عمران خان نے صدرممنون حسین سے کیا درخواست کی تھی ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور صحافی فاروق عادل بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔’لوگ سوچتے تھے کہ صدر ممنون حسین عمران خان سے حلف کیسے لیں گے اور عمران خان کا سامنا ممنون صاحب سے ہو گا تو ان کا ردعمل کیا ہو گا۔‘صدر ممنون حسین اور عمران خان کا آمنا سامنا بھی ایک

اعتبار سے یادگار تھا لیکن اس سے قبل ایک اور واقعہ رونما ہوا۔ عمران خان حلف اٹھانے کے لیے ایوان صدر پہنچے تو گراؤنڈ فلور کے پورچ پر صدر مملکت کے سیکریٹری نے اُن کا خیر مقدم مصافحے کے ساتھ کیا۔ قومی اسمبلی سے منتخب ہو کر ایوان صدر کی دہلیز پر کھڑے وزیراعظم نے ایک نگاہ اٹھا کر اپنا خیر مقدم کرنے والے کی طرف دیکھا۔ ان کی آنکھوں میں سوال تھا جیسے جاننا چاہتے ہوں کہ آپ کون؟خیر مقدم کرنے والے نے اگلے ہی لمحے بغیر کسی سوال کے کہا کہ ’شاہد خان، سیکریٹری ٹو دی پریزیڈنٹ۔‘نو منتخب وزیر اعظم لحظہ بھر کو ٹھٹک گئے۔ یوں لگتا تھا کہ انھیں جیسے اپنے دھرنے کی تقریریں یاد آ گئی ہوں جن میں وہ وفاقی سیکریٹری داخلہ کو نام لے لے کر للکارا کرتے تھے۔ انھوں نے تصدیق چاہی کہ ’وہی شاہد خان جو سیکرٹری داخلہ تھے۔‘شاہد خان نے مسکراتے ہوئے سر اثبات میں ہلا کر جواب دیا کہ ’جی وہی‘ اور ہاتھ کے اشارے سے نو منتخب وزیر اعظم کی رہنمائی کی ’سر اس طرف۔‘لفٹ میں مہمان، اُن کے ملٹری سیکریٹری اور میزبان تھے۔ مہمان کے ہاتھ میں وہی مختصر تسبیح تھی جو تصویروں میں دکھائی دیا کرتی تھی۔ لفٹ کے مختصر سے سفر میں مہمان کی انگلیاں تسبیح پر گھومتی رہیں، یقیناً اس دوران میں وہ زیر لب وہی کچھ پڑھ رہے ہوں گے جو وہ پڑھا کرتے ہوں گے۔ انھیں زبان سے کچھ کہنے کی ضرورت تھی، نہ انھوں نے کچھ کہا۔ذرا سی دیر کے بعد وہ ’پنک روم‘ کے دروازے پر تھے، اور تھوڑا ہی عرصہ قبل جس کا یہ بے

معنی نام تبدیل کر کے تحریک پاکستان کے ایک بڑے رہنما مولانا محمد علی جوہر سے منسوب کرتے ہوئے جوہر روم رکھا گیا۔ایوان صدر کے بڑے بڑے کمروں کے مقابلے میں جوہر روم نسبتاً چھوٹا لیکن آرام دہ کمرہ ہے۔ ڈرائنگ روم کہہ لیجیے۔ یہی وہ کمرہ ہے جس میں بانی پاکستان کی ایک تاریخی تصویر آویزاں ہے جس میں امریکا کے سفیر معمول سے کافی زیادہ جھکتے ہوئے بانی پاکستان محمد علی جناح کی طرف نہایت احترام کے ساتھ بڑھ رہے ہیں۔سربراہان مملکت اور غیر ملکی وفود سے ملاقاتیں عام طور پر چوتھی منزل کے جناح روم میں ہوا کرتی ہیں لیکن کبھی کبھی یہاں بھی کر لی جاتی ہیں۔ سربراہان مملکت کے دوروں کے موقع پر مرکزی تقریب شروع ہونے سے قبل مہمان اور میزبان بھی کچھ دیر کے لیے یہیں قیام کرتے ہیں۔روایت یہ ہے کہ حلف اٹھانے کے لیے آنے والے وزرائے اعظم سب سے پہلے صدر مملکت سے تنہائی میں ملاقات کرتے ہیں۔ یہ ملاقات صدر مملکت چیمبر یعنی دفتر میں نہ ہو تو اسی جوہر روم میں ہوتی ہے جسے کبھی ’پنک روم‘ کے نام سے یاد کیا جاتا تھا۔عمران خان جوہر روم میں داخل ہوئے تو وہاں پہلے سے موجود صدر ممنون حسین نے آگے بڑھ کر ان کا خیر مقدم کیا اور انھیں مبارکباد دی۔ عمران خان نے بہت دھیمی آواز میں، جیسے کوئی راز داری کیا کرتا ہے، جواب دیا کہ ’شکریہ‘ اور بیٹھنے کے لیے آگے بڑھ گئے۔صدر ممنون حسین کو اس لمحے عمران خان کچھ محجوب یا کنفیوز سے محسوس ہوئے۔ صدر مملکت اپنی مخصوص نشست پر بیٹھ گئے۔ اس دوران عمران کی نگاہیں سامنے کی چھت اور دیوار پر لگی رہیں۔ چند منٹ کی ملاقات کے دوران عمران خان نے صرف ایک ہی جملہ کہا جو ایک درخواست تھی۔انھوں نے صدر ممنون حسین سے کہا کہ ’حلف کی تحریر میرے لیے مشکل ہو گی، اس طرح پڑھیے گا کہ میرے لیے مشکل نہ ہو۔‘میزبان نے اپنے مہمان کی اس خواہش کا خیال رکھا۔ حلف برداری کی اس تقریب کی تفصیلات بھی دلچسپ اور یادگار ہیں لیکن یہ جاننا دلچسپ ہے کہ حلف نامہ وزیراعظم تک کیسے پہنچتا ہے۔حلف برداری کی تقریب کا میزبان ایوان صدر ضرور ہوتا ہے لیکن ریاست کی اس اہم ترین سرگرمی کا اہتمام کیبنٹ ڈویژن کرتا ہے۔آئین پاکستان کے جدول سوم میں شامل ریاست کے اعلیٰ ترین مناصب میں شامل وزیراعظم کے حلف کو نو منتخب وزیر اعظم نے نام کے اضافے کے ساتھ ان کی خواہش کے مطابق اردو یا انگریزی زبان میں پرنٹ کر کے ایک دیدہ زیب منقش سبز فائل میں رکھ کر وزیراعظم کو پہلے سے پہنچا دیا جاتا ہے تاکہ وہ ریہرسل کر لیں۔اس تقریب کے میزبان بھی سیکریٹری کیبنٹ ہوتے ہیں جو صدر مملکت کو حلف کے لیے مدعو کرتے ہیں۔(بشکریہ : بی بی سی )

Leave a Reply

Your email address will not be published.