تحریک انصاف کے تین سالہ دور میں ملکی معاشی کارکردگی کیسی رہی؟؟مکمل حقائق ایک تحریر میں

لاہور(ویب ڈیسک) 2018 میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت قائم ہوئی تو وزیراعظم عمران خان کو درپیش متعدد چیلنجز میں سے ایک بڑا چیلنج معیشت کا میدان تھا۔ الیکشن سے قبل انتخابی مہم اور اس سے پہلے اپوزیشن میں رہتے ہوئے انھوں نے کئی ایسے وعدے اور اعلانات کیے تھے

جن کو اب عملی جامہ پہنانے کا موقع ان کے ہاتھ آ چکا تھا۔ لیکن تحریک انصاف کو آغاز سے ہی معاشی حکمت عملی پر مشکلات کا سامنا رہا۔ اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ وزیر اعظم نے تین وزرائے خزانہ بھی تبدیل کیے جن میں پہلے اسد عمر، پھر حفیظ شیخ اور آخر میں شوکت ترین کو وزیر خزانہ لگایا گیا۔ معاشی میدان میں وزیر اعظم عمران خان کی کارکردگی کیسی رہی؟ ساڑھے تین سال بعد حکومت کے خاتمے پر بی بی سی نے چند اہم اعشاریوں کا جائزہ لیا، جن میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قیمت، پٹرول کی قیمت، بیرونہ قرضوں کا حجم، ترسیلات زر، تجارتی خسارہ اور روزمرہ کے استعمال کی اشیائے خوراک کی قیمتیں شامل ہیں۔ اس رپورٹ میں موجود اعداد و شمار اگست 2018 سے شروع ہوتے ہیں جب تحریک انصاف حکومت کا آغاز ہوا اور اختتام اپریل 2022 میں ہوتا ہے جب وزیر اعظم عمران خان کی حکومت ختم ہوئی۔ واضح رہے کہ تمام اعداد و شمار کا ذریعہ حکومتی ادارے ہیں۔ معیشت کے استحکام کی بات ہو تو ایک اہم عشاریہ کرنسی کی قدر شمار کی جاتی ہے۔ سابقہ دور حکومت میں جب امریکی ڈالر کی پاکستانی روپے کے مقابلے میں قدر 100 روپے تک تھی تو تحریک انصاف کی جانب سے الزام لگایا جاتا تھا کہ مصنوعی طور پر روپے کو مستحکم رکھا جا رہا ہے جس کے لیے زرمبادلہ استعمال کیا جا رہا ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت بنی تو اگست 2018 میں روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر تقریبا 124 روپے 18پیسے کا ہو چکا تھا۔

لیکن تحریک انصاف کے دور میں روپے کی قدر میں تیزرفتاری سے کمی آئی اور ڈالر کا ریٹ بڑھتا گیا جس نے افراط زر پر بھی اثر ڈالا۔ دسمبر 2021 تک ایک امریکی ڈالر 177 پاکستانی روپے کے برابر تھا جو 30 فیصد گراوٹ کے ساتھ ملکی تاریخ میں ایک نیا ریکارڈ تھا۔ اپریل 2022 میں امریکی ڈالر نے ملک میں جاری سیاسی بحران کے سائے میں ایک بار پھر اڑان بھری اور نو اپریل کو اوپن مارکیٹ میں 186 سے بھی تجاوز کر چکا تھا جس کے بعد بتدریج کمی آئی اور آج کی تاریخ میں ڈالر کی قدر 184 روپے کی ہے۔ تحریک انصاف دور حکومت میں روز مرہ کی اشیا کی قیمتوں کے جائزہ لینے کے لئے چند بنیادی اشیا کا انتخاب کیا گیا۔ ان میں آٹا، چینی، پیاز، ٹماٹر، دال، دودھ، چکن اور ویجیٹیبل گھی شامل ہیں۔ چینی کی بات کریں تو اگست 2018 میں پاکستان ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق ایک کلو چینی کی اوسط قیمت 55 روپے 71 پیسے تھی۔ اپریل 2022 میں ایک کلو چینی کی قیمت 86 روپے 62 پیسے تھی جو تقریبا 55 فیصد اضافہ ہے۔ اگست 2018میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 777 روپے میں دستیاب تھا۔ یہ قیمت اپریل 2022 میں بڑھ کر 1172 روپے ہو چکی تھی جو 52 فیصد کا اضافہ ہے۔ ٹماٹر اور پیاز تحریک انصاف حکومت کے آغاز پر 70 روپے 53 پیسے اور 44 روپے 6 پیسے فی کلو دستیاب تھے جب کہ اب یہ قیمت بالترتیب 154 روپے اور 62روپے فی کلو ہے۔

