اگر تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو گئی تو اسکے بعد پاکستان میں کیا ہو گا ؟ بی بی سی کی خصوصی رپورٹ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور صحافی شہزاد ملک بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔اپوزیشن جماعتوں نے وزیر اعظم عمران خان کے خلاف قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد جمع کروانے کے بعد عددی اعتبار سے بظاہر واضح برتری حاصل کر لی ہے اور اس حوالے سے ہونے والی ووٹنگ میں ممکنہ طور پر

عمران خان کی وزارت اعظمیٰ ختم ہو سکتی ہے۔اتوار تین اپریل کو قومی اسمبلی کے 342 نشستوں والے ایوان زیریں میں تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کا انعقاد ہو گا جہاں اگر عمران خان کے خلاف کم از کم 172 اراکین ووٹ ڈال دیں تو ان کی وزارت اعظمیٰ ختم ہو جائے گی۔بی بی سی نے قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کے پورے عمل اور اس کے بعد کی صورتحال کے حوالے سے قارئین کے ذہنوں میں اٹھنے والے چند اہم سوالات کے جوابات دینے کی کوشش کی ہے۔وزیر اعظم عمران خان کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے جمع کروائی گئی تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ ارکان قومی اسمبلی کریں گے۔رائے شماری شروع کرنے سے قبل سپیکر قومی اسمبلی پارلیمان کی عمارت میں پانچ منٹ تک گھنٹیاں بجائیں گے تاکہ جو ارکان قومی اسمبلی کے ایوان سے باہر لابی یا پارلیمان کی عمارت کی راہدایوں میں ہیں وہ ایوان میں آجائیں جس کے بعد ایوان کے دروازے بند کر دیے جائیں گے۔اس کے بعد جب تک تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کا عمل مکمل نہیں ہو جاتا، اس وقت تک کسی کو بھی قومی اسمبلی کے ایوان سے اندر اور باہر جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ووٹنگ کا عمل شروع کرنے کے لیے سپیکر قومی اسمبلی ایوان میں تحریک عدم اعتماد پڑھ کر سنائیں گے اور ایوان میں موجود ارکان قومی اسمبلی سے کہیں گے کہ جو ارکان اس تحریک کے حق میں ہیں، وہ ایک طرف موجود گیلری میں چلے جائیں جہاں پر قومی اسمبلی کا عملہ

موجود ہو گا جو ان ارکان کی حاضری لگائے گا۔ارکان قومی اسمبلی اُس وقت تک ایوان میں واپس نہیں آئیں گے جب تک سپیکر قومی اسمبلی دوبارہ گھنٹیاں نہیں بجاتے۔ اس کے بعد گنتی کا عمل شروع کیا جائے گا اور گنتی مکمل ہونے کے بعد سپیکر تحریک عدم اعتماد پر ہونے والی گنتی کا اعلان کریں گے۔کیا ایسا پہلی بار ہو گا کہ کوئی وزیراعظم تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں گھر چلا جائے؟اگر یہ تحریک کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلا موقع ہو گا کہ کسی بھی وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی ہو۔پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اس سے قبل یکم نومبر سنہ 1989 میں سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو اور اس کے بعد سنہ 2006 میں سابق وزیر اعظم شوکت عزیز کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر قومی اسمبلی میں کارروائی ہوئی تاہم دونوں مرتبہ اپوزیشن کو ناکامی کا منھ دیکھنا پڑا تھا۔وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے یا نہ ہونے کی صورت میں قومی اسمبلی کے رول 38 کے تحت سپیکر قومی اسمبلی صدر مملکت کو اس بارے میں آگاہ کریں گے۔ اس کے علاوہ قومی اسمبلی کے سیکرٹری تحریک عدم اعتماد کے نتائج کو سرکاری گزٹ میں شائع کروائے گے۔اس عمل میں روایات کے مطابق دو سے تین دن لگ سکتے ہیں جس کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس دوبارہ بلایا جائے گا۔تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کی صورت میں صدر قومی اسمبلی کا اجلاس بلائیں گے جس میں نئے قائد ایوان کے انتخاب کا عمل

شروع کیا جائے گا۔سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو جب توہین عدالت کے مقدمے میں نااہل قرار دیا گیا تو اس کے چند گھنٹوں کے بعد قائد ایوان کا انتخاب عمل میں لایا گیا تھا اور راجہ پرویز اشرف نئے وزیر اعظم منتخب ہو گئے تھے۔وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کی صورت میں پوری کابینہ تحلیل ہو جاتی ہے اور اس کے بعد وزیر اعظم کے معاونین خصوصی بھی اپنے عہدے پر برقرار نہیں رہ سکتے۔جس وقت وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو جاتی ہے تو اس کے بعد ان کا وی وی آئی پی سٹیٹس بھی ختم ہو جاتا ہے۔وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد سپیکر قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی کرنے کے بعد صدر کی ہدایت پر قومی اسمبلی کا نیا اجلاس طلب کرے گا جس میں قائد ایوان کا انتخاب ہو گا۔اس حوالے سے قومی اسمبلی کے رولز میں واضح طور پر ہدایات نہیں ہیں لیکن روایات کے مطابق دو سے تین دن میں سپیکر قومی اسمبلی کو اجلاس طلب کرنا ہو گا اور اس اثنا میں صدر پاکستان آئین کے آرٹیکل 94 کے تحت انھیں اگلا وزیر اعظم منتخب ہونے تک عہدے کی ذمہ داریاں پورا کرنے کے لیے کہہ سکتے ہیں۔قائد ایوان کے انتخاب کے عمل میں ایک یا ایک سے زیادہ امید واروں کے کاغذات نامزدگی سے لے کر کاغذوں کی جانچ پڑتال کا عمل بھی ہوگا جس کے بعد ووٹنگ کا مرحلہ شروع ہو گا۔ایک رکن کو ایک سے زیادہ مرتبہ امیدوار نامزد کیا جا سکتا ہے

