یہاں کے لوگ مگرمچھ کی پوجا کرتے تھے… دنیا کے قدیم ترین شہر اور ان سے جُڑی حیرت انگیز کہانیاں

لاہور: (ویب ڈیسک) تاریخ ہمیشہ دلچسپ لگتی ہے اور ہمیں جاننے کا شوق بھی ہوتا ہے کہ ہم سے پچھلے لوگوں کا کیا لائف اسٹائل تھا۔ دنیا میں کچھ قدیم شہر ہیں جو آج تک آباد ہیں یہی وجہ ہے کہ ان کی تاریخ کو جاننا اور آسان اور مستند ہے ورنہ کھنڈرات کے بارے میں حقائق جاننا مشکل ہوتا ہے۔

دنیا کے قدیم ترین آباد شہر زیادہ تر بحیرہ روم کے آس پاس پائے جاتے ہیں۔ یہ شہر اپنے اندر شاندار تاریخ سموئے ہوئے ہیں جو انسانی تہذیب کو ظاہر کرتے ہیں۔ یہ قدیم ترین شہر خوبصورت فن تعمیر اور حیرت انگیز کہانیوں کا ایک خزانہ ہیں۔ یہاں دنیا کے چند سب سے قدیم آباد شہروں کا ذکر کیا جارہا ہے۔ جیریکو، فلسطین: 13,000 سال پرانا شہر جیریکو زمین کا سب سے قدیم مسلسل آباد شہر سمجھا جاتا ہے جو فلسطین میں واقع ہے۔ جیریکو میں دریافت ہونے والے قلعے اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ یہ قدیم ترین دیواروں سے گھرا شہر ہے۔ سطح سمندر سے بہت نیچے رہنے کے باوجود یہ خشک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 2017 میں اس کی آبادی تقریباً 20,000 تھی۔ دمشق، شام: دمشق کو دنیا کے سب سے قدیم مسلسل آباد شہروں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے، جس میں رہائش کے شواہد تقریباً 12,000 سال پرانے ہیں۔ 2018 میں، اس کا میٹرو پولیٹن علاقہ تقریباً 2.3 ملین افراد کا گھر تھا، اور 2008 میں یونیسکو نے اس شہر کو عرب ثقافت کا دارالحکومت قرار دیا۔ امریکی مصنف مارک ٹوین نے جب اس شہر کا دورہ کیا تو اس نے لکھا، “دمشق کے لیے، سال صرف لمحات ہیں، دہائیاں صرف وقت کی چھوٹی چھوٹی گھڑیاں ہیں، وہ وقت کو دنوں، مہینوں اور سالوں سے نہیں، بلکہ سلطنتوں سے ناپتے ہیں۔ اس نے عروج اور ترقی کو دیکھا ہے۔” رے، ایران: گریٹر تہران میٹروپولیٹن علاقے کے اندر واقع، رے، ایران میں تقریباً 8,000 سال قبل رہائش کے ثبوت موجود ہیں۔ جیسے چشمہ علی (ایک مشہور تفریحی علاقہ، زیر زمین پانی کا ذریعہ ہے)، جو کہ تقریباً 7,000 سال قبل کا ہے، نیز 5,000 سال پرانا Gebri قلعہ بھی ہے۔ آتش پرستوں کے لیے مذہبی لحاظ سے یہ ایک اہم مقدس شہر تھا۔ اربیل، عراقی کردستان: اربیل شہر، جسے ہیولر بھی کہا جاتا ہے، عراق کے کردستان میں واقع ہے۔ تقریباً 8,000 سال قبل کا مسلسل آباد، شہر اربیل، ایک قدیم قلعہ کے اردگرد ایک بستی ہے۔ یہ شہر قدیم تو ہے، لیکن اس کی راتیں ماڈرن ہیں جسے مشرق وسطیٰ میں سب سے بہترین سمجھا جاتا ہے اور اکثر اس کا موازنہ بیروت سے کیا جاتا ہے۔ اس میں چائے کی لاجواب دکانیں، ریستوران، زندگی سے بھرپور بازار، اور ایک عظیم الشان مرکزی چوک ہے جو دکانداروں اور خریداروں کے لئے تفریح سے بھرپور ہے۔ حلب، شام: حلب میں رہائش کے شواہد تقریباً 8,000 سال پرانے ہیں۔ بحیرہ روم اور میسوپوٹیمیا کے درمیان واقع ہونے اور شاہراہ ریشم کے اختتام پرہونے کی وجہ سے ، (جو وسطی ایشیا اور میسوپوٹیمیا سے گزرتی ہے)حلب قدیم دنیا کے مرکز میں تھا۔ شہر کے ڈھانچے اور نمونے اس کی تاریخ کی متنوع ثقافتوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ حلب کا قدیم شہر یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کے طور پر چنا گیا ہے، لیکن یہ خطرناک مقامات کی فہرست میں بھی شامل ہے کیونکہ شہر میں برسوں سے جاری تنازعات کی وجہ سے اس کی تاریخی یادگاریں تباہ ہو چکی ہیں فیوم، مصر: جدید مصری شہر فیوم دریائے نیل کے ایک علاقے پر واقع ہے جس نے ہزاروں سالوں سے انسانی بستیوں کی میزبانی کی ہے، بشمول قدیم شہر شیڈت۔ شیڈٹ کے لوگ پیٹسوچوس نامی ایک زندہ مگرمچھ کی تعظیم کرتے تھے جس کا نام سوبیک دیوتا تھا، جس کی وجہ سے یونانیوں کے شہر کو “کروکوڈیلوپولیس” کہا جانے لگا۔ مگرمچھ Moeris نامی جھیل میں رہتا تھا اور وہاں اس کی پوجا کی جاتی تھی۔ اس علاقے نے تقریباً 7,000سال قبل سے شروع ہونے والی زرعی برادریوں کو سہارا دیا، حالانکہ اس کی آبادی بظاہر خشک سالی کی وجہ سے صدیوں تک کم ہو گئی تھی، بالآخر 6000 سال قبل ریباؤنڈ ہو گئی ۔ اس کی آبادی 3.8 ملین ہے۔ ایتھینز، یونان: فلسفے کا قدیم گھر اور مغربی تہذیب کی جائے پیدائش، ایتھنز میں رہائش کی ایک تاریخ ہے جو سقراط، افلاطون اور ارسطو کے زمانے سے بہت پہلے کی ہے۔ یہ شہر ممکنہ طور پر 9000 سال قبل تک کا ہے۔ گلوبلائزیشن اور ورلڈ سٹیز ریسرچ نیٹ ورک کے مطابق ایتھنز بیٹا گلوبل سٹی ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published.