اب عمران خان کو کیوں نکالا؟: آمنہ مفتی کا فکرانگیز کالم

لاہور(ویب ڈیسک) جیسے تتو تھمبو کر کے وزیر اعظم بنایا تھا اسی طرح ڈنڈا ڈولی کر کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ یہ سیاست ہے اور یہاں تخت سے تختے کے درمیان فاصلہ کچھ اتنا زیادہ نہیں ہوتا۔ دکھ اس بات کا ہوا کہ ابھی تک پاکستان کی تاریخ میں کوئی بھی وزیراعظم

اپنی مدت پوری نہ کر سکا، خوشی اس بات کی کہ جیسی بھی آئی تبدیلی، آئین و قانون کی حدود کے اندر ہی آئی۔ نیوٹرل والے کتنے نیوٹرل ہیں یہ تو اب ملک کا بچہ بچہ جانتا ہے لیکن عمران خان نے ایک بہت اچھا موقع ایک نااہل ٹیم کے باعث بہت بری طرح ضائع کیا۔ ایک صفحے کی جس کہانی پہ ان کو بہت مان تھا چاہتے تو اس کا فائدہ اٹھا کر ملک اور عوام کے لیے بہتری کرتے لیکن انھوں نے جانے کس کے مشورے پہ عوام سے بھی سیاست شروع کر دی اور سوائے بھینسیں بیچنے، سرکاری عمارتوں کو بھوت یونیورسٹیاں بنانے، مقبول سیاست کے پتے اچھالنے کے کچھ نہ کیا۔ ان کی نیت یقیناً نیک ہو گی، لیکن ان کے مشیر ہی ایسے نکلے اور ہر مشورہ ایسا دیا کہ آخر آج کا دن آ لگا۔ افسوس، وہ نوجوان جو عمران خان کو اپنی امید سمجھتے تھے کس قدر مایوس ہوں گے۔ خان صاحب نے ان برسوں میں کچھ نہ کچھ اچھا بھی کیا ہو گا لیکن ان کے دور میں بدزبانی کے فن کو جو عروج نصیب ہوا وہ رہتی دنیا یاد رکھا جائے گا۔ معاملات ابھی تک الجھے ہوئے ہیں۔ تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو گئی، منحرف ارکان بھی ووٹ نہ دے کر نااہل ہونے سے بچ گئے اور اگر خان صاحب کی پارٹی اور سیاست باقی رہی تو ایک سبق ان کے لیے بہت کافی ہو گا کہ خاکی انڈوں سے کچھ برآمد نہیں ہوتا سوائے سڑاند کے۔ سب چہرے وہی ہیں، سب لوگ وہی ہیں،

ادھر کے بنچوں پہ بیٹھے الیکٹ ایبلز تھے یا ادھر کے بنچوں پہ بیٹھے سردوگرم چشیدہ سیاستدان۔ نیا پاکستان، پرانا پاکستان، سب ایک سے ہی نظر آتے ہیں۔ ہمیں نہ تو خان صاحب سے ہی امید تھی کہ وہ ٹوپی سے کبوتر برآمد کریں گے اور نہ ہی کسی اور سے کوئی امید ہے۔ ہو گا وہی جو انھوں نے سوچا ہوا ہے جن کا یہ کھیل ہے۔ دو ہاتھیوں کی اس جنگ میں گھاس کچلی گئی۔ امید یہ ہی ہے کہ عمران خان اور ان کے ساتھیوں کو سیاسی انتقام کا نشانہ نہ بنایا جائے لیکن، ہماری خواہشوں اور امیدوں پہ ملک چلتے تو آج دنیا بہت مختلف ہوتی۔ رہی بات غیر ملکی سازش کی تو جو ہوا سامنے آ ہی جائے گا۔ غیر ملک سازش جن کے ساتھ مل کے کرتا ہے ان کے بارے میں سیانے بہت پہلے کہہ گئے تھے کہ ان کی نہ اگاڑی اچھی نہ پچھاڑی۔ خان صاحب شوکت خانم کے لیے عطیات جمع کر رہے تھے، پرانے دن یاد آ گئے۔ کاش خان صاحب اس واقعے سے سبق سیکھیں وزات عظمیٰ کا کانٹوں بھرا تاج اوڑھ کے دیکھ لیا۔ آئندہ اپنے نظریاتی ساتھیوں کو یاد رکھیں۔ اپنے ووٹ بینک کی قدر کریں، انھیں مزید خوار نہ کرائیں۔ اصولی سیاست کریں اور نوجوانوں کے لیے سچ مچ ایک مثالی سیاستدان بن کے سامنے آئیں جو واقعی نہ بکنے والا ہو نہ جھکنے والا۔ عہدے تو آنی جانی شے ہے، خود ہی دیکھ لیجیے راجہ باسک آپ کے تخت کے نیچے سے کھسکے تو نہ وہ تاج رہا، نہ محل سرا، نہ تخت اور نہ ہی وہ بندوق جس کی شست باندھ کر آپ مخالفوں کا شکار کھیلتے تھے۔ باقی بس اللہ!

Leave a Reply

Your email address will not be published.