تحریک انصاف کے پاس کون سے سیاسی، قانونی راستے باقی ہیں؟

سیاسی مبصرین اور تجزیہ كار اندازہ لگانے كی كوشش كر رہے ہیں كہ وزیراعظم عمران خان آئندہ چند روز میں اپنے مستقبل سے متعلق كیا حکمت عملی ترتیب دیتے ہیں۔

لاہور: (ویب ڈیسک) عبداللہ جان لکھتے ہیں کہ” ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی کی رولنگ پر سپریم كورٹ آف پاكستان كے حالیہ فیصلے كے بعد سب كچھ قانون و دستور كے مطابق ہو تو وزیراعظم عمران خان كے خلاف تحریک عدم اعتماد كی كامیابی یقینی نظر آ رہی ہے۔ ایسا ہونے كی صورت میں پاكستان تحریک انصاف كی وفاقی حكومت ساڑھے تین سال بعد ہی ختم ہو جائے گی، اور متحدہ حزب اختلاف كو موجودہ قومی اسمبلی كی باقی ماندہ مدت كے لیے مسند اقتدار پر براجمان ہونے كا موقع ملے گا۔

تاہم اس تمام صورت حال كے برعكس اس وقت تمام نظریں پاكستان تحریک انصاف اور اس جماعت كے سربراہ عمران خان كے مستقبل سے متعلق فیصلوں پر مركوز ہیں۔ سیاسی مبصرین اور تجزیہ كار اندازہ لگانے كی كوشش كر رہے ہیں كہ وزیراعظم عمران خان آئندہ چند روز میں اپنے مستقبل سے متعلق كیا حکمت عملی ترتیب دیتے ہیں، گذشتہ شب قوم سے اپنے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر مایوسی کا اظہار تو کیا لیکن انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اپنی سیاسی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ تجزیہ كار اور ویب سائٹ ’ہم سب‘ كے ڈائریكٹر نیوز وصی بابا (میاں آصف) کہتے ہیں: ’وزیراعظم عمران خان كے پاس بہت كم آپشنز ہیں، لیكن ان كے ماضی كو مد نظر ركھیں تو كسی انتہائی قدم كو بعید از قیاس قرار نہیں دیا جا سكتا۔‘ ان كے خیال میں پاكستان تحریک انصاف اور عمران خان كو اس وقت مدبرانہ فیصلے كرتے ہوئے اپنے كردار كو مثبت اور تعمیری بنانے كی كوشش كرنا چاہیے تاكہ وہ پاكستان كی مستقبل میں سیاست میں رہ سكیں۔ پاكستان میں عام شہری بھی نجی محفلوں میں وزیراعظم عمران خان كے پاس بچے كچے آپشنز سے متعلق گھوڑے دوڑا رہے ہیں، جبكہ سوشل میڈیا كے مختلف پلیٹ فارمز بھی كل رات سے اسی قسم كی بحث كا مركز بنے ہوئے ہیں۔ عمران خان كا استعفیٰ: عمران خان كے بحیثیت وزیراعظم استعفیٰ دینے كو ان كی طرف سے سب سے بہتر اور محفوظ آپشن قرار دیا جا رہا ہے، تاہم وزیراعظم نے اپنے گذشتہ شب کے خطاب میں ایسا کوئی اشارہ نہیں دیا۔

صحافی اور اینكر پرسن حامد میر كا كہنا تھا كہ عمران خان كے بعض قریبی ساتھیوں نے انہیں بحیثیت وزیراعظم استعفیٰ دینے كا مشورہ دیا ہے۔ استعفیٰ دینے كی صورت میں عمران خان قومی اسمبلی میں ان كے خلاف اپوزیشن كی عدم اعتماد كی تحریک كی ممكنہ كامیابی كی ہزیمت كا سامنا كرنے سے بھی بچ سكتے ہیں۔ ماہر قانون اور سیاسی تجزیہ كار شاہ خاور كا كہنا تھا كہ وزیراعظم عمران خان كو اب اپنے عہدے سے استعفیٰ دے كر متحدہ حزب اختلاف كو وفاق میں حكومت بنانے كا موقع دے دینا چاہیے۔ اجتماعی استعفے :پاكستان تحریک انصاف كے اراكین قومی اسمبلی (ایم این ایز) كے اجتماعی استعفوں كو بھی عمران خان اور ان كی جماعت كے لیے ایک آپشن سمجھا جا رہا ہے۔ صحافی اور تجزیہ كار مظہر عباس كے خیال میں پورا امكان موجود ہے كہ تحریک انصاف کے اراکین قومی اسمبلی سے استعفے دے دیں، اور ملک میں ایک سیاسی بحران پیدا كرنے كی كوشش كریں۔ تاہم انہوں نے كہا کہ تحریک انصاف صرف وفاق اور پنجاب سے استعفے دے سكتی ہے، جبكہ خیبر پختونخوا میں ایک مستحكم حكومت كو ختم كرنے كے آپشن كی طرف جانے سے گریز كریں گے۔ انہوں نے مزید كہا كہ اجتماعی استعفوں كی صورت میں پاكستان تحریک انصاف پورے ملک میں شدید احتجاجی تحریک چلا سكتی ہے، جس سے اس وقت كی وفاقی حكومت پر دباؤ میں اضافہ ہو گا۔ سیاسی مبصر ڈاكٹر عرفان احمد بیگ كے خیال میں تحریک انصاف كے پاس اجتماعی استعفوں كا آپشن موجود ہے، تاہم ایسی صورت میں قومی اسمبلی میں وزیراعظم عمران خان كے حمایتی اراکین اسمبلی كی ایک بڑی تعداد ان كا ساتھ چھوڑ سكتی ہے۔ انہوں نے کہا: ’اجتماعی استعفوں كی صورت میں امكان موجود ہے كہ سارے اراكین ایسا نہ كریں اور یہ آپشن وہ اثر قائم نہ كر پائے جس كی امید كی جا سكتی ہے۔‘

