جمہوری اور سیاسی اثرات کے حامل اہم عدالتی فیصلے جنہوں نے تاریخ پر اپنے ان مٹ نقوش چھوڑے

لاہور(ویب ڈیسک) پاکستان کی تاریخ میں عدالتوں نے ایسے بہت سے فیصلے کیے ہیں، جن کے ملک کی سیاسی اور جمہوری تاریخ پر بہت گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ قانونی ماہرین کے نزدیک پاکستان کی عدالتی تاریخ میں اچھے اور برے دونوں طرح کے فیصلے موجود ہیں۔ لیکن ممتاز ماہر قانون سلمان اکرم راجہ کے

بقول سیاسی اور جمہوری نظام کو تقویت دینے والے فیصلوں کی تعداد بہت کم ہے۔ کئی فیصلے ایسے بھی ہیں، جن کو ابتدائی طور پر ایک عام اور معمول کے فیصلے کے طور پر دیکھا گیا لیکن بعد میں اسے عدلیہ کی غلطیوں سے تعبیر کیا گیا۔ حال ہی میں سپریم کورٹ کی طرف سے تحریک اعتماد کے حوالے سے قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کو مسترد کیے جانے کا جو فیصلہ سامنے آیا ہے اس حوالے سے جسٹس عثمانی کہتے ہیں کہ یہ اپنی نوعیت کا ایک اہم اور منفرد فیصلہ ہے، جس کے ملک کے جمہوری اور سیاسی مستقبل پر بہت اچھے اثرات رونما ہوں گے۔ ان کے بقول اس فیصلے میں واضح طور پر سب کو سن کر سختی کے ساتھ آئین اور قانون کے مطابق فیصلہ سنایا گیا ہے۔ اس فیصلے کی وجہ سے ملک میں جاری آئینی بحران کا خاتمہ ہو گیا ہے، ”نظریہ ضرورت جسے وکلا تحریک میں بہت کاری ضرب لگی تھی۔ اب اس فیصلے سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ کئی سرگرم سٹیک ہولڈرز کی موجودگی میں اب آئین اور قانون سے انحراف پر مبنی فیصلے کرنا آسان نہیں رہا ہے۔‘‘ جسٹس(ر) شائق عثمانی بتاتے ہیں کہ پاکستانی کی سیاسی تاریخ پر بہت اثر انداز ہونے والا تاریخ کا پہلا اور اہم فیصلہ پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کے پہلے اسپیکر مولوی تمیز الدین کے کیس میں سامنے آیا تھا۔ اس وقت کی فیڈرل کورٹ کے جسٹس منیر کی سربراہی میں بننے والے بینچ نے نظریہ ضرورت کے تحت گورنر جنرل غلام محمد کی طرف سے قومی اسمبلی کی تحلیل کے فیصلے کی توثیق کی تھی۔

کئی تجزیہ نگاروں کا خیال تھا کہ نظریہ ضرورت پر مبنی اس فیصلے نے مستقبل میں کئی آمروں کے لیے سیاسی مداخلت کی راہیں کھولیں۔ یہ اتنا برا فیصلہ تھا کہ عمر کے آخری دنوں میں جسٹس منیر بھی اس پر افسوس کا اظہار کیا کرتے تھے۔ کئی قانونی ماہرین ڈوسو کیس کے فیصلے کو بھی ملک کے سیاسی اور جمہوری مستقبل کے حوالے سے اہم سمجھتے ہیں۔ اس کیس کے ذریعے ایوب خان کے مارشل لا کے نفاذ اور اس کے نتیجے میں ایک منتخب حکومت کے خاتمے کو چیلنج کیا گیا تھا۔ جسٹس منیر نے اس مقدمے میں سکندر مرزا اور ایوب خان کی جانب سے حکومت کا تختہ الٹنے کے اقدام کو دوبارہ ‘نظریہ ضرورت‘ کے تحت درست قرار دیا تھا۔ ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ بھی بعد میں ہونے والے غیر جمہوری اقدامات کو آئینی جواز مہیا کرنے کا باعث بنا تھا۔ بحال ہو کر بھی بحال نہ ہوئے۔ جسٹس (ر) شائق عثمانی کے خیال میں جونیجو حکومت کی برطرفی کے حوالے سے دائر کیے جانے والے کیس کا فیصلہ بھی بہت اہمیت کا حامل ہے۔ ان کے بقول اس کیس میں جنرل ضیاالحق کی طرف سے توڑی جانے والی جونیجو حکومت کو بحال تو کر دیا گیا تھا لیکن اس میں ڈنڈی یہ ماری گئی تھی کہ چونکہ اب الیکش کے لیے پراسس شروع کیا جا چکا ہے۔ اس لیے اب نئے انتخابات کی طرف جایا جائے۔ آئینی نہیں کرمنل کیس جسٹس (ر) شائق عثمانی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ یہ درست ہے کہ بھٹو کی پھانسی کی سزا والے فیصلے نے بھی پاکستان کی سیاست پر بہت اہم اثرات مرتب کیے۔ ان کے بقول یہ کوئی آئینی مقدمہ نہیں تھا بلکہ یہ ایک کرمنل کیس تھا۔

