کیا وزارت چلانے کے لیے کسی خاص ڈگری کی ضرورت ہوتی ہے؟

لاہور: (ویب ڈیسک) پاکستان میں حکومت کی تبدیلی کے بعد رواں ہفتے اتحادی جماعتوں کی نمائندہ وفاقی کابینہ کا اعلان ہوا تو سب نگاہیں اس بات پر مرکوز ہو گئیں کہ حلف اٹھانے والے وزرا کو کون کون سی وزارتیں دی گئی ہیں۔ جب ان وزرا کے قلمدانوں کا اعلان ہوا تو سوشل میڈیا پر صارفین کو کون تنقید سے روک سکتا تھا اور ہوا بھی کچھ یوں ہی کہ وزرا کے چارج سنبھالنے سے قبل ہی ان کی کارکردگی پر سوالات کا جیسے سمندر امڈ آیا۔

یوں تو وفاقی کابینہ میں مجموعی طور پر 37 اراکین ہیں جس میں 30 وفاقی وزرا، چار وزرائے مملکت اور تین مشیر شامل ہیں مگر سابق دور حکومت میں پی ٹی آئی کے احساس پروگرام کے لیے وزیر اعظم کی مشیر ثانیہ نشتر کی جگہ نو منتخب وفاقی کابینہ میں وزیر برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ شازیہ مری اور سابق مشیر برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کی جگہ وزیر برائے قومی صحت عبدالقادر پٹیل کے منصب سبنھالنے پر تو سوشل میڈیا پر جیسے کہرام مچ گیا۔ سوشل میڈیا پر صارفین نے ثانیہ نشتر اور ڈاکٹر فیصل سلطان کی تعلیمی قابلیت اور ڈگریوں کا موازنہ موجودہ وزرا کی تعلیمی قابلیت سے کرنا شروع کر دیا۔ جب تنقید کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھا تو اس کے جواب میں ایک صارف منال رضا تحریک انصاف کے دور کے تمام وزرا کی ڈگریاں لے کر ٹوئٹر پر حاضر ہو گئے۔ اپنے ٹوئٹر تھریڈ میں انھوں نے کہا کہ آپ چھوڑیں ثانیہ نشتر، فیصل سلطان اور ملک امین اسلم کو، آئیں پہلے دیکھیں عمران خان کے ساتھ بیٹھنے والے کتنے پڑھے لکھے تھے۔ مشہور مزاح نگار معین اختر نے اگرچہ اپنے ایک مزاحیہ ٹی وی شو لوزٹاک میں میزبان ساتھی انور مقصود کو ان کے ایک مشکل سوال کے جواب میں بہت پہلے ہی یہ واضح کر دیا تھا کہ ’ڈگری سے زیادہ میرا جنرل نالج بہتر ہے‘ اور پھر ساتھ ہی انھوں نے انور مقصود کو یہ بھی نصیحت کی کہ ’یاد رکھنا جس ملک میں آپ رہتے ہیں اس میں ایک جنرل کا نالج رکھنا بہت اہمیت کا حامل ہے۔‘

جنرل پرویز مشرف کے دور میں انتخابات میں حصہ لینے کے لیے کم سے کم بی اے کی ڈگری کی شرط کے بعد پارلیمنٹ متعدد سینیئر اور نامی گرامی سیاستدانوں سے محروم ہو گئی تھی۔ یہ اور بات ہے کہ اس کے بعد عدالتوں میں درجنوں جعلی ڈگریوں کے مقدمات بھی آئے اور پھر میڈیا پر بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ نواب اسلم رئیسانی کا یہ جملہ بھی خوب مشہور ہوا کہ ’ڈگری، ڈگری ہوتی ہے چاہے اصلی ہو یا نقلی۔‘ خیر یہ تو نہ ختم ہونی والی بحث ہے کہ سیاست میں آنے کے لیے کتنا پیسہ، وقت اور تعلیم درکار ہوتی ہے۔ مگر کیا امور مملکت چلانے کے لیے بھی کسی خاص سند اور تجربے کا ہونا ضروری ہے یا پھر کوئی بھی اپنے جنرل ناؤلج کے ساتھ عوام کا اعتماد لے کر ان مناصب پر براجمان ہو سکتا ہے؟امجد پرویز پاکستان کے پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کے سیکریٹری رہ چکے ہیں۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ اگر سند اور تعلیم ہی وزارتوں کے لیے معیار ہوتی تو پھر شاید ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کے صدر اور بورس جانسن کبھی برطانیہ کے وزیراعظم نہ بن سکتے۔ امجد پرویز کا کہنا ہے کہ جمہوری نظام میں عوام اپنے بہترین نمائندوں کو اسمبلیوں میں بھیجتے ہیں اور پھر یہی عوامی نمائندے اپنے میں سے ایک بہترین رکن قومی اسمبلی کو وزیراعظم چنتے ہیں۔ ان کے مطابق اب یہ فیصلہ وزیراعظم کو کرنا ہوتا ہے کہ وہ کن ارکان کو امور مملکت چلانے کے لیے بہترین سمجھتے ہیں اور انھیں کون سی وزارت دیتے ہیں۔ امجد پرویز کے مطابق اگر وزیراعظم سمجھوتے کا شکار ہو گا یا بہترین انتخاب نہیں کرے گا تو پھر عوام ان کا خود محاسبہ بھی کریں گے مگر عام طور پر بہترین عوامی مفاد میں ہی فیصلے کیے جاتے ہیں۔

