آخر کب تک کنواری بیٹھی رہو گی!!! ایک کمانے والی عورت کبھی بھی اپنے سے کم کمانے والے مرد سے شادی کیوں نہیں کرتی؟

لاہور: (ویب ڈیسک) حمیرا ایک اچھی ملٹی نیشنل کمپنی میں نوکری کر رہی تھی۔ عمر ڈھلتی جا رہی تھی لیکن کوئی موافق رشتہ نہیں سمجھ آرہا تھا۔ اس کی امی اس کے لئے کافی فکر مند تھیں وہ ہر رشتے میں نقص نکالتی جیسے اس کا جوڑی دار زمین پر اترا ہی نہ ہو اور کہتی تھی ” اماں بنا جوڑ کی شادی سے بہتر ہے کہ میں شادی ہی نہ کروں۔ میں اپنے پیروں پر کھڑی ہوں آپ میرے لئے فکرمند نہ ہوا کریں۔”

آجکل یہ ہمارے معاشرے کا ابھرتا ہوا مسئلہ ہے۔ لڑکیاں اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ پڑھائی میں سیریس ہونے کی وجہ سے اچھی تعلیم حاصل کر کے مردوں کے شانہ بشانہ کام کر رہی ہیں۔ اب ان پڑھی لکھی لڑکیوں کے معیار کے مطابق بر ملنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ہمارے معاشرے میں نوجوان لڑکے یا تو بے روزگاری کا شکار ہیں یا کم آمدنی والی نوکریاں کرنے پر مجبور ہیں۔ کیا یہ لڑکے ان لڑکیوں کے معیار پر اترتے ہیں؟ ہمارے معاشرے کے مزاج کے مطابق مرد کا کام پیسہ کمانا ہے اور عورت کا کام گھر سنبھالنا ہے۔ یہ سچ ہے کہ عورت نوکری کے ساتھ ساتھ گھر کی ذمہ داریاں بھی بھرپور طریقے سے انجام دیتی ہے کیونکہ اسکے اندر قدرتی طور پر گھر سنبھالنے کے جراثیم ہوتے ہیں- اس کو پتا ہے کہ گھر جا کر اس نے کھانا بھی بنانا اور بچے بھی دیکھنے ہیں- اس گھرداری کے لئے وہ کسی مدد گار کا انتطار نہیں کرتی۔ یہ عورت ایک طرح سے اوور برڈنائزڈ ہوتی ہے۔ اسی لئے وہ سوچتی ہے کہ شادی نہ کی ہوتی تو اچھا تھا۔۔۔۔۔۔ دوسری طرف ہمارا مرد کچھ ڈیزائن اس طرح کیا جاتا ہے کہ وہ نوکری تو کرے گا لیکن گھر جا کر اس کو صرف اور صرف آرام کرنا ہوتا ہے۔ بچوں کی تربیت بھی پوری طور پر ماں کی زمہ داری ہے۔ یہیں سے مسائل کا آغاز ہوتا ہے۔۔۔۔ اگر کوئی مرد بخوشی گھر داری میں بیوی کی مدد کر دے تو اس کو بیوی کےغلام کا ٹیگ لگا دیا جاتا ہے۔ اور بیچارا اپنے آس پاس کے لوگوں سے طنز کے نشتر سہتا رہتا ہے۔ اس کی ذمہ دار اور انصاف پسند طبعیت اس کے لئے باعث شرمندگی بن جاتی ہے۔ ایک تعلیم یافتہ اچھی نوکری والا مرد اپنے سے کم پڑھی لکھی، کم عمر نوکری نہ کرنے والی عورت سے بخوشی شادی کر لیتا ہے کیونکہ اس کو پتا ہے کہ اس نے کمانا ہے اور بیوی نے خاندان بنانا اور گھر چلانا ہے۔ عموماً دونوں اپنے معاملات کو بخوشی انجام دیتے ہیں۔ اس کے برعکس ایک پڑھی لکھی عورت جو کہ اچھی نوکری بھی کرتی ہو تو وہ اس عام عورت سے درجے میں اوپر ہو جاتی ہے۔ اب اس کو لائف پارٹنر بھی اپنے سے ایک درجہ اوپر چاہئے تاکہ وہ اس کی عزت کر سکے۔ جوانی کی عمر تک اسکے معیار اعلیٰ ہوتے ہیں۔ شادی ہم جانتے ہیں ایک فطری عمل ہے۔ عمر ڈھلنے کے بعد انھیں احساس ہونا شروع ہو جاتا ہے کہ کچھ اپنی ڈیمانڈ پر نظر ثانی کر لی جاتی تو بہتر ہوتا لیکن اس وقت تک دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ اس ڈھلتی ہوئی عمر میں وہ اتنی خود مختار ہو جاتی ہیں ان کے لئے کسی کے ساتھ گزارہ کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ ان مسائل کو کس طرح کنٹرول کیا جائے؟ اس کے لئے مرد عورت دونوں کو اپنے روایتی لائف اسٹائل میں تبدیلیاں لانی ہوں گی۔ اگر مرد اپنے سے چھوٹی عمر کی لڑکی سے شادی کر سکتا ہے تو ایک عورت کے لئے یہ اصول کیوں نہیں۔ اگر مرد اچھا نہیں کما رہا اسکی قسمت گردش میں ہے تو ایک بیوی اس کی حوصلہ افزائی کر سکتی ہے۔ اس کو مالی اور جذباتی طور پر سپورٹ کر سکتی ہے۔ دوسری طرف مرد کو بھی اپنی انا کو بالائے طاق رکھ کر گھر کی ذمہ داریوں میں عورت کا ہاتھ بٹانا ہوگا۔ تبھی تویہ گاڑی آگے چلے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.