عید پر خواتین کیسے کم بجٹ میں بہترین شاپنگ کرسکتی ہیں؟ جانئے وہ غلطیاں جس سے اکثر ہمارا بجٹ متاثر ہوتا ہے

لاہور: (ویب ڈیسک) ماہ صیام جہاں ہر مسلمان کیلئے روزہ اور عبادت کا پیغام لیکر آتا ہے وہیں میٹھی عید کی خوشیاں بھی ساتھ لاتا ہے، رمضان کے اختتام پر بچے، بوڑھے، خواتین اور نوجوان سبھی عید کے چاند کے منتظر ہوتے ہیں اور جونہی چاند اپنی جھلک دکھلاتا ہے وہیں عید کی تیاری بھی زور پکڑ جاتی ہے۔

یوں تو خواتین رمضان کے آغاز سے ہی بازاروں کے چکر لگانا شروع کردیتی ہیں لیکن چاند رات تک ان کی شاپنگ مکمل نہیں ہوتی۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ اس عید پر خواتین کیسے کم بجٹ میں بہترین شاپنگ کرسکتی ہیں اوروہ کونسی غلطیاں ہیں جس سے اکثر ہمارا بجٹ متاثر ہوتا ہے۔ مہنگائی کے اس دور میں دو وقت کی روٹی کا حصول بھی مشکل ہوچکا ہے ایسے میں ہر طبقہ عید کی شاپنگ کیلئے پریشان ہے لیکن عید پر شاپنگ کرنا بھی ضروری ہے تو اگر ہم چند چھوٹی چھوٹی باتوں کو مد نظر رکھیں تو ہم کم بجٹ میں مناسب خریداری کرسکتے ہیں۔ بجٹ بنائیں: سب سے پہلے تو آپ کو شاپنگ کیلئے اپنا بجٹ تیار کرنا ہے، ماہ رمضان میں دیگر ایام کے مقابلے میں خرچ زیادہ ہوتا ہے کیونکہ روزہ داروں کیلئے سحر و افطار کے اہتمام کی وجہ سے بجٹ متاثر ہوتا ہے ایسے میں آپ کو بہت احتیاط سے عید کا بجٹ تیار کرنا ہے تاکہ گھر کے دیگر اخراجات پر بوجھ نہ پڑے اور آپ کو قرض لینے کی ضرورت پیش نہ آئے۔ برانڈز کا انتخاب: اکثر خواتین عید کی شاپنگ کیلئے بازاروں میں بڑے برانڈز کے ملبوسات کی طرف زیادہ مائل ہوتی ہیں لیکن شومئی قسمت کہ برانڈز کے ملبوسات کی قیمت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ خواتین تھوڑی سے کوشش کرکے مشہور برانڈز کے نئے ڈیزائنز سے ملتے جلتے ملبوسات آسانی سے تلاش کرسکتی ہیں جس سے آپ کا جدید تراش خراش کے ملبوسات کا شوق بھی پورا ہوسکتا ہے اور آپ کا بجٹ بھی متاثر نہیں ہوگا۔ وقت کا چناؤ: عید کی شاپنگ کیلئے اکثر خواتین آخری دنوں کا چناؤ کرتی ہیں لیکن یہ یاد رکھیں کہ جوں جوں عید کا وقت قریب آئیگا بازاروں میں رش بڑھ جائیگا جس سے دکاندار بھاؤ تاؤ نہیں کرتے جس کا نقصان آپ کو ہوگا- تاہم اگر آپ رمضان کے ابتدائی ایام یا وسط میں شاپنگ کرلیں تو آپ مناسب قیمت پر اشیا خرید سکتے ہیں اور بھیڑ کم ہونے کی وجہ سے دکاندار سے ریٹ پر بارگیننگ بھی کی جاسکتی ہے۔ درزی کا مسئلہ: عید کی آمد کے ساتھ ہی دیکھا گیا ہے کہ درزیوں کے نخرے بھی آسمان پر پہنچ جاتے ہیں، بعض اوقات تو درزی کام کم ہونے کے باوجود محض دام بڑھانے کیلئے کپڑے سلائی کرنے سے انکار کردیتے ہیں تاکہ خواتین کسی بھی قیمت پر کپڑے سلوانے پر تیار ہوجائیں گی اور اکثر ڈبل سلائی بھی دینا پڑجاتی ہے- لیکن اگر آپ جلدی کپڑے خرید لیتی ہیں تو آپ کو درزی کا مسئلہ بھی درپیش نہیں آئیگا جو آپ کے بجٹ پر گراں گزرتا ہے۔ چوڑیاں اور جیولری: بناؤ سنگھار ہر عورت کا شوق ہوتا ہے،عید ہو اور رنگ برنگی چوڑیاں نہ ہوں یہ ہی نہیں سکتا، عید پر کپڑوں کے رنگوں سے میچنگ چوڑیاں خریدنا ایک الگ مرحلہ ہوتا ہے۔ یہاں اگر ہم دیکھیں تو خواتین اکثر چوڑیاں لیتی ہیں جو شائد ایک دو بار پہننے کے بعد رکھ دی جاتی ہیں لیکن اگر آپ انہیں چوڑیوں کو ملاکر الگ سیٹ تیار کرلیں تو آپ اپنے پیسے اور وقت بچاسکتی ہیں۔ عید پر مہندی: مہندی کسی بھی عورت کی خوبصورتی میں ایک خاص جھلک ضرور پیدا کرتی ہے اور عید کے سادے سے کپڑوں کے ساتھ اگر مہندی لگالی جائے تو وہ عورت واقع میں مکمل تیار لگتی ہے اور اگر مہندی نہ ہو تو سارا بناؤ سنگھار پھیکا لگتا ہے۔ ایسے میں ہم دیکھتے ہیں کہ اکثر خواتین چاند رات کا اعلان ہونے کے بعد ہی مہندی لگوانے کیلئے پارلرز کا رخ کرتی جس سے انہیں پارلرز میں بے تحاشا ہجوم ملتا ہے اور کبھی کبھار تو ان کے ہاتھ مہندی سے محروم رہ جاتے ہیں۔ ہم آپ کو بتاتے ہیں اس مشکل سے نکلنے کا حل ہمیشہ کوشش کیجئے کہ مہندی 29ویں روزے کو لگوالیں اور وہ بھی دن میں تاکہ اگر 29 کی عید ہوجائے تو آپ کو کسی قسم کی افراتفری کا سامنا نہ کرنا پڑے اور آپ آرام سے عید کی تیاری کرسکیں۔ عید کیلئے پیسے جمع: رمضان المبارک میں عام طور پر زیادہ خرچہ ہوتا ہے مگر عید کیلئے کپڑے خریدنے بھی ضروری ہیں لہٰذا ہر کسی کو چاہئے کہ وہ تھوڑے تھوڑے پیسے سال کے ہر مہینے الگ الگ کرلیا کرے اور ان کو کسی محفوظ مقام پر جمع کردیا کرے اس سے فائدہ یہ ہوگا کہ عید کے موقع پر انہیں شاپنگ کیلئے پیسے آنے کا انتظار نہیں کرنا پڑے گا اور وہ مناسب وقت پر ان پیسوں سے اچھی شاپنگ کرسکیں گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.