عمران خان کی ہائی برڈ حکومت بھی ناکام ، جانئے وہ وجوہات جو ہر بار پاکستانی نظام حکومت کے زوال کا سبب بنیں

لاہور(ویب ڈیسک)حماد غزنوی اپنے کالم میں لکھتے ہیں چوہوں پر بھی وہ تجربات نہیں کئے جاتے جو ہمارا مقسوم ٹھہرے ہیں۔کبھی بنیادی جمہوریت، کبھی محدود جمہوریت، کبھی اسلامی جمہوریت اور پھر ہائی برڈ نظام، حماقتوں کا ایک لامحدود سلسلہ، سب کا انجام ندامت، سب کا اختتام رسوائی، رائیگانی سی رائیگانی ہے، 75 سال بعد بھی ہم حیران کھڑے ہیں

کہ جانا کدھر کو ہے۔ عباقرۃ العالم کا کیا خیال ہے ایک مرتبہ ہر نوع کی گوٹا کناری سے بچ کر، کسی سابقے اور لاحقے کے بغیر،، سیدھی سادی۔ جمہوریت کو بھی آزما کر نہ دیکھ لیں؟ ورنہ یہ عمر بھر کا سفر رائیگاں تو ہے۔ پچھلا ہفتہ بہت ہی طویل تھا۔عدم اعتماد کی تحریک کے آغاز ہی سے عمران خان کی ’خوش نیتی‘ اور آئین ’دوستی‘ عیاں تھی، پہلے تو انہوں نے چودہ دن کے اندر قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے والی ایک واضح اور سادہ آئینی شق سے سرکشی کی، اور پھر اجلاس بلایا تو اسے آخری دن تک لٹکایا اور پھر آخری دن عدم اعتماد پر ووٹنگ کروانے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ یہ تحریک ایک بیرونی سازش کا شاخسانہ ہے، جس میں اپوزیشن میر جعفر کا کردار ادا کر رہی ہے، یعنی ستّر فی صد عوام اور ان کے نمائندے غدار قرار دے دیے گئے۔ یہ آئین سے صریحاً انحراف تھا، اور پھر سپریم کورٹ نے بھی اسے آئین شکنی قرار دیا۔عدالتِ عظمیٰ کے اس واضح فیصلے کے باوجودکپتان آئین شکنی کے رستے پر ڈٹ کے کھڑا رہا۔ نو اپریل کو تقریباً 12گھنٹے تک ووٹنگ سے انکار کے نتیجے میں ریاست کی طاقت حرکت میں آئی، عدالتوں کے دروازے کھل گئے، پرزن وین پارلیمنٹ کے سامنے پہنچ گئی، رینجرز نے پوزیشن سنبھال لی، اور عمران خان کو مبینہ طور پر طاقت ور اداروں کی لیڈرشپ نے مشورہ دیا کہ آئین کے سامنے سرنگوں ہونے میں ہی ہم سب کی بھلائی ہے،تب کہیں جا کر عمران خان کو بات سمجھ آئی، جون بھائی نے کہا تھا ’علاج یہ ہے کہ مجبور کر دیا جائوں، وگرنہ یوں تو کسی کی نہیں سنی میں نے‘۔

پروجیکٹ عمران خان کا آغاز 2011 میں ہوا، یہ بُت بہت محنت سے تراشا گیا، پھر برہنہ بیساکھیوں کے سہارے 2018 میں اسےقصرِ اقتدار میں نصب کر دیا گیا، بتانے والوں نے بتایا کہ سیاست دان برے لوگ ہوتے ہیں، عمران خان سیاست دان نہیں ہیں لہٰذا جملہ برائیوں سے پاک ہیں، اور اب وہ سیاست میں حصہ لیں گے ( ڈونلڈ ٹرمپ سمیت بہت سے سیاست دانوں نے یہی لبادہ اوڑھ کرسیاست کی ہے)۔ روزِ اول سے عمران خان کی سیاست کا تعلق دماغ سے نہیں بلکہ جذبات سے رہا ہے، یعنی ایک کروڑ نوکریاں اور پچاس لاکھ گھر، نوے دن میں کرپشن ختم اور قوم کے لوٹے ہوئے اربوں روپے دنوں میں واپس (داتا دربار کے سامنے والے باغ میں کچھ سریع الاثر مقویات بیچنے والوں کے دعوے یاد آ گئے)۔ یہ دعوے پورے نہیں ہو سکتے تھے، سو نہیں ہوئے۔ اپنے اکثر سیاسی مخالفین کو جیل میں ڈالنے کے باوجود نہ تو عدالت میں ایک کیس ثابت ہو سکا، نہ مبینہ لوٹی ہوئی دولت کا ایک روپیہ بازیاب ہو سکا، معیشت تباہ ہو گئی، افراطِ زر اور بے روزگاری نے عوام کو دبوچ لیا، ریکارڈ قرضہ لیا گیا، اورکرپشن کے درجنوں اسکینڈلز سے صرفِ نظر کیا گیا۔ عمران خان کے دور میں پاکستان بین الاقوامی کرپشن پریسپشن انڈیکس میں سولہ درجے گر کے 140ویں نمبر پر یونہی تو نہیں آ گیا تھا۔ اس صورتِ حال میں حکومت کی بے ڈھب کارکردگی کا بوجھ ’سیم پیج‘ کے سب دستخط کنندگان محسوس کرنے لگے۔ مطلق العنانیت غالباً عمران حکومت کاسب سے افسوسناک پہلو تھا، وہ اختلافِ رائے کو دشمنی سمجھتے تھے،