یعنی ٹماٹر کی قیمت میں 118 فیصد اور پیاز کی قیمت میں 42 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق ایک کلو دال مسور کی قیمت 112 روپے 92 پیسے سے بڑھ کر 217 روپے ہوئی جب کہ ایک کلو برائلر چکن کی اوسط قیمت 137 روپے سے بڑھ کر 267روپے ہوئی۔ یعنی دال مسور کی قیمت میں 92 فیصد اور برائلر چکن کی قیمت میں 95 فیصد اضافہ ہوا۔ اس دورانیے میں کھلا دودھ فی لیٹر کی قیمت 85 عشاریہ 46 روپے سے بڑھ کر 117 روپے فی لیٹر تک پہنچی جو کہ 37 فیصد اضافہ تھا جب کہ ڈھائی لیٹر ٹن ویجیٹیبل گھی 473 روپے سے 1210 روپے تک جا پہنچا جو 156 فیصد اضافہ ہے۔ پاکستان میں مہنگائی کی ایک بڑی وجہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کو بھی قرار دیا جاتا ہے۔ بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمتوں کے اتار چڑھاو کے سامنے عام طور پر سیاسی حکومتیں بے بس دکھائی دیتی ہیں لیکن عام طور پر ریلیف دینے کے لیے سبسڈی کا استعمال بھی کیا جاتا رہا ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت کا دور شروع ہوا تو پٹرول کی قیمت 100 کے ہندسے سے نیچے تھی۔ پی ایس او کے مطابق یورو فائیو کی قیمت 95 روپے 24 پیسہ تھی۔ اسی دور میں 2020 میں ایک بحران کے بعد حکومت نے پہلے سے طے شدہ نطام کو تبدیل کرتے ہوئے ہر پندرہ دن بعد قیمتوں کے تعین کا فیصلہ بھی کیا۔ 2020 میں ہی تحریک انصاف حکومت کے دور میں پٹرول کی قیمت سب سے نچلی سطح پر تھی۔

2020 کے بعد پٹرول کی قیمت میں بتدریج اضافہ ہوا اور 2022 کے آغاز میں ایک لیٹر پٹرول کی قیمت 144 روپے 82 پیسہ ہو چکی تھی۔ روس یوکرین تنازعے کے بعد عالمی منڈی میں غیر یقینی نے تیل کی قیمتوں میں مذید اضافہ کیا جس کے بعد 16 فروری 2022 کو پاکستان میں ایک لیٹر پٹرول تقریبا 159 روپے تک جا پہنچا تھا۔ وزیر اعظم عمران خان نے مارچ میں تیل کی قیمتوں پر سبسڈی کا اعلان کیا جس کے بعد ایک لیٹر پٹرول کی قیمت 149 روپے 86 پیسے پر برقرار ہے۔ اپوزیشن کے دور میں تحریک انصاف چیئرمین عمران خان نے پاکستان کے بیرونی قرضوں کے حجم کو بار بار تنقید کا نشانہ بنایا اور اقتدار سنبھالنے کے بعد ان کے چند اہم نکات میں سے ایک بیرونی قرضوں میں کمی بھی تھا۔ اگست 2018 میں پاکستان کے بیرونی قرضوں کا حجم سٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق 64 عشاریہ 24 ارب ڈالر تھا۔ یکم جنوری 2022 میں پاکستان کے بیرونی قرضے 83 عشاریہ نو ارب ڈالر ہو چکے تھے۔ وزیر اعظم عمران خان نے حکومت کے آغاز سے ہی بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو خصوصی اہمیت دی۔ ان کی حکومت کے دوران ہی اوورسیز پاکستانیوں کے لیے ووٹنگ کے حق کی قانون سازی بھی کی گئی۔ تحریک انصاف کے دور حکومت میں دعوی کیا گیا کہ ترسیلات زر میں ریکارڈ اضافہ ہوا یعنی بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ملک بھیجا جانے والا پیسہ۔ اگر اعداد و شمار کو دیکھا جائے تو سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق اگست 2018 میں پاکستان کی ترسیلات زر تقریبا دو ارب ڈالر سے کچھ ہی زیادہ تھیں۔

تحریک انصاف کی حکومت آنے کے بعد سال 2019 تک ترسیلات زر میں اگست 2018 کے مقابلے میں کچھ خاص اضافہ نہیں ہوا۔ تاہم 2020 میں خصوصا جون اور جولائی کے مہینے میں ترسیلات زر میں بتدریج اضافہ دیکھا گیا جو تقریبا 2021 کے اختتام تک برقرار رہا اور 2022 کے آغاز میں ایک بار پھر اس میں کمی واقع ہوئی۔ پاکستان کی معیشت کی ایک بڑی کمزوری تجارتی خسارہ یعنی درآمد اور برآمد میں عدم توان ہے۔ تحریک انصاف حکومت نے معاشی میدان میں تجارتی خسارے میں کمی کو ایک بڑا ہدف بنایا جس کے تحت برآمدات میں اضافہ کرنا شامل تھا۔ اگست 2018 میں تجارتی خسارہ تقریبا تین ارب ڈالر کے قریب تھا۔ حکومت کی کوششوں کی وجہ سے یہ خسارہ کم ہو کر جولائی 2019 میں دو ارب ڈالر تک اور اپریل 2020 میں تقریبا ڈیڑھ ارب ڈالر تک رہ گیا۔ 2020 کے اواخر میں تجارتی خسارے میں ایک بار پھر اضافہ ہونا شروع ہوا جو بڑھتے بڑھتے نومبر 2021 میں پانچ ارب ڈالر تک جا پہنچا اور مارچ 2022 میں تقریبا ساڑھے تین ارب ڈالر تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.