اسمبلیوں سے استعفے دینے کا تحریک انصاف کو فائدہ ہو گا یا نقصان ؟؟ نصرت جاوید کا بی بی سی کے لیے خصوصی تبصرہ

لاہور (ویب ڈیسک) پاکستان تحریکِ انصاف کے استعفے دینے اور ضمنی الیکشن کا حصہ نہ بننے کے بعد ایک ایسی ممکنہ صورتحال جنم لے سکتی ہے جس میں موجودہ حکمراں جماعتوں کے پاس یہ موقع ہو گا کہ وہ ضمنی انتخابات میں کامیابی حاصل کر کے دو تہائی اکثریت کے ساتھ اسمبلی میں واپس آ جائیں۔

ایسی صورت میں ان کے پاس مکمل اختیار ہو گا کہ وہ کوئی بھی قانون سازی کرنا چاہیں تو انھیں روک ٹوک یا مزاحمت کا سامنا نہیں ہو گا۔پلڈیٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب کے خیال میں ’ضروری نہیں ہے کہ پی ٹی آئی ضمنی انتخابات کا بھی بائیکاٹ کر دے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ دوبارہ ضمنی انتخابات میں حصہ لے اور ان کے اراکین منتخب ہو کر ایوان میں آ جائیں۔‘تاہم احمد بلال محبوب کا کہنا تھا کہ اس کا تمام تر دارومدار اس بات پر ہو گا کہ آنے والے دنوں میں ملک کے سیاسی حالات کیا رُخ اختیار کرتے ہیں۔ پی ٹی آئی اس کے مطابق فیصلہ کرے گی۔تاہم اگر وہ انتخابات میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کرتی ہے تو ایسا ہو سکتا ہے کہ حکومت میں موجود جماعتوں کی پوزیشن مزید مضبوط ہو جائے اور اسمبلی میں حزبِ اختلاف نہیں ہو گی۔صحافی نصرت جاوید نے کہا کہ ’آہستہ آہستہ تحریک انصاف کو سمجھ آئے گی کہ استعفے دینا مناسب نہیں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کچھ لوگ استعفے واپس لے لیں۔‘جب ان سے سوال کیا گیا کہ تحریک انصاف رہنما فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ بحران کا حل صرف عام انتخابات ہیں تو نصرت جاوید نے کہا کہ ’میرا نہیں خیال کہ اس طرح کی تحریک کے ذریعے وہ الیکشن کروا سکیں گے۔‘ان کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی سے استعفوں کے بعد تحریک انصاف عبوری حکومت کے قیام میں بطور اپوزیشن کوئی کردار ادا نہیں کر سکے گی۔ ’اُن کو سسٹم میں رہنا ہو گا۔‘

Leave a Reply

Your email address will not be published.