پاکستان انسٹیٹیوٹ فار پارلیمنٹری سروسز کے سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور سینٹر فار سوک ایجوکیشن کے سربراہ ظفراللہ خان نے بی بی سی کو بتایا کہ کسی بھی وزیر کے لیے اہم قابلیت یہی ہے کہ وہ عوام کا منتخب نمائندہ ہو۔ ان کے مطابق شازیہ مری اور عبدالقادر پٹیل پہلے دن سے براہ راست منتخب عوامی نمائندے ہیں جبکہ ثانیہ نشتر اور فیصل سلطان شروع میں تو نہ کابینہ میں بیٹھنے کے اہل تھے اور نہ ہی پارلیمنٹ کے اندر داخل ہو سکتے تھے۔ ظفراللہ خان کہتے ہیں کہ وزیر نے اپنی حکومت کے وژن کے تحت پالیسی دینی ہوتی ہے جبکہ اس کے نیچے ہر وزارت میں پورا عملہ ہوتا ہے جس نے کام کرنا ہوتا ہے اور اس پر عملدرآمد یقینی بنانا ہوتا ہے۔ ان کے مطابق اب قادر پٹیل نے کوئی ہسپتال نہیں چلانے اس کام کے لیے ثانیہ نشتر کی طرح کے میڈیکل ڈاکٹرز دستیاب ہوتے ہیں جن کا کام ان پالیسیوں پر عمل پیرا ہونا ہوتا ہے جبکہ قادر پٹیل عوامی نمائندہ ہونے کی وجہ سے وزارت کی کارکردگی سے متعلق عوام کو جوابدہ ہوں گے۔ ظفراللہ خان کے مطابق غیرمنتخب شخص جب کسی فورم پر جوابدہ ہی نہیں ہے تو پھر قرارداد مقاصد کے تحت عوام کے نمائندوں کے ذریعے امور مملکت چلانے کا خواب کیسے پورا ہو گا؟ اگر وزیر کو ہی سب پتا ہو تو پھر بیوروکریسی اور دیگر اداروں کی کیا ضرورت ہے؟ امجد پرویز کے مطابق یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ عوامی نمائندوں، بیوروکریسی، فوج اور دیگر شعبوں میں فرق ہوتا ہے۔ ان کے خیال میں ایک اچھے وزیر کا عوام کی نبض پر ہاتھ ہونا ضروری ہوتا ہے اور ان کی آواز کو فیصلہ سازی کے عمل میں شامل کرنا اس کی اولین ذمہ داریوں میں سے ہوتا ہے۔ باقی رہا یہ سوال کہ وہ پالیسی کیسے بنے اور کس طرح اہداف کا حصول ممکن بنایا جائے تو اس کے لیے حکومت کا ایک پورا میکنزم یا مشینری موجود رہتی ہے۔

