شادی میں تاخیر اللہ کی مرضی یا کچھ اور!!! لڑکیوں کی شادی میں بے وجہ رکاوٹیں اور معاشرے کے المناک پہلو

لاہور: (ویب ڈیسک) پاکستان کی آبادی میں عورتوں اور مردوں کی شرح میں واضح فرق موجود ہے خواتین کی تعداد 51 فی صد ہے جب کہ مردوں کی تعداد 49 فی صد ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مرد تعداد میں کم ہیں- یہی وجہ ہے کہ آج کے دور میں ہر دوسرے گھر میں رشتے کے انتظار میں ایسی پڑھی لکھی لڑکیاں بیٹھی نظر آتی ہیں جن کی عمریں 30 سال سے تجاوز کر رہی ہوتی ہیں-

اس وقت پاکستان میں ایک سروے کے مطابق لڑکے اور لڑکیوں کی شادی کی عمر میں واضح اضافہ دیکھنے میںیں آرہا ہے ماضی میں جب اٹھارہ سے 23 سال کی عمر لڑکی کے لیے شادی کی اوسط عمر تھی اور لڑکوں کے لیے یہ عمر 20 سے 26 سال تک تھی اب تبدیل ہو کر عورتوں میں 23 سے 30 سال جب کہ مردوں میں 30 سے 40 سال تک جا پہنچی ہے- شادی میں تاخیر کے اسباب: عام طور پر شادی میں تاخیر لڑکی کے والدین کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہوتا ہے اور ان کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کی بچی کو مناسب عمر میں بر مل جائے- ماضی میں والدین سولہ سترہ سال کی عمر کی شادی کر دیا کرتے تھے مگر اب کچھ حالات میں تبدیلی کے سبب ایسا نہیں ہو پا رہا ہے جن کی وجوہات کچھ اس طرح سے ہیں- تعلیم مکمل کروانا: میں تو اپنی بیٹی کو ڈاکٹر بناؤں گی تب تک میری بیٹی کو کوئی ڈسٹرب نہ کرے اور رشتہ لے کر نہ آئے۔ یہ جملہ اکثر انٹر میں پڑھنے والی بیٹیوں کے منہ سے آپ سب نے بھی سنا ہوگا انٹر میں پڑھنے والی لڑکی سترہ اٹھارہ سال کی ہوتی ہے جو کہ رشتے کے لیے مناسب عمر ہوتی ہے اور ایک دو سال تک شادی کر دی جاتی ہے- مگر بد قسمتی سے ہم نے یہ سوچ لیا ہے کہ شادی کے بعد دوسری ذمہ داریوں کے سبب ہماری بیٹی تعلیم جاری نہیں رکھ پائے گی- اس وجہ سے والدین کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ بچی کی تعلیم کی تکمیل شادی سے قبل کر لیں جس میں پانچ سے چھ سال لگ جاتے ہیں اور اس کے بعد جب 26 سال کی عمر کی لڑکی کے لیے رشتے ڈھونڈنے شروع کیے جاتے ہیں تو گلہ ہوتا ہےکہ رشتے نہیں آتے ہیں- خوب سے خوب تر کی تلاش: بڑے بوڑھے ماضی میں کہا کرتے تھے کہ لڑکی کے رشتے کے انتخاب میں لڑکے کی شریف النفسی اور اس کے روزگار کو دیکھنا چاہیے- مگر آج کل کے دور میں اس کے ساتھ ساتھ لڑکے کی شکل اس کا اسٹیٹس اس کی تعلیم اس کی عمر کے ساتھ ساتھ ان کی تنخواہ بھی دیکھی جاتی ہے- ایک رشتے کو اس لیے ٹھکرا دیا جاتا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ دوسرا اس سے بہتر ہو اور اس طرح سے بار بار رشتے ٹھکرانے کے سبب ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب لوگ ان کی بیٹی کو ٹھکرانا شروع کر دیتے ہیں-

جہیز جوڑنے کی کوشش: اگرچہ یہ دعویٰ تو سب ہی کرتے نظر آتے ہیں کہ ہمیں جہیز نہیں چاہیے مگر اس کےباوجود ہر انسان کے ذہن میں ایک کیلکولیٹر چل رہا ہوتا ہے کہ لڑکی کیا کیا ساتھ میں لے کر آئے گی- یہی وجہ ہے کہ سفید پوش لوگ اچھے رشتوں کے حصول کے لیے بچی کی پیدائش کے بعد سے ہی جہیز جوڑنا شروع کر دیتے ہیں- تاہم آج کل کی مہنگائی کے دور میں جب کہ کمانے والا صرف ایک ہی ہو تو اتنی بچت ہی نہیں ہو سکتی ہے کہ جہیز بنایا جا سکے- اس وجہ سے اکثر گھرانوں میں لڑکیاں تعلیم کے ساتھ ساتھ نوکری بھی کرنے پر مجبور ہوتی ہیں تاکہ اپنے جہیز کے لیے کچھ نہ کچھ جوڑ سکیں اور اس طرح سے جہیز تو جمع ہو جاتا ہے مگر شادی کی عمر گزر جاتی ہے-سرکاری نوکری: عام طور پر جو لڑکیاں اپنی قابلیت یا کسی بھی سبب سے سرکاری نوکری حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں ان کی ڈیمانڈ بھی بڑھ جاتی ہے- ان کو ایسے لڑکے کی تلاش ہوتی ہے جو کہ ان سے زيادہ کماتا ہو اور ان کی دوسری ڈیمانڈز پر بھی پورا ہوتا ہو اور ایسے لڑکے کی تلاش میں شادی کی عمر کٹ جاتی ہے اور لڑکی اپنی باقی زندگی اسی سرکاری نوکری کے ساتھ گزارنے پر مجبور ہو جاتی ہیں- میری زندگی میری مرضی: ماضی میں شادی بیاہ کے فیصلہ خصوصاً لڑکیوں کے معاملے میں گھر کے بڑے مناسب وقت پر کر لیتے تھے جن کو لڑکیاں بخوشی تسلیم بھی کر لیتی تھیں اور وقت یہ ثابت بھی کر دیتا تھا کہ یہ فیصلہ درست ہوتا تھا- مگر اب جب خواتین میرا جسم میری مرضی کا نعرہ لگاتی ہیں وہیں پر لڑکیوں کا بھی یہ کہنا ہے کہ میری زندگی میری مرضی اور اس وجہ سے اپنی زںدگی اور جیون ساتھی کا فیصلہ بھی وہ خود کریں گی-یہی وجہ ہے کہ جن گھرانوں میں بیٹیوں کو بے جا آزادی دی جاتی ہے ان گھرانوں میں لڑکیوں کی شادیوں کے مسائل بھی زیادہ ہوتے ہیں- یاد رکھیں!: شادی ایک شرعی فریضہ ہے اور اس کے لیے نہ تو کسی ڈگری کی قید ہے اور نہ ہی کسی نوکری کی شرط اس کی جگہ پر ہمارے مذہب کے مطابق شادی کے لیے عمر کی قید ضرور ہے کہ بالغ ہوتے ہی‎ جلد از جلد والدین کو اپنی اولاد کی شادی کر دینی چاہیے-

Leave a Reply

Your email address will not be published.