کپتان کے خلاف عالمی طاقتوں نے سازش کیوں کی؟؟؟وسیم جبران نے ساری حقیقت کھول دی

لاہور(ویب ڈیسک) کپتان کے حکومت سنبھالتے ہی ملک ترقی کی راہ پر روشنی کی رفتار سے گامزن ہوا تو پاکستانی عوام نے سکھ کا سانس لیا کہ بالآخر انہیں ایک ایماندار رہنما نصیب ہوا۔ کپتان کے اقتدار کا پونے چار برس کا دور، مملکت ضیا داد کا روشن ترین عرصہ تھا۔ وہ ملک جو بجٹ بنانے اور امور سلطنت چلانے کے لیے بیرونی قرضوں کا محتاج تھا وہ اپنے پیروں پر کھڑا ہو گیا۔

غریب عوام نے کپتان کے مشوروں پر عمل کرتے ہوئے مرغیاں پالیں، کٹے پالے اور انڈوں کا کاروبار کر کے معیشت کو سہارا دیا۔ آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور سعودی عرب سے مدد مانگنے کی ضرورت ہی نہیں رہی تھی۔ کپتان نے کشکول توڑ دیا تھا۔ آئی ایم ایف والے کپتان کی راہ تکتے ہوئے آہ و زاری کرتے تھے کہ چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے۔ چنانچہ گلشن کا کاروبار چلانے کے لیے کپتان نے آئی ایم ایف سے قرض لے لیا اور سابقہ حکمرانوں کے تمام ادوار سے زیادہ قرض لے کر ثابت کر دیا کہ آئی ایم ایف کو ان پر کتنا اعتماد ہے۔ کپتان نے کرپشن کا بھی خاتمہ کر دیا۔ اربوں درخت لگائے، سینکڑوں ڈیم بنائے اور وزیر اعظم ہاؤس سمیت خالی پڑی بے شمار عمارات میں یونی ورسٹیاں قائم کر دیں۔ ملک سے بے روزگاری کا خاتمہ کیا اور کروڑوں نوکریاں دیں۔ یہ سب کامیابیاں اپوزیشن کو دکھائی نہیں دیتی تھیں۔ دراصل یہ سب دیکھنے کے لیے شعور کی ضرورت تھی اور جب کپتان شعور بانٹ رہا تھا تو اپوزیشن اور ان کے جیالے اور متوالے چینی ڈھونڈنے نکلے ہوئے تھے۔ لہٰذا سارا شعور قوم یوتھ لے اڑی اور انہیں صاف نظر آتا تھا کہ ملک ترقی کے سفر پر بلٹ ٹرین کی طرح محو سفر ہے۔ اپوزیشن واویلا کرتی رہی کہ مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی ہے۔ آٹا، گھی، پیٹرول، ادویات، پھل، سبزیوں سمیت ہر چیز کی قیمت تین چار سو گنا بڑھ چکی ہے۔ لیکن وہ عوام کی ٹوٹی ہوئی کمر کا ایکس رے دکھانے میں ناکام رہے اور پھر کپتان نے بتایا کہ پاکستان دنیا کا سستا ترین ملک ہے۔ باقی دنیا میں بہت مہنگائی ہے۔ چونکہ کپتان ہی واحد ایماندار لیڈر ہیں اس لیے ساری دنیا کو یقین آ گیا کہ اپوزیشن مہنگائی کا جھوٹا پروپیگنڈا کر رہی ہے۔

ملک کے اندرونی معاملات کی طرح کپتان کی خارجہ پالیسی بھی بے حد کامیاب رہی۔ یو کرین پر حملے کے وقت روس بہت تنہا تھا۔ پاکستان چوں کہ مضبوط معیشت کے ساتھ ایک طاقتور ملک بن چکا تھا اس لیے دنیا کی پرواہ نہ کرتے ہوئے کپتان نے روس کا دورہ کیا اور جس دن روس نے یوکرین پر حملہ کرنا تھا اس دن حوصلہ دینے کے لیے پیوٹن کے ساتھ رہے۔ جنگوں میں پیسے کی ضرورت بھی پڑتی ہے اس لیے روس کے ساتھ کئی ملین ٹن گندم کی امپورٹ کا معاہدہ کیا۔ کپتان کو احساس تھا کہ روس کے ساتھ بڑی زیادتی ہے کہ ہماری سب سے بڑی ایکسپورٹ مارکیٹ امریکا اور یورپ ہے جبکہ روس کے ساتھ ایکسپورٹ نہ ہونے کے برابر ہے۔ دوسری طرف ساری دنیا ایک کمزور ملک پر حملہ کرنے کے باعث روس کی مذمت کر رہی تھی۔ کپتان کی یہی فراست انہیں دیگر رہنماؤں سے منفرد بناتی ہے۔ کپتان کے دور میں ملک ہر حوالے سے ترقی کر رہا تھا، بد زبانی، اقربا پروری، رشوت، سفارش حتیٰ کہ کرپشن میں بھی ترقی ہو رہی تھی۔ کیونکہ تنزلی کا لفظ تو کپتان کی ڈکشنری میں ہی نہیں ہے۔ عالمی طاقتیں اپنا سارا کام کاج چھوڑ کر دور بین لگائے کپتان کے اقدامات کا بغور جائزہ لے رہی تھیں۔ عالمی طاقتوں نے دیکھا کہ پہلی بار مملکت ضیا داد کو ایک ایسا اہل، قابل، فاضل، ایماندار، خوددار، اور ہینڈسم لیڈر ملا ہے جس کی نظیر ملنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔

اس کے دور میں ترقی کی جو رفتار ہے اس کی بدولت ایک دو سال میں ہی ملک سپر پاور بن جائے گا۔ پھر یہ عالمی طاقتیں کشکول لے کر اس کے پیچھے پھریں گی۔ چنانچہ انہوں نے کپتان کے خلاف سازش تیار کی۔ یہ سازش بہت ہی خفیہ رکھی گئی کیوں کہ سازش ہمیشہ خفیہ ہی ہوتی ہے۔ اس سازش کو پورا کرنے کے لیے ان طاقتوں نے کپتان اور ان کی پارٹی کے سوا سب کو ساتھ ملا لیا۔ عالمی طاقتوں نے سوچا کہ اگر کپتان کو اس سازش کے بارے میں بریفنگ نہ دی تو یہ امر اخلاقیات کے منافی ہو گا۔ چنانچہ انہوں نے ایک خط لکھا۔ اس خط میں انہوں نے کپتان کو بتایا کہ ہم آپ کے خلاف ایک نہایت ہی خفیہ سازش کر رہے ہیں اور اس سازش میں آپ کی ساری اپوزیشن ہمارے ساتھ ملی ہوئی ہے۔ کپتان کو جب اس سازش کا علم ہوا تو ان کے سینے میں غصے کی آگ بھڑک اٹھی چنانچہ وہ پندرہ بیس دن تک یخ ٹھنڈا پانی پی پی کر اس آگ کو بجھاتے رہے۔ جب آگ مکمل طور پر بجھ گئی تو انہوں نے ایک جلسے میں عالمی طاقتوں کا خط لہرا کر قوم کو بتایا کہ ان کے خلاف عالمی سازش ہو رہی ہے۔ جس کا مقصد انہیں وزیراعظم کی کرسی سے ہٹانا ہے۔ اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ اب سازش کا پردہ چاک ہو چکا تھا۔ عالمی طاقتوں نے خط لکھ کر خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار لی تھی۔ کپتان چاہتے تو اقتدار کے بقیہ سوا ڈیڑھ سال کا مزا لے سکتے تھے کیونکہ پارلیمنٹ کے تمام ممبران ان سے متاثر تھے۔ وہ ان پر عدم اعتماد کر ہی نہیں سکتے تھے۔ لیکن جب ان کے اپنے ڈپٹی سپیکر نے آناً فاناً تحریک عدم اعتماد مسترد کر دی تو عالمی طاقتوں سے جذبہ خیر سگالی کے تحت انہوں نے بھی آناً فاناً قومی اسمبلی توڑ دی۔ سنا ہے اب وہ اس راوی کو ڈھونڈ رہے ہیں جو چین ہی چین لکھتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.