عمران خان کے پاور شو شاندار ہیں لیکن تحریک انصاف کا ووٹ بنک بڑھ رہا ہے یا کم ہو رہا ہے، کیا الیکٹیبلز کے بغیر کپتان اگلا الیکشن جیت جائیں گے ؟ اندر کی خبر

لاہور (ویب ڈیسک) سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کہتے ہیں کہ عوامی جذبات ختم نہیں ہوتے جب تک کسی نتیجے پر نہ پہنچ جائیں۔ انھوں نے کہا کہ پہلے پاکستان میں سیاست بھٹو اور بھٹو مخالف میں تقیسم تھی، اب عمران خان اور اینٹی عمران خان تقسیم ہے۔ ’اب یہ ہی لائن ہے کہ

آپ عمران خان کے ساتھ ہیں یا مخالف ہیں۔‘بقول فواد چوہدری کے سیاسی بحران کے بعد اب ملک معاشی اور سماجی بحران کی طرف جا رہا ہے، ’یہ حکومت سات ہفتوں سے زیادہ نہیں چل سکتی، ملک کو نئے انتخابات کی ضرورت ہے، ہم اسی طرف جارہے ہیں۔‘سندھ کے سابق گورنر عمران اسماعیل کہتے ہیں جلسے و جلوسوں کے علاوہ دھرنوں اور مارچ تک بھی جائیں گے، مسلم لیگ ن، پی پی پی، جے یو آئی اور ایم کیو ایم وفاقی حکومت کا حصہ بن چکی ہیں اور تحریک انصاف قومی اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہوچکی ہے۔ اس صورتحال میں کیا حکومت دباؤ میں ہے؟سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ ’پریشر تو موجود ہے، ظاہر ہے کہ اپوزیشن موجود نہیں ہے، اس کی وجہ سے دباؤ تو ہو گا۔‘’میرا خیال ہے کہ عمران کا ووٹ بینک تو اچھا خاصا بن گیا ہے لیکن کیا یہ سیٹیں بھی لے سکیں گے؟ کیونکہ ووٹ بینک الگ چیز ہے اور الیکٹیبل کے ساتھ نشستیں لے جانا الگ چیز ہے۔میرا خیال ہے ان میں کمی آئے گی۔ اس کے علاوہ یہ آہستہ آہستہ اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ سے دور ہو رہے ہیں جو پاکستان کے کلیدی ادارے ہیں۔ اس سے الیکٹیبلز کے لیے کشش کم ہو جائے گی۔‘لمز یونیورسٹی کے پروفیسر اور مصنف محمد وسیم کہتے ہیں کہ یہ اسپانسرڈ قیادت اور جماعت تھی اس لیے یہ تو ہونا تھا۔’تحریک انصاف اور پہلے کی کنگز پارٹیز میں فرق یہ ہے کہ جیسے کنوینشنل مسلم لیگ یا قائد اعظم مسلم لیگ اگلے انتخابات میں بلکل ڈھے جاتی تھیں، لگتا ہے کہ یہ بغیر اسٹیبلشمنٹ کی سپورٹ کے 10-15 نشستوں پر آ جائے گی۔‘’ان کا آدھا ووٹ اپنا تھا اور آدھا ان الیکٹیبلز کا تھا جو لائے گئے تھے۔ وہ اپنا ووٹ بھی لیکر آئے۔ اس طرح انھیں جو آدھا ووٹ ملا وہ ان کا نہیں تھا، عمران کے کئی پیروکار ہیں جو یہ نہیں دیکھنا چاہتے کہ معاشی گراوٹ کیا ہے، امن و امان کی صورتحال کیا ہے، فارن پالیسی کہاں گئی، انھیں بس عمران خان میں دلچسپی ہے۔‘

Leave a Reply

Your email address will not be published.