عدم اعتماد کی کامیابی پر صدر مملکت کا مستقبل کیا ہوگا؟صدر کا مواخذہ کیسے ممکن ہے،اپوزیشن صدر کو کس الزام کے تحت ہٹانے کا ارادہ کھتی ہے؟؟

لاہور(ویب ڈیسک) آئین کے تحت وفاق پاکستان کی علامت صدر مملکت کے عہدے کی مدت 5 سال ہے اور اس کے لیے کم از کم 45 سال عمرہونا لازمی ہے جب کہ صدر بننے کے لیے مسلمان ہونا اور قومی اسمبلی کا رکن منتخب ہونے کا اہل ہونا بھی ضروری ہے۔

آئین کے آرٹیکل 44 اے کے تحت صدر جس دن اپنا عہدہ سنبھالے گا وہ 5 سال تک اپنے عہدے پر فائز رہے گا اور اپنی میعاد ختم ہونے کے باوجود اپنے جانشین کے عہدہ سنبھالنے تک اس عہدے پر فائز رہے گا۔ اگر عدم اعتماد کامیاب ہوجاتی ہے اور اپوزیشن اقتدار کے تخت پر بیٹھتی ہے تو یہ اس کا اختیار ہوگا کہ وہ صدر کو کام جاری رکھنے دے یا ان کو عہدے سے ہٹائے۔ پاکستان میں صدر کو ہٹانے کے لیے آئین کا آرٹیکل 47 صدر کے مواخذے کا طریقہ کار بتاتا ہے۔ اگر آنے والی حکومت صدر کو ہٹانا چاہتی تو اس کے لیے انہیں صدر کا مواخذہ کرنا ہوگا یا پھر صدر از خود اپنا عہدہ چھوڑ دیں تو وہ مواخذے سے بچ سکتے ہیں۔ آئین کے مطابق صدر کوچار چیزوں کی بنیاد پر ان کے عہدے سے برطرف کیا جاسکتا ہے جس میں جسمانی یا دماغی نااہلیت، دستور کی خلاف ورزی یا فاش غلط روی کے کسی الزام میں ان کا مواخذہ کیا جاسکتا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 47 کے تحت کسی بھی ایوان سینیٹ یا قومی اسمبلی کی کل رکنیت کے کم از کم نصف ارکان اسپیکر قومی اسمبلی یا چیئرمین سینیٹ کو صدر کی برطرفی یا مواخذہ کرنے کے لیے قرارداد کی تحریک کرنے کے اپنے ارادے کا تحریری نوٹس دیں گے اور اس نوٹس میں اس کی نااہلیت کے کوائف یا صدر کے خلاف الزام کی وضاحت ہوگی۔ اگر اس سلسلے میں شق (2) کے تحت کوئی نوٹس چیئرمین سینیٹ کو موصول ہو تو وہ اسے فوری اسپیکر کو ارسال کردے گا، پھر اسپیکر شق (2) یا شق (3) کے تحت نوٹس موصول ہونے کے تین دن کے اندر نوٹس کی ایک نقل صدر کو بھجوائے گا۔

اسپیکر نوٹس موصول ہونے کے بعد کم از کم 7 دن کے بعد اور 14 دن سے پہلے دونوں ایوانوں کا مشترکہ اجلاس طلب کرے گا۔ مشترکہ اجلاس اس بنیاد یا الزام کی تفتیش کرا سکتا ہے جس بنیاد یا الزام پر یہ اجلاس طلب کیا گیا ہو۔ آئین کے تحت یہاں صدر کو یہ حق حاصل ہوگا کہ تفتیش کے دوران وہ مشترکہ اجلاس کے سامنے خود حاضر ہو یا وکیل کے ذریعے نمائندگی کرے۔ صدر کے خلاف جمع تحریک پر تفتیش اور غورو خوض کے نتیجے میں دونوں ایوانوں کی کل رکنیت کے کم از کم دو تہائی ووٹ اس قرار داد کی منظوری میں پڑ جائیں تو صدر عہدہ سنبھالنے کا اہل نہیں رہتا۔ صدر پارلیمان میں یہ قرارداد منظور ہونے کےبعد فوری اپنا عہدہ چھوڑ دے گا۔ آئین کے آرٹیکل 46 کی شق 3 کے تحت صدر قومی اسمبلی کے اسپیکر کے نام اپنے دستخطی تحریر سے اپنے عہدے سے مستعفی ہوسکے گا۔ موجودہ صورتحال میں اپوزیشن سپریم کورٹ کے فیصلے کو جواز بناکر نگران حکومت کے لیے صدر کے اقدامات کو ان کے خلاف مواخذے کے لیے استعمال کرسکتی ہے۔ سپریم کورٹ نے نگران حکومت کے قیام کے لیے صدر کے عمل کو غیر آئینی قرار دیا ہے جب کہ ان کے اسمبلی تحلیل کرنے کے عمل کو بھی کوئی آئینی تحفظ حاصل نہیں ہے لہٰذا اپوزیشن عدالت عظمیٰ کے فیصلے کی بنیاد پر صدر پر یہ الزام عائد کرسکتی ہے کہ وہ آئین کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں۔ قانونی ماہرین کاکہنا ہےکہ جس طرح وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع ہونے کے بعد وہ اسمبلی تحلیل کرنے کی ایڈوائس نہیں بھیج سکتے اسی طرح صدر بھی اپنے آئینی اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے اسمبلی تحلیل نہیں کرسکتے۔

اس ضمن میں تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ پاکستان میں آج تک کسی صدر کو مواخذے کے ذریعے تبدیل نہیں کیا گیا ہے تاہم آئین میں صدر کو ہٹانے کے لیے یہ گنجائش موجود ہے۔ پاکستان کے آئین کے تحت صدر کی برطرفی، استعفے یا وفات کی صورت میں چیئرمین سینیٹ قائم مقام صدر کی ذمہ داریاں انجام دے گا جب کہ چیئرمین سینیٹ اگر یہ کام سرانجام دینے سے قاصر ہوں تو اسپیکر قومی اسمبلی صدر کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ پاکستان کے آئین کےتحت صدر کے عہدے کے لیے کم از کم 30 دن اور زیادہ سے زیادہ 60 میں انتخاب ہوگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.