یہ خطرناک جانور آسانی سے عام لوگوں کو کیوں نظر نہیں آتے؟

لاہور(ویب ڈیسک) یہ ایک ایسا کیڑا ہے جو پتے کی شکل میں موجود ہوتا ہے، جنگل میں رہنے والے کئی ایک جانوروں کی خوراک بننے سے بچنے کیلئے یہ کیڑا ایک پتے کا روپ دھار لیتا ہے تب ہی اس کی جان بچ پاتی ہے۔اس جانور کا نام ایسٹرن سکریچ الو ہے جو جس بھی سوکھے ہوئے درخت پر بیٹھتا ہے بالکل اسی طرح کا روپ دھار لیتا ہے۔

اگر یہ اپنی آنکھیں بند کر لیں تو کوئی پہچان ہی نہیں سکتا کہ یہ درخت میں کوئی الو بیٹھا بھی ہے یا نہیں سب ہی یوں سمجھیں گے کہ جیسے یہ درخت کا ہی حصہ ہے۔اس لیے اگر کوئی انہیں درخت پر بیٹھا ہوا دیکھ لے تو یوں سمجھتا ہے کہ جیسے اس درخت کی آنکھیں ہوں۔اس جانور کا نام دی بف ٹپ موتھ ہے جو دیکھنے میں یوں لگتا ہے کہ کوئی چھوٹا سا لکڑی کا ٹکڑا گرا ہوا ہے لیکن جب یہ ہلتا یا پھر چلتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ نہ نظر آنے والا جانور ہے۔یہ عموماََ جون جولائی کے ماہ میں ہی دیکھنے کو ملتے ہیں۔اس جانور کا نام ہے پگمی سی ہورس، ایک نظر میں تو یہ یوں لگتا ہے کہ جیسے کوئی پیڑ پودا ہے لیکن ایسا ہے نہیں کیونکہ یہ سمندر کی تہہ میں پائے جانے والا چھوٹا سا جانور ہے جو کم ہی لوگوں کو دیکھائی دیتا ہے۔بڑی بڑی مچھلیوں اور دیگر سمندری حیات سے بچنے کیلئے یہ چھوٹا سا جانور اپنا رنگ کئی مرتبہ بدل لیتا ہے۔یہ زیادہ تر انڈونیشیا، جاپان اور نارتھ آسٹریلیا میں پائے جاتے ہیں۔اس جانور کا نام لیف ٹیلڈ گیکو ہے، یہ اس پیڑ پر کافی دیر بنا حرکت کیے بیٹھی رہتی ہے، تو اسے بڑے سے بڑا ذہین آدمی بھی پہچان نہیں سکتا، یہ اپنا رنگ بدلنے میں بھی ماہر ہوتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.