ڈپٹی سپیکر قاسم سوری پر” آرٹیکل 6 “نہیں لگ سکتا،سینئر صحافی انصار عباسی نے آئنی نکتہ واضع کر دیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک)انصار عباسی اپنے کالم میں لکھتے ہیں ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی نے آئین کے برخلاف رولنگ دے کر عدم اعتماد کی تحریک مسترد کی تو سیاست اور صحافت میں ایک طوفان مچ گیا۔ سپریم کورٹ نے سو موٹو نوٹس لے لیا۔ اپوزیشن اور سپریم کورٹ

بار کے نمائندے فوری عدالت پہنچ گئے۔ ڈپٹی سپیکر، وزیراعظم عمران خان وغیرہ کے خلاف آرٹیکل 6کے تحت سنگین غداری کا مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا جانے لگا۔ ہر کوئی کہنے لگا کہ آئین کو توڑ دیا گیا اور یہ کہ پاکستان میں عمران خان اور اُن کے حواریوں نے وہ کر دیا جس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ اگر غور کیا جائے تو ڈپٹی اسپیکر نے اپنے اختیارات کا ناجائز فائدہ اُٹھاتے ہوئے آئین کی ایسی تشریح کرکے عدم اعتماد کی تحریک مسترد کی جو آئین میں درج عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ کرنے کے طریقہ کار کی خلاف ورزی تھی۔ یعنی ڈپٹی اسپیکر نے اپنی تشریح کے ذریعے آئین کی ایک شق کی خلاف ورزی کی جس پر یہ کہا جانے لگا کہ یہ معاملہ آرٹیکل 6کا ہے جو حقیقتاً غلط بات ہے کیوں کہ آرٹیکل 6ایسے افراد پر لگتا ہے جو قوت کا استعمال کر کے آئین کو معطل کرتے ہیں۔ اس شق کا تعلق مارشل لاء یا 3نومبر 2007جیسی ایمرجنسی روکنے سے ہے۔ بہرحال اس تکنیکی نکتہ پر بحث کرنے کی بجائے میں آئین پاکستان کی ایک شق کی خلاف ورزی پر جس قسم کا ردِعمل سامنے آیا اُسے دیکھ کر خواہش کرتا ہوں کہ کاش ہمارے سیاستدانوں، عدلیہ اور صحافیوں، سب کا آئین کی خلاف ورزیوں پر ایسا ہی ردعمل ہو۔ کسی ایک آئینی شق کی خلاف ورزی پر تو ہم آرٹیکل 6کا مطالبہ کرتے ہیں لیکن اسی آئین کی دوسری کئی شقوں کی کھلے عام خلاف ورزی پر ہم بولتے بھی نہیں۔ یہ ایک ایسا کھلا تضاد ہے جس کا ہم سب شکار ہیں۔

ویسے تو آئین میں کئی ایسی شقیں موجود ہیں جن کی روزانہ کی بنیاد پر ہماری ریاست، حکومت، اسمبلیاں وغیرہ کھلی خلاف ورزی کرتی ہیں اور اس خلاف ورزی پر کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی، لیکن آئین کی اسلامی شقوں کے ساتھ جو اس ملک میں ہو رہا ہے وہ انتہائی افسوسناک ہے۔ ایک طرف ان شقوں کی خلاف ورزی کی جاتی ہے تو دوسری طرف کوئی اس بارے میں آواز تک بلند نہیں کرتا اور یوں محسوس ہوتا ہے جیسے آئین کی اسلامی شقیں آئین کا حصہ ہیں ہی نہیں۔ آئین کی حکمرانی اور عملداری کی بات کرنے والوں کے منہ سے کبھی یہ بات نہیں سنی جاتی کہ آخر آئینِ پاکستان کی اسلامی شقوں پر عملدرآمد کی بجائے اُن کی کھلی خلاف ورزی ایک معمول کیوں بن گیا ہے۔ مثلاً آئینِ پاکستان سود کے فوری خاتمے کا حکم دیتا ہے، معاشرے کو مکمل اسلامی ماحول فراہم کرنے کی ہدایت دیتا ہے، تمام قوانین کو اسلام کے مطابق ڈھالنے کی ڈیڈ لائن دیتا ہے. اسلامی نظریاتی کونسل کی رپورٹس پر بحث کرکے پارلیمنٹ کو اسلام مخالف قوانین میں اسلام کے مطابق ترامیم کرنے کا حکم دیتا ہے، ممبرانِ پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلیوں کی اہلیت کے لیے بہتر اور باعمل مسلمان ہونے کی پابندی عائد کرتا ہے. شراب، جوئے، جسم فروشی، فحاشی، منشیات جیسی برائیوں کے خاتمے کی ضمانت دیتا ہے۔ ان آئینی شقوں کی کھلے عام خلاف ورزی جاری ہے لیکن کوئی کچھ نہیں بولتا۔ کوئی اس پر بھی آرٹیکل 6لگانے کا مطالبہ کرے۔ ہمارا آئین جلد اور سستے انصاف کی فراہمی کا بھی حکم دیتا ہے۔ کیا عدالتیں ایسا کر رہی ہیں،

اگر نہیں تو پھر یہاں آرٹیکل 6 کس کے خلاف لگنا چاہیے؟ یہی آئین بنیادی انسانی حقوق، عورتوں، بچوں اور اقلیتوں کے حقوق کی ضمانت دیتا ہے اور لاپتہ افراد کے تصور کو ہی نہیں مانتا لیکن یہ سب بھی پاکستان میں ایک معمول ہے۔ ریاست، سیاستدان، عدلیہ اور میڈیا صرف اُس آئین اور اُن آئینی شقوں کیخلاف ورزی پر بولتے ہیں جو اُن کے لیے اہم ہیں۔ آئین کی کئی شقوں خصوصاً آئین کی اسلامی شقوں کے ساتھ جو ہو رہا ہے اُس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ بحیثیت قوم ہم آئین کو نہیں مانتے بلکہ آئین کو اپنی مرضی کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ آئینِ پاکستان کے اس استحصال پر تو آدھے پاکستان پر آرٹیکل 6لگنا چاہیے۔ ہمارے پاس آئین ضرور ہے لیکن اس پر عمل درآمد نہیں کیا جاتا۔ ہم آئین آئین کی گردان تو ضرور کرتے ہیں لیکن آئین کے ایک حصے سے سوتیلوں والا سلوک کیا جا رہا ہے۔ اس کھلے تضاد پر تو میڈیا بھی خاموش ہے کیوں کہ میڈیا کا ایک حصہ سیاسی جماعتوں کا ماوتھ پیس بن چکا۔ افسوس!

Leave a Reply

Your email address will not be published.