جہاز میں دونوں پائلٹس کو مختلف کھانا کیوں دیا جاتا ہے؟سفر کے دوران پائلٹ کے ساتھ کیا ہوتا ہے ، جا نیں دلچسپ معلومات

لاہور(ویب ڈیسک) ہوائی جہاز کا سفر کچھ لوگوں کو بہت خوفزدہ کردیتا ہے ، ان کے اندر کچھ خوف بکل مارے بیٹھے ہوتے ہیں کہ کہیں جہاز کریش نہ ہوجائے، کہیں ہائی جیک نہ ہوجائے، کہیں پائلٹ اناڑی نہ ہوں یا اسی قسم کے دوسرے خوف ۔ جبکہ کچھ لوگوں کے لئے جہاز کا سفر معمول کی بات ہوجاتی ہے ۔ وہ اپنا سفر سو کر یا موویز دیکھ کر یا کتاب پڑھ کر

یا مزے مزے کے مختلف کھانے بھی انجوائے کرکے گزارتے ہیں۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ کے اس سفر کو محفوط بنانے کے لئے جہاز کے عملے کو کتنی احتیاطیں کرنی پڑتی ہیں۔ ان کو کھانے پینے میں بھی احتیاط کروائی جاتی ہے۔ تاکہ جہاز کے مسافر صحیح سلامت بخیرو عافیت اپنی منزل پر پہنچ سکیں۔جہاز میں جہاں عملے کو مختلف سیکیورٹی ہدایات پر عمل کرنا ہوتا ہے ، وہیں ایک طریقہ کاریہ بھی ہوتا ہے کہ جہاز کے دونوں پائلٹس کو علیحدہ علیحدہ مختلف کھانا پیش کیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر ایک کھانا صحیح نہ ہو یا اس کو کھا کراگر پائلٹ اچھا محسوس نہیں کر رہا یا اس کی طبیعت وغیرہ خراب ہو رہی ہو تو دوسرا اس سے محفوظ رہے۔ اور مسافروں کی جان کا رسک نہ ہو۔اگر دونوں پائلٹس کو ایک ہی کھانا دیا جائے گا اور اس میں کوئی مسئلہ ہوا تو جہاز کو کوئی بھی حادثہ بھی پیش آ سکتا ہے۔ اسی لئے حفظ ما تقدم کے طور پر یہ کام کیا جاتا ہے کہ دونوں پائلٹس کو الگ الگ طرح کا کھانا پیش کیا جاتا ہے۔ تاکہ پائلٹس بھی محفوظ رہیں اور ان کے مسافر بھی محفوظ رہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.