اس فیصلے کے بہت برسوں بعد قانونی ماہرین نے اس فیصلے کو عدالتی قتل قرار دیا۔ جسٹس (ر) عثمانی کہتے ہیں کہ جسٹس نسیم حسن شاہ نے اپنی کتاب میں اس بات کو تسلیم کیا کہ یہ فیصلہ کرنے کے لیے ان پر دباؤ تھا۔ پاکستان کے ممتاز قانون دان سلمان اکرم راجہ نے ڈوئچے ویلے کے ساتھ ایک انٹرویو میں بتایا کہ ایسا نہیں کہ ملک کے سارے اہم مقدمات سیاسی و جمہوری حلقوں کے خلاف ہی تھے۔ ان کے بقول 1988ء میں بینظیر کے اس مقدمے کا فیصلہ بھی بہت اہم ہے، جس میں شدید دباؤ کے باوجود سیاسی جماعتوں کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت ملی تھی۔ اس کیس میں عدالت نے ملک میں انتخابات جماعتی بنیادوں پر کروانے کا فیصلہ سنایا تھا۔ بعض قانونی ماہرین سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کے مقدمے میں سنائے جانے والے اس فیصلے کو بھی بہت اہم قرار دیتے ہیں، جس میں ایک خصوصی عدالت نے انہیں موت کی سزا سنائی تھی۔ یہ پہلا موقع تھا کہ کسی آمر کو آئین شکنی کے الزام میں ایسی سزا سنائی گئی تھی۔ بہت سے قانونی ماہرین جسٹس ارشاد حسن خان کی طرف سے مشرف کے غیر آئینی اقدامات کے حق میں سنائے جانے والے فیصلے، افتخار محمد چوہدری کی طرف سے ججوں کی برطرفی کے خلاف سنایا جانے والا فیصلہ، پانامہ اسکینڈل کیس میں ملک کے منتخب وزیراعظم کو ہٹانے، وزیراعظم بھٹو کی حکومت کے خلاف بیگم نصرت بھٹو کو ریلیف نہ مل سکنے اور نوے کی دہائی میں 58 ٹو بی کے ذریعے حکومتوں کی برطرفی پر آنے والے فیصلے بھی سیاسی اور جمہوری اعتبار سے دوررس اثرات کے حامل سمجھتے ہیں۔

کئی عشروں تک کورٹ رپورٹنگ کرنے والے سینیئر صحافی چوہدری خادم حسین نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ ماضی میں صدر غلام اسحق خان نے جب نواز شریف کو گھر بھیجا تھا تو اس پر عدالت نے ان کی حکومت بحال تو کر دی تھی لیکن پھر مقتدر حلقوں کی مداخلت پر دونوں کو گھر جانا پڑا تھا۔ بعض ماہرین کے نزدیک ان فیصلوں میں دیگر قوتوں کے کردار کو بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔ سلمان اکرم راجہ کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ کے تازہ فیصلے سے ایک واضح اور زور دار پیغام سامنے آیا ہے کہ کوئی سپیکر یا ڈپٹی اسپیکر بھی کسی سازش کا حصہ بن کر پارلیمنٹ کو مفلوج نہیں کر سکتا۔ یہ پیغام بھی گیا ہے کہ اگر کسی نے غیر آئینی طریقے سے جمہوری نظام کے ساتھ کھلواڑ کرنے کی کوشش کی تو اس کا راستہ روکا جا سکتا ہے۔ ان کے بقول یہ ایک اچھی پیش رفت ہے، جس کے نتیجے میں کئی اچھے فیصلوں کے آنے کی امید کی جا سکتی ہے۔ اسی طرح کے فیصلوں سے ہی ملک میں ایک ایسا ماحول بنے کا، جس میں غیر جمہوری رویوں کے سہولت کار بننے کی روش کا خاتمہ ہو گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.