لہٰذا آزاد میڈیا کا گلا گھونٹا گیا، آزاد ججوں کے خلاف ریفرنس بنائے گئے، الیکشن کمیشن پر چڑھائی کی گئی اور سیاسی مخالفین کا ناطقہ بند کیا گیا۔ یہ مبالغہ نہیں ہے کہ عمران خان اپنی انا و عشوہ و انداز کے شہید تھے، ایک دیوتا، حکومت کرنا جس کا پیدائشی حق تھا، اور جس کے سامنے سر جھکا کر دوزانو بیٹھنا بلا امتیاز ہر کسی کا فرض تھا، اور آخر ایک دن اسی نفسیاتی کیفیت میں انہوں نے اپنے محسنین کے گریبان پر ہاتھ ڈال دیا۔ جب انہوں نے اپنے اقتدار کے دوام کی خاطر سکیورٹی اداروں کی اہم تعیناتیوں میںبے جا مداخلت شروع کی تو ادارے میں انتہائی بے چینی محسوس کی گئی، اور ادارے کے بہترین مفاد میں ’نیوٹرل‘ ہونے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ عمران خان کی لیے یہ ایک مشکل صورتِ حال تھی کیوں کہ انہیں اپنے پائوں پر کھڑے ہو کر حکومت کرنے کا کوئی تجربہ نہیں تھا، اب تک ان کے تمام سیاسی اور غیر سیاسی مسائل کا حل کوئی اور نکالتا رہا تھا۔حکومت کی عدم توجہی کا شکار، اس کے ناراض اتحادی بھی یہ سارا منظر بہ غور دیکھ رہے تھے، اور جب انہیں آزادی کا احساس ہوا تو وہ حکومتی بنچ چھوڑ کر اپوزیشن سے جا ملے اور حکومت زمیں بوس ہو گئی۔ اب ایک بار پھر عمران خان عوام کے پاس جا رہے ہیں، اس دفعہ ان کے نعرے پہلے سے بھی زیادہ خلافِ عقل، بے بنیاد اور بے سروپا ہیں، یعنی ان کے خلاف عالمی سازش ہوئی ہے اور پاکستان کے تمام سیاست دان اس سازش میں شریک ہیں۔

نئے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اس قضیے کا موزوں حل نکالا ہے کہ پارلیمان کی نیشنل سکیورٹی کمیٹی تمام عسکری قیادت کو ساتھ بٹھا کر اس خط کا معاملہ دیکھے گی۔لگ کچھ یوں رہا ہے کہ ’گروہِ عاشقاں پکڑا گیا ہے، جو نامہ بر رہے ہیں ڈر رہے ہیں‘۔یہ بہترین موقع ہے کہ آئین کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہونے پر عدلیہ اور عسکری قیادت کو بغیر لگی لپٹی کے بھرپور داد دی جائے، اس لمحے کا تو ہر جمہوریت اور آئین پسند کو دیر سے انتظار تھا۔ جی، ہمیں معلوم ہے کہ ماضی میں ان سے کوتاہیاں بھی ہوئی ہیں، جی، ہم نے کچھ اور بھی سرگوشیاں سنی ہیں لیکن لمحۂ موجود میں ان کی بالغ نظری کا اقرار نہ کرنا ناانصافی ہو گی۔ آپ بس ان کی ثابت قدمی کی دعا کیجیے اور نعرہ لگائے پاک فوج زندہ باد!

Leave a Reply

Your email address will not be published.