چوہدری پرویز الٰہی کی اپوزیشن سے دوری اورحکمران جماعت سے قربت کی اصل وجہ مریم نواز

لاہور (ویب ڈیسک) نامور صحافی محمد نواز رضا اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔اپوزیشن کے حلقوں کا موقف ہے کہ ایک روز قبل متحدہ اپوزیشن نے چوہدری شجاعت حسین کی خواہش پر چوہدری پرویز الٰہی کو وزیر اعلیٰ بنانے کا فیصلہ کر لیا تھا، اس سلسلے میں نواز شریف کو بھی آمادہ کر لیا تھا،

چوہدری شجاعت حسین سمیت 20افراد کی موجودگی میں چوہدری پرویز الٰہی نے وزارتِ اعلیٰ قبول کی۔ دعائے خیر کے ساتھ ’’مٹھائی‘‘ بھی کھا لی تھی کہ اگلے روز وزیراعظم نے ان کو وزیراعلیٰ پنجاب نامزد کرکے ترپ کا پتہ پھینکا لیکن چوہدری پرویز الٰہی کے بعد ایم کیو ایم اور نہ ہی ’’باپ‘‘ نے اپوزیشن کیساتھ شامل ہونے کا فیصلہ کیا بلکہ ان کی اپنی جماعت ہی تقسیم کا شکار ہو گئی۔ طارق بشیر چیمہ جو مسلم لیگ (ق) کے سیکرٹری جنرل ہیں اور عمران خان کابینہ میں وزیر ہائوسنگ و ورکس تھے، نے نہ صرف وزارت سے استعفیٰ دیا بلکہ کھل کر یہ اعلان کیا کہ وہ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد میں ووٹ دیں گے۔ مسلم لیگ (ق)، جس کے قومی اسمبلی میں 5اور پنجاب اسمبلی میں 10اراکین ہیں، منقسم ہو گئی ہے۔ چوہدری شجاعت حسین شرافت کا مجسمہ اور جہاندیدہ شخصیت ہیں، انہوں نے چوہدری پرویز الٰہی کے سیاسی کھیل سے پیدا ہونے والی بد مزگی کو نہ صرف ختم کرنے کی کوشش کی بلکہ چوہدری پرویز الٰہی کی اخلاقی و سیاسی حمایت کرکے یہ پیغام دیا کہ چوہدری برادران میں کوئی تقسیم نہیں۔ چوہدری پرویز الٰہی کا موقف ہے کہ اگرچہ متحدہ اپوزیشن کی جماعتیں ان کو پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ دینے کے لیے تیار تھیں لیکن مریم نواز کو اس فیصلے پر تحفظات تھے، اس لیے انہوں نے حکومت کی پیشکش منظور کر لی جب کہ مریم نواز نے کہا ہے ان کی جماعت نے چوہدری پرویز الٰہی کو وزیر اعلیٰ پنجاب کے طور پر قبول کر لیا

تھا۔ عمران خان کے طرز عمل نے نواز شریف اور آصف علی زرداری کو اس حد تک قریب کر دیا ہے کہ نواز شریف چوہدری پرویز الٰہی کو پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ دینے پر آمادہ ہو گئے تھے حالانکہ نواز شریف یہ سمجھتے تھے کہ چوہدری پرویز الٰہی بہت جلد پورے پنجاب کی سیاست پر اپنی گرفت مضبوط کر لیں گے اور وہ پنجاب سے مسلم لیگ (ن) کو دیس نکالا دلوا دیں گے لیکن آصف علی زرداری نے چوہدری پرویز الٰہی کے عمران خان کیمپ میں چلے جانے کا ازالہ ایم کیو ایم کے تمام مطالبات تسلیم کر کے اور سیاست کا پانسہ پلٹ کے کردیا۔انہوں نےایم کیو ایم کو ’’سادہ کاغذ‘‘ پر مطالبات لکھ کر دینے کی پیش کش کرکے اپنے دام میں پھنسا لیا اور منگل اور بدھ کی درمیانی شب ایم کیو ایم کے ساتھ معاہدہ کر کے عمران خان کو سرپرائز دیا۔ وہ تو شہباز شریف پر اس حد مہربان ہو گئے کہ انہیں متحدہ اپوزیشن کے اجلاسوں میں ’’مسٹر پرائم منسٹر‘‘ کہہ کر مخاطب کرنے لگے۔ متحدہ اپوزیشن کے سندھ ہائوس میں عشائیہ میں 199اراکین کی شرکت سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ عمران خان اکثریت کی حمایت سے محروم ہو گئے ہیں۔ اس عشائیہ میں پی ٹی آئی کے بائیس اراکین نے شرکت کی۔ عمران خان کو اب صرف 142اراکین کی حمایت حاصل ہے۔ اس دوران وزیراعظم عمران خان نے اپوزیشن سے ’’محفوظ راستہ‘‘ مانگا اور تحریک عدم اعتماد واپس لینے کی صورت میں قومی اسمبلی تحلیل کرنے کی پیشکش کی لیکن اپوزیشن نے مستعفی ہونے سے کم کوئی بات قبول کرنے سے انکار کر دیاہے۔ دو روز قبل وزیراعظم عمران خان نے قوم سے خطاب میں مجوزہ خط کے بارے میں بتایا کہ یہ امریکہ سے آیا ہے لیکن جب ان کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تو انہوں نے کہا کہ یہ خط کسی اور ملک کا تھا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.