خزانے سے بھرا کمرہ مگر اس کو کھولنے کا طریقہ کوئی نہیں جانتا!! سینکڑوں سالوں سے بند اس کمرے کو کھولنے والا کب پیدا ہوگا؟

لاہور: (ویب ڈیسک) علی بابا چالیس چوروں کی کہانی تو سب ہی نے سنی ہوگی جس میں ایک غار کھل جا سم سم کے منتر سے کھل جاتی ہے جس میں خزانے پوشیدہ ہوتے ہیں۔ عام طور پر بڑے ہونے کے بعد ہم سب یہ جان لیتے ہیں کہ اس کہانی کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ہے اور دنیا میں ایسا کوئی دروازہ نہیں ہے جس کو کھولا نہ جاسکے-

لیکن آج ہم آپ کو ایسے ہی ایک طلسمی دروازے کے بارے میں بتائیں گے جس میں نہ تو کوئی قبضے ہیں اور نہ ہی کنڈی لیکن اس کو کھولنےکے لیے جس منتر کی ضرورت ہے اس سے کوئی بھی واقف نہیں ہے- لیکن اس دروازے کے اندر چھپے قدیم خزانے کی موجودگی سے سب ہی متفق ہیں- جادوئی دروازے والا مندر:بھارت کے علاقے تھروا نانتھاپورم نامی علاقے میں پدما بھاشوامی نام کا ایک مندر ہے جس میں آٹھ پوشیدہ کمرے یا غاریں موجود ہیں جن میں سے سات کے دروازے کھولے جا چکے ہیں اور ان میں سے بڑی مقدار میں موجود خزانہ بھی نکالا جا چکا ہے- مگر ان میں سے آٹھویں کمرے کے دروازے کو کھولنے میں تمام لوگ سیکڑوں سالوں کی کوشش کے باوجود اب تک ناکام ہیں- پراسرار دروازے کے خفیہ محافظ: اس مندر میں موجود اس آثھویں دروازے کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ سیکڑوں سالوں سے دو خفیہ محافظ اس کمرے کے اس دروازے کی حفاظت کر رہے ہیں۔ اس کمرے کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ اس کمرے میں نہ صرف خزانہ پوشیدہ ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ایسے جادوئی راز بھی اس کے سینے میں دفن ہیں جس کے بارے میں کوئی بھی نہیں جانتا ہے-

اس مندر کے ذمہ داروں کا کہنا ہے کہ یہ دروازہ جس میں کوئی تالا موجود نہیں ہے آواز کی لہروں سے ایک خاص منتر سے بند کیا گیا ہے اور جس کو کسی خاص منتر سے ہی کھولا جا سکتا ہے جس کو کوئی بھی نہیں جانتا ہے- اس حوالے سے پنڈت اور تانترک عمل کے ماہرین کا یہ کہنا ہے کہ اس دروازے کو کھولنے کی کوشش کرنا خطرناک بھی ثابت ہو سکتا ہے کیوں کہ اس کو کسی طلسم کے ذریعے بند کیا گیا ہے-

دروازے کو ناگوں کے جادو سے بند کیا گیا ہے: اس مندر کے حوالے سے کچھ لوگوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ اس کی حفاظت کے لیے خطرناک ناگ مامور ہیں جس کی تصویر اس دروازے پر بنی ہوئی ہیں اور اگر کسی نے اس دروازے کو کھولنے کی کوشش کی تو یہ ناگ اس کو نقصان بھی پہنچا سکتے ہیں- ناگوں کے جادو سے بند کیے گئے اس دروازے کو کھولنے کا واحد طریقہ ایک خاص منتر ہے جس کے بارے میں کچھ خاص جوگیوں کو ہی پتہ تھا مگر ان کے سیکڑوں سال قبل مندر چھوڑ کر جانے کے بعد اب اس سے کوئی بھی واقف نہیں ہے- دروازے کو کھولنے والا بچہ ابھی پیدا نہیں ہوا: ہندو جوگیوں کے مطابق اس دروازے کو کھولنا ایک خاص بچے کے ہاتھ میں ہے وہ بچہ پیدائشی طور پر خاص طاقتوں کا مالک ہو گا اور وہی پیدائشی طور پر اس دروازے کو کھولنے کے منتر سے واقف ہوگا- یہ بچہ انڈیا میں ہی پیدا ہوگا مگر ابھی تک اس بچے کے پیدا ہونے کے کوئی ثبوت نہیں مل سکے ہیں- جدید ٹیکنالوجی سے دروازہ کھولا جا سکتا ہے: اس بات سے ہم سب واقف ہیں کہ سائنس نے بہت ترقی کر لی ہے اور اس قسم کے کسی بھی دروازے کو جدید ٹیکنالوجی سے کھولنا ناممکن نہیں رہا ہے- اس حوالے سے مئی 2016 میں بھارت کی سپریم کورٹ میں مندروں کی حفاظت کے ادارے نے ایک درخواست جمع کروائی جس میں انہوں نے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے اس دروازے کو کھولنے کی اجازت کی درخواست کی- جبکہ اس کے حوالے سے کچھ افراد نے جو کہ مندر کے پنڈت وغیرہ تھے انہوں نے اس کی سخت مخالفت کی کیس ابھی تک عدالت میں چل رہا ہے اور کوئی فیصلہ سامنے نہیں آسکا ہے- امید ہے کہ جلد فیصلہ سامنے آئے گا جو اس دروازے کو کھولنے کی اجازت کی صورت میں ہی ہو گا اور اس دروازے کے پیچھے چھپے رازوں سے بھی پردہ ہٹا دے گا-

Leave a Reply

Your email address will not be published.