اسی مقصد کے لیے تو بیوروکریسی سمیت دیگر شعبوں پر حکومت پیسے خرچ کرتی ہے اور ان کی ٹریننگ کراتی ہے تاکہ وہ نظام کو عوامی نمائندوں کی بتائی گئی سمت میں لے کر جا سکیں اور تکنیکی امور جیسے مسائل کو خود حل کریں۔ اس سوال پر کہ کیا کچھ وزارتوں کے لیے خاص تعلیم کی ضرورت بھی ہوتی ہے جیسے خزانہ یا قانون؟ امجد پرویز کا کہنا تھا کہ یہ بھی ضروری نہیں ہے اور ان وزارتوں کو بھی جو چیز عوامی نمائندوں سے درکار ہوتی ہے وہ یہی ہے کہ وہ یہ بتا دیں کہ عوام کی ضرورت کیا ہے، لوگ کیا چاہتے ہیں باقی سب تکنیکی نوعیت کا کام کرنا پھر بیوروکریسی کا اور متعلقہ شعبوں میں فرائض انجام دینے والوں کا ہوتا ہے۔ امجد پرویز کے مطابق یہ کہا جاتا تھا کہ ایک کم پڑھے لکھے اوکاڑہ سے تعلق رکھنے والے سابق وزیرخزانہ یاسین وٹو کو تعلیم یافتہ وزیر خزانہ محبوب الحق سے دیہی علاقوں میں رہنے والے عوام کی ضروریات اور پریشانیوں سے متعلق زیادہ ادراک تھا اور ان کی پیش کردہ تجاویز زیادہ قابل عمل سمجھی جاتی تھیں۔ ان کے مطابق ایک وزیر کے لیے وہی معیار کافی ہے جو آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 میں دیا گیا ہے۔ امجد پرویز کے مطابق یہ تو سونے پر سہاگہ ہو گا کہ اگر ایک وزیر ٹیکنالوجی سے واقف ہے اور جدید تقاضوں کو بھی سمجھتا ہے تو اس کے لیے پالیسی کو صحیح معنوں میں آگے لے کر بڑھنا اور بھی آسان ہو گا۔ ’مگر یہ ایک اضافی صلاحیت ضرور ہو سکتی ہے کسی بھی طور وزارت کے لیے درکار شرط نہیں ہے۔‘ظفراللہ خان کے مطابق کسی بھی وزارت کے لیے تعلیم کی شرط نہیں ہے۔ ان کے مطابق کوئی بھی رکن قومی اسمبلی وزیر خزانہ یا وزیر قانون بن سکتا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں ایک طویل عرصے سے صرف ریٹائرڈ ججز کو ہی سیکریٹری قانون تعینات کیا جاتا رہا جبکہ ان کے ہوتے ہوئے زیادہ تر آرڈیننسز سے ہی کام چلایا جاتا رہا ہے۔ ظفراللہ خان کے مطابق اسی طریقہ کار کو دیکھتے ہوئے وزارت دفاع کا سیکریٹری کسی ریٹائرڈ جنرل کو لگایا جاتا ہے جبکہ وزیردفاع کے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ اس نے کوئی فوجی فارمیشن دیکھنی ہے۔ بس جو کام انھوں نے بطور وزیر کرنا ہے وہ یہی ہے کہ حکومت کے وژن کے مطابق معاملات آگے بڑھ رہے ہیں یا نہیں۔

ان کے مطابق گذشتہ حکومت نے ساڑھے تین برس میں کل 161 قانون بنائے جن میں سے 42 تو صرف ایک ہی دن بغیر بحث کے ہی پاس کروا دیے گئے تھے ایسے میں وزیر کی تعلیم کی بحث آگے بڑھانے کا کیا فائدہ باقی رہ جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عمران خان کی گذشتہ دور حکومت میں تو وزیر پارلیمانی امور اور مشیر پارلیمانی تک بھی غیر منتخب ہوتے تھے۔ ظفراللہ خان کے مطابق وزیر کے لیے خاص سند درکار نہیں ہوتی اسی وجہ سے تکنیکی قسم کی مدد کے لیے معاون خصوصی کا اسی وجہ سے تصور موجود ہے۔ ان کے مطابق مشیر بھی ایک آئینی سکیم ہے اور وہ بھی باقاعدہ پارلیمنٹ میں بیٹھ سکتے ہیں اور کابینہ میں اہم فیصلوں کا حصہ ہوتے ہیں۔ اسلام آباد کی نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز (نمل) کے ماہر تعلیم طاہر ملک نے بی بی سی کو بتایا کہ سیاستدانوں کی ڈگریوں پر تو کھل کر بات کی جاتی ہے باوجود اس کے کہ ان کے لیے خاص ڈگری اور سند کا حصول ضروری بھی نہیں ہوتا مگر یہ سوال کم ہی اٹھایا جاتا ہے کہ آخر ایک ریٹائرڈ فوجی افسر اور بیوروکریٹ کو کیسے مختلف محکموں میں اہم مناصب پر بٹھا دیا جاتا ہے، جہاں متعلقہ ڈگری اور تجربے کا ہونا بھی لازمی ہوتا ہے۔ طاہر ملک نے مختلف اداروں میں ریٹائرڈ افسران کا وائس چانسلر، ریکٹر، چیف ایگزیکٹو اور ڈائریکٹر کے عہدوں پر تعیناتی کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ان تمام عہدوں کے لیے خاص تعلیمی ڈگری اور تجربہ درکار ہوتا ہے مگر پھر بھی وہ نظام سے اپنے لیے منفرد رستہ نکال لاتے ہیں، جس پر پھر سوال بھی کم ہی اٹھائے جاتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.