چند دنگ کر ڈالنے والے حقائق

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار سعید آسی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔آئین کی دفعہ 63۔اے کو لاگو کرنے کا مقصد تو یہی تھا کہ سیاسی وفاداریاں تبدیل کرکے ایک پارٹی سے دوسری پارٹی کی جانب لڑھک جانے کی ’’لوٹاگردی‘‘ کا قلع قمع کیا جائے۔ اس کیلئے پارٹی ہیڈ کو اختیار سونپ دیا گیا

کہ اگر اسکی پارٹی کا کوئی منتخب رکن پارٹی فیصلوں سے انحراف کرکے کسی دوسری پارٹی کے حق میں ووٹ دے تو پارٹی ہیڈ اسے اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کرکے پارٹی کے ساتھ بے وفائی پر اسکی جواب طلبی کریگا اور اسکے جواب سے مطمئن نہ ہونے کی صورت میں اسے منحرف قرار دیکر اسکی اسمبلی یا سینٹ کی رکنیت ختم کرانے کیلئے الیکشن کمیشن سے رجوع کریگا۔ عمران خان صاحب نے اس آئینی شق کو بروئے کار لانے کا اپنے دور حکومت میں سب سے زیادہ تقاضا کیا مگر جب سینٹ کی اسلام آباد والی نشست پر انتخاب کے مرحلہ میں پی ٹی آئی کے ارکان نے خفیہ رائے شماری میں اپنا ووٹ حکومت مخالف امیدوار سید یوسف رضا گیلانی کے حق میں ڈال کر انہیں منتخب کرادیا تو بجائے اسکے کہ عمران خان صاحب اپنی پارٹی کے ان ارکان کو‘ جن کے منحرف ہونے کے ٹھوس شواہد بھی انکے پاس موجود تھے‘ اظہار وجوہ کے نوٹس جاری کرکے انہیں ’’ڈی سیٹ‘‘ کرانے کیلئے الیکشن کمیشن سے رجوع کرتے‘ انہوں نے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے خفیہ رائے شماری والے طریق انتخاب کو شو آف ہینڈز والے طریق انتخاب میں تبدیل کرادیا جو یقینی طور پر آئین کے منافی اقدام تھا کیونکہ آئین کی کسی شق میں کسی آرڈیننس کے ذریعے نہیں بلکہ اسمبلی میں دوتہائی اکثریت کے ساتھ ہی ترمیم منظور کرائی جا سکتی تھی چنانچہ سپریم کورٹ نے اس آرڈیننس کو کالعدم قرار دے دیا۔ اس کیلئے عمران خان صاحب نے آئین کے بجائے دھونس اور کوئی ماورائے آئین جگاڑ لگانے کا راستہ کیوں اختیار کیا؟ اس لئے کہ وہ خود بھی اپنے منحرف ارکان کو ہائوس سے باہر نہیں بھجوانا چاہتے تھے۔

وہ ایسا کرتے تو ہائوس میں عددی اکثریت سے محروم ہو جاتے اور انکے پیچھے پڑی اپوزیشن اسی وقت ان کا دھڑن تختہ کردیتی۔ اب جب تحریک عدم اعتماد میں عمران خان کے پارٹی ارکان کے منحرف ہونے سے یہ تحریک کامیاب ہوتی نظر آئی تو وہ تحریک پر ووٹنگ کی نوبت آنے سے پہلے ہی منحرف ارکان کو ہائوس سے نکلوانے کیلئے سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس لے آئے۔ اور اس مقصد کیلئے الیکشن کمیشن سے رجوع کرنے کے لازمی آئینی تقاضے کو روبہ عمل لانے سے انہوں نے پھر گریز کیا۔ اب وہ ان منحرف ارکان کے ووٹ کے بغیر ہی عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہونے پر حکومت سے باہر نکل گئے ہیں اور خود ہی ہائوس سے بھی باہر نکل آئے ہیں تو اس سے یہی مراد ہے کہ وہ بس اقتدار کی کشتی میں ہی سوار رہنا چاہتے ہیں جبکہ انکی ڈوبتی کشتی میں چھلانگ لگا کر سوار ہوتے چودھری پرویز الٰہی بھی آئین و قانون کے سرکشی والی انکی سوچ کو تھام کر بیٹھ گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے معاملہ میں انہوں نے پنجاب اسمبلی کا جو تماشا لگایا‘ وہ آئین و قانون سے سرکشی پر انکے سزاوار ہونے کا مضبوط کیس ہے جبکہ اب انہوں نے پی ٹی آئی کے منحرف ارکان پنجاب اسمبلی کیخلاف نااہلیت کا ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھجوادیا ہے جو انکے کسی آئینی اور قانونی اختیار کا تقاضا ہی نہیں۔ آئین کی دفعہ 63۔اے کے تحت پی ٹی آئی کے منحرف ارکان کیخلاف الیکشن کمیشن میں ریفرنس بھجوانے کی اتھارٹی صرف اس پارٹی کے سربراہ کی ہے جو پہلے ان ارکان کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کرینگے اور پھر الیکشن کمیشن سے رجوع کرینگے۔ چودھری پرویز الٰہی کو کسی دوسری پارٹی کے ارکان کیخلاف ریفرنس بھجوانے کا اختیار کہاں سے مل گیا۔ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ سیاسی اقدار اور آئین و قانون کی پامالی ہی جمہوریت کا حسن ہے تو آج اقبال کی روح کو بھی سلطانیٔ جمہور کے زمانے کی اپنے شعر کے ذریعے ’’نوید‘‘ سنانے والی خوش گمانی سے باہر نکل آنا چاہیے۔ سلطانیٔ جمہور میں اب ’’جو کہے یار‘ بسم اللہ‘‘ والی سوچ ہی پروان چڑھے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.