کے برابر ثواب ملے گا۔ رمضان المبارک میں حسب ذیل خصوصی عبادات ہیں: )استغفار اور کلمہ طیبہ کا ورد، (۲) نماز تراویح، (۳) نماز تہجد، (۴) نفل عبادت، (۵) قرآن حکیم کی تلاوت، (۶) غرباء اور مساکین سے غم خواہی، (۷) اعتکاف، (۸) شب قدر میں قیام۔ امام غزالیؒ اپنی تصنیف ’مکاشفۃ القلوب‘ کے صفحہ نمبر 686 پر رقمطراز ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا فرمان ہے کہ’’ جب ماہِ رمضان کی پہلی رات آتی ہے تو تمام جنتوں کے دروازے کھل جاتے ہیں اور سارا مہینہ ایک دروازہ بھی بند نہیں ہوتا اور اللہ تعالیٰ ایک آواز دینے والے کو حکم دیتا ہے کہ یہ آواز دو! اے بھلائی کے طلبگار آگے بڑھو، اے برائی کے طلبگارو پیچھے ہٹو۔ پھر فرماتا ہے: ہے کوئی بخشش مانگنے والا تاکہ اسے بخش دیا جائے؟ ہے کوئی مانگنے والا تاکہ جو مانگتا ہے اسے دیا جائے؟ ہے کوئی توبہ کرنے والا تاکہ اس کی توبہ قبول کی جائے؟ صبح طلوع ہونے تک اسی طرح آوازیں دی جاتی ہیں‘‘۔انشاءاللہ اس عزم کے ساتھ کہ اس رمضان ہم رمضان کریم کا بھرپور فائدہ اٹھائیں گے ۔اور یہ رمضان مسلمانوں اور بالخصوص پاکستان کے لیے رحمتوں اور برکتوں سے بھرپور ہوگا ۔ آمین!!!

Leave a Reply

Your email address will not be published.