حزب اختلاف میں بیٹھنا: ڈاكٹر عرفان احمد بیگ كے خیال میں پاكستان تحریک انصاف كے پاس سب سے بہتر آپشن یہی ہے كہ وہ قومی اسمبلی میں حزب اختلاف كی نشستوں كا انتخاب كرے۔ انہوں نے كہا کہ وزیراعظم عمران خان كے خلاف اپوزیشن كی تحریک عدم اعتماد كامیاب ہونے پر انہیں بحیثیت قائد حزب اختلاف كام كرنا چاہیے۔ ان کے بقول: ’حزب اختلاف میں رہ كر عمران خان ملک میں اپنے حق میں ایسا مومینٹم پیدا كر سكتے ہیں، جو ان كے سیاسی مستقبل كے لیے مفید ہو گا۔‘ دھمکی آمیز خط كو منظر عام پر لانا : وصی بابا كے خیال میں اس كا امكان موجود ہے كہ تحریک انصاف اس دھمکی آمیز خط پر مستقبل كی سیاست كرے۔ ان کے مطابق: ’كم از كم آنے والے عام انتخابات میں وہ اس خط سے فائدہ اٹھانے كی كوشش كر سكتے ہیں۔‘ عدم اعتماد كو روكنا : بعض حلقوں كے خیال میں تحریک انصاف تین اپریل كی طرح قومی اسمبلی میں كوئی ایسا اقدام اٹھا سكتی ہے جس سے وزیراعظم عمران خان كے خلاف متحدہ اپوزیشن كی عدم اعتماد كی قرارداد پر ووٹنگ كو روكا جا سكے۔ وصی بابا كا اس سلسلے میں كہنا تھا: ’جو تین اپریل كو ہوا اسے دیكھیں تو كچھ بھی ہونے كا امكان بالكل موجود ہے۔‘ تاہم مظہر عباس كے خیال میں سپریم كورٹ كا فیصلہ ایسے كسی امكان كی گنجائش كو روكنے كے لیے كافی ہے۔ انہوں نے كہا كہ سپریم كورٹ كے فیصلے كی روشنی میں قومی اسمبلی اور تحریک عدم اعتماد كے متعلق ’اگر مگر‘ كی كوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی۔ انتہائی قدم : ڈاكٹر عرفان احمد بیگ كا كہنا تھا كہ عمران خان انتہائی قدم بھی اٹھا سكتے ہیں، جس میں وہ ریاستی اداروں كے خلاف مہم شروع كریں۔ تاہم انہوں نے كہا كہ ایسا كرنے میں عمران خان اور ان كی جماعت كے لیے خطرات بہت زیادہ ہیں۔ مظہر عباس كا كہنا تھا كہ عمران خان كے پاس سب سے بہترین آپشن عوام كے پاس جانے كا ہے، جو ان كی مستقبل كی سیاست كے لیے مفید ثابت ہو گا۔ صحافی اور اینكر پرسن فہد حسین نے ایک ٹویٹ میں پاكستان تحریک انصاف كی موجودہ ٹیم كو تاریخ كی كمزور ترین ٹیم قرار دیتے ہوئے وزیراعظم عمران كو اسے مكمل طور پر فارغ كرنے كا مشورہ دیا۔ فیصلے پر نظر ثانی كی درخواست :فاقی وزیر قانون اور اطلاعات چوہدری فواد حسین نے جمعے كو میڈیا سے گفتگو میں كہا كہ تحریک انصاف كی قانونی ٹیم سپریم كورٹ كے فیصلے پر نظر ثانی كی درخواست دائر كرنے پر غور كر رہی ہے۔ انہوں نے كہا كہ سپریم كورٹ نے عدم اعتماد كی تحریک كے پیچھے مبینہ سازش سے متعلق ثبوت كو دیكھے بغیر فیصلہ دیا ہے۔ یاد رہے كہ سپریم كورٹ كے كسی فیصلے كے خلاف نظر ثانی كی درخواست جمع کروائی جا سكتی ہے جسے فیصلہ دینے والا بینچ ہی سنتا ہے۔ قانونی ماہرین كے مطابق نظر ثانی كی درخواست فیصلے میں كسی بہت بڑی قانونی غلطی كی نشاندہی كی خاطر دائر كی جا سكتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.