حکومت تبدیل ہوئی لیکن حالات تبدیل نہیں ہو نگے، عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی فچ نے خطرے کی گھنٹے بجا دی

کراچی(ویب ڈیسک) عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی فچ (Fitch) ریٹنگ نے پاکستان میں سیاسی اتار چڑھاﺅ کو بیرونی سرمایہ کاری کے لیے خدشہ قرار دے دیا۔ عالمی ریٹنگ ایجنسی فچ ریٹنگ نے پاکستان میں حکومت کی پر امن تبدیلی کا خیرمقدم کرتے ہوئے معیشت کو درپیش چیلنجز کی نشاندہی کی ہے۔ اپنے بیان میں فچ

نے کہا ہے کہ اگرچہ پاکستان میں حکومت کی تبدیلی پرامن انداز میں ہوئی تاہم اس سے پاکستان کے لیے قریب مدتی پالیسیوں کے بارے میں بے یقینی میں اضافہ ہوا ہے جسے پہلے ہی عالمی کموڈٹی قیمتوں اور عالمی سطح پر بے یقینی کے سبب بیرونی اور مالیاتی چیلنجز کا سامنا ہے۔ ایجنسی کے مطابق اتھارٹیز کی پالیسیوں کا مرکز پاکستان کی وسط مدتی غیرملکی قرضوں کی ری فنانسنگ کی صلاحیت کو بہتر بنانا ہے جیسا کہ فچ نے فروری 2022ء میں پاکستان کی ریٹنگ ’’بی مائنس اسٹیبل‘‘ قرار دیتے وقت اندازہ پیش کیا تھا۔ فچ نے پاکستان کے کرنٹ اکاﺅنٹ خسارے کے بارے میں اپنی پیش گوئی میں بھی تبدیلی کردی ہے۔ فچ نے کہا ہے کہ فروری 2022ء میں فچ نے پاکستان کا کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ رواں مالی سال کے اختتام تک جی ڈی پی کے 5 فیصد (18.5 ارب ڈالر) کے مساوی رہنے کا امکان ظاہر کیا تھا تاہم اب عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں کمی سے یہ خسارہ جی ڈی پی کے چار فیصد تک رہنے کا امکان ہے۔ فچ کے مطابق پاکستان کو مالی سال 2023ء میں غیرملکی قرضوں کی ادائیگی کے لیے 20 ارب ڈالر کی ضرورت ہے جس میں چین اور سعودی عرب کے 7 ارب ڈالر کے ڈپازٹس شامل ہیں جن کے بارے میں ایجنسی نے امکان ظاہر کیا ہے کہ وہ رول اوور ہوجائیں گے۔ ایجنسی کے مطابق بلند تجارتی خسارہ اور سرمایہ کے انخلاء سے پاکستان کی شرح مبادلہ میں نمایاں کمی ہوئی ہے جس میں قرضوں کی ادائیگی کی وجہ سے زرمبادلہ

کے ذخائر پر دباؤ میں اضافہ ہوا ہے، اسٹیٹ بینک کے ذخائر فروری سے اپریل کے دوران 5.1 ارب ڈالر تک کم ہو کر یکم اپریل تک 11.3 ارب ڈالر کی سطح پر آگئے ہیں، اس نمایاں کمی میں چین کے 2.4 ارب ڈالر کے قرضوں کی ادائیگی ہے جو دوبارہ بحال کیے جانے ہیں۔ فچ نے کہا ہے کہ سابقہ حکومت نے آئی ایم ایف پروگرام کے لیے اصلاحات پر عمل درآمد کیا جس سے پاکستان کو قرضوں کی عالمی منڈی تک رسائی میں مدد ملی اور پاکستان کو جنوری 2022ء میں ایک ارب ڈالر کے سکوک بانڈز کا اجراء کیا گیا اس کے بعد سے پاکستان کے لیے نجی قرضوں کے حصول میں بیرونی عوامل کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے جن میں امریکا کی جانب سے شرح سود میں اضافہ اور یوکرین تنازعہ کی وجہ سے پیدا ہونے والے عالمی خدشات شامل ہیں۔ ایجنسی کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام کی اصلاحات میں تعطل یا رکاوٹ سے پاکستان کے لیے بیرونی نجی قرضوں کا حصول مزید مشکل ہوگا۔ فچ کے مطابق پاکستان میں حکومت کی تبدیلی آئی ایم ایف کے باقی تین جائزوں کی بروقت تکمیل کو پیچیدہ بناسکتی اگرچہ اہم سیاسی جماعتوں کے سینئر آفیشلز نے عندیہ دیا ہے کہ نئی حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ تعلق کو برقرار رکھے گی۔ ایجنسی کے مطابق ریونیو بڑھانے کے لیے اصلاحات پر بات چیت وقت طلب ہوسکتی ہے بالخصوص اس لیے کہ حکومت مختلف سیاسی جماعتوں کے اتحاد پر مشتمل ہے، افراط زر میں کمی کے لیے مارچ میں دی جانے والی فیول سبسڈی پہلے ہی آئی ایم ایف پروگرام پر بات چیت اور وسط مدتی استحکام پر اثر انداز ہوچکی ہے جبکہ موجودہ صورتحال میں آئندہ عام انتخابات 2023ء کے وسط میں متوقع ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.