لیکن تائید کنندہ اور تجویز کنندہ ایک سے زیادہ مرتبہ دستخط نہیں کریں گے۔ اسی طرح تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ ہارنے والی جماعت کسی دوسرے امیدوار کو نامزد کرنے کے ساتھ ساتھ دوبارہ اس شخص کو بطور امیدوار بھی نامزد کر سکتی ہے جو پہلے ہار چکا ہو۔ اس پر بھی قواعد و ضوابط کے تحت کوئی پابندی نہیں ہے۔قومی اسمبلی کے سپیکر تین وجوہات کی بنا پر امیدوار کے کاغذات نامزدگی مسترد کر سکتے ہیں۔ اول یہ کہ امیداور قومی اسمبلی کا رکن نہ ہو، دوئم یہ کہ قومی اسمبلی کے رول نمبر 32 کی خلاف ورزی کی گئی ہو اور سوئم یہ کہ تجویز کنندہ اور تائید کنندہ کے دستخط جعلی ہوں۔کاغذات نامزدگی مسترد یا منظور کیے جانے سے متعلق سپیکر قومی اسمبلی کا فیصلہ حتمی ہو گا۔ کاغذات نامزدگی جمع کروانے اور واپس لینے کا مرحلہ ووٹنگ سے ایک دن قبل مکمل کیا جائے گا۔اگر قائد ایوان یعنی وزیر اعظم کے عہدے کے لیے ایک سے زیادہ امیدوار ہوں تو پھر تقسیم ہو گی اور ارکان قومی اسمبلی سے کہا جائے گا کہ فلاں امیدوار کے حمایتی دائیں جانب والی لابی میں چلے جائیں اور فلاں امیدوار کے حامی بائیں جانب والی لابی میں چلے جائیں۔گنتی کا عمل مکمل ہونے کے بعد سپیکر قومی اسمبلی کامیاب ہونے والے قائد ایوان کے نام کا اعلان کریں گے۔متحدہ اپوزیشن کی طرف سے میاں شہباز شریف کو وزیر اعظم کے عہدے کے لیے نامزد کیا گیا ہے اور بظاہر متحدہ اپوزیشن کے پاس اکثریت حاصل ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ

میاں شہباز شریف وزیراعظم منتخب ہو جائیں گے تاہم اس کے ساتھ ساتھ متحدہ اپوزیشن کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کا امیدوار متفقہ ہو گا۔اس امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا کہ پی ٹی آئی قائد ایوان کے لیے اپنا امیدوار نامزد کرے گی کیونکہ پی ٹی آئی کا موقف یہ رہا ہے کہ وہ ہر فورم پر مخالف سیاسی جماعتوں کا مقابلہ کریں گے۔تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ وہ دوبارہ عمران خان کو ہی بطور وزیر اعظم نامزد کریں گی یا کسی اور کو۔قائد ایوان کا انتخاب ہونے کے بعد اسی روز صدر مملکت منتخب ہونے والے امید وار سے وزیر اعظم کا حلف لیں گے جس کے بعد وہ اپنا عہدہ سنبھال لیں گے۔ اس کے بعد اُسی روز مختصر کابینہ حلف اٹھائے گی جس کے بعد وفاقی کابینہ میں توسیع کا عمل جاری رہے گا۔جس روز وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کامیاب ہو جائے تو عام روایت یہ ہے کہ وزیر اعظم دوبارہ اپنے دفتر نہیں جاتے بلکہ اگر ان کا ذاتی سامان اس دفتر میں پڑا ہوا ہے تو ان کا عملہ وہ سامان سابق وزیر اعظم کی نجی رہائش گاہ پر پہنچا دیتا ہے۔عمران خان ویسے بھی اپنی نجی رہائش گاہ یعنی بنی گالہ میں رہتے ہیں اور ان کی رہائش گاہ کو وزیر اعظم ہاؤس کا درجہ دیا گیا ہے جبکہ ریاستی وزیر اعظم ہاؤس کو محض سرکاری مصروفیات کے لیے ہی استعمال کیا جاتا تھا۔متحدہ اپوزیشن کی طرف سے اس بارے میں یہ بات واضح طور پر نہیں بتائی جا رہی تاہم ان کا کہنا ہے کہ انتخابی اصلاحات کرنے کے بعد قبل از وقت عام انتخابات کی طرف جایا جاسکتا ہے۔وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید بھی بجٹ کے بعد ملک میں عام انتخاب کروانے کی بات کرتے رہے ہیں لیکن یہ بات انھوں نے اس وقت کہنا شروع کی جب وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی باتیں کی جانے لگی تھیں۔متحدہ اپوزیشن کی طرف سے صدر عارف علوی کے مواخذے کی بھی بات کی جا رہی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ چاروں صوبائی اسمبلیوں سے صدر عارف علوی کے خلاف مواخذے کی تحریک کو کامیاب کروائیں گے۔اس کے علاوہ متحدہ اپوزیشن نے قومی اسمبلی کے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے خلاف بھی تحریک عدم اعتماد لانے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔(بشکریہ : بی بی سی )

Leave a Reply

Your email